غطرسة ترامب
غطرسة ترامب

الخبر:   تصريحات الرئيس الأمريكي ترامب...

0:00 0:00
Speed:
February 16, 2025

غطرسة ترامب

غطرسة ترامب

الخبر:

تصريحات الرئيس الأمريكي ترامب...

التعليق:

إن تصريحات ترامب تكشف عن عقلية لا ترى في الشعوب سوى أرقام عليها أن تضعها على جدول أعماله. لذلك، فهو يتعامل مع معاناة الشعوب المنكوبة كقضية تجارية. وحين يتحدث عن قضية تهجير أهل غزة وشرائها ومنحها وتوزيع أرضها وسكانها، كأنها ملك أجداده، فإن هذا لعمري ينم عن سطحيته في فهم القضية الفلسطينية، وتجاهله لقيمتها الدينية والتاريخية لدى المسلمين.

لقد اعتاد هذا المصارع، منذ ولايته الأولى، أن يخاطب حكام العرب باستخفاف بلغ حد إذلالهم والحط من مكانتهم.

ومع هذه الولاية الجديدة له، بات أقل قدرة على التحكم في اختيار كلماته وحديثه عن فلسطين، حتى رأينا كيف أطلق العنان لأحلامه الهوجاء في سياسته الاستعمارية، التي لم يسلم منها الصديق ولا العدو، حتى وصل به التطاول إلى الإعلان عن الاستيلاء على غزة، أرض المسلمين الخراجية، التي فتحها وحررها أجدادنا العظام.

وإنه لمن المخزي والعار على حكام المسلمين، الذين يهرولون إلى البيت الأبيض للانصياع لمقررات هذا الأهوج، ومع الأسف، كان من أول المنبطحين ملك الأردن، سليل الخيانة والخزي والعار.

إنه لمن المخزي والعار أن ننظر في صفحات التاريخ المجيد، فنرى كيف كانت للمسلمين دولة تحميهم، وكيف كان خليفتها ورئيسها، هارون الرشيد، شامخاً بالعز والكبرياء حين يخاطب ملك الروم، فيقول له: "من هارون خليفة المسلمين إلى نكفور كلب الروم، الجواب ما تراه لا ما تسمعه".

هذا هو الخطاب الذي يجب أن نواجه به هذه الهجمة الشرسة على ممتلكات المسلمين، أما حكام الذل والعار فقد لبسوا ثوب الخيانة، حتى أخرسهم هذا الأخرق، فلم نجد أو نسمع كلاماً يشفي صدورنا ويثلجها لردع هذه العنجهية التي لا تبقي ولا تذر.

فهذا ترامب، بعد كل المجازر التي ارتكبها ربيبه كيان يهود، وما فعلوه بإخواننا المسلمين من قتل وحرق وتهجير، نراه اليوم يرفع سقف مطالبه وسط ظروف إقليمية منبطحة، لأنه يعتقد جازماً بقدرته على التحكم في هذه الأنظمة العميلة، وهو يتحدث بكل صفاقة وبلا خجل من هؤلاء الحكام، عن تمويل جرائمه من دول الخليج (البقرة الحلوب)، ليضعهم في أكبر خيانة مذلة في التاريخ الحديث.

إن موقفنا من أهلنا في غزة هو الذي جعل هذا المجرم يتطاول ويتجرأ على هذه التصريحات الاستعمارية الصريحة، وإن تصاعد سلوك المسلمين المتجاهل للفلسطينيين، وتركهم وحدهم يواجهون مصيرهم المحتوم، هو أحد دواعي هذا الإذلال والاستعلاء، الذي جعل هذا الجَوَّاظ يتطاول على أرض أجدادنا العظام.

لقد لبسنا ثوب الذل بسبب هؤلاء الحكام الخونة، منذ أن سقطت دولتنا وعِزُّنا وكرامتنا، حتى أصبحنا كالغنم القاصية للأسف، هذا هو حالنا اليوم، فهذه غزة الجريحة، منذ السابع من تشرين الأول/أكتوبر 2023، ونحن ننظر إلى شعب مسكين ليس له ما يدافع به عن نفسه سوى إيمانه وعقيدته وعدالة قضيته، ونحن نتفرج عليهم، حتى وصل بنا الحال إلى أن نستجدي قرارات الأمم المجرمة كي تفتح المعابر لإدخال المساعدات لإخواننا الذين خذلناهم!

لذلك، يرى ترامب اليوم أنه ليس هناك عائق أمام جريمته البشعة، متجاهلاً السخط العربي والإسلامي تجاه الحكام، لأننا اكتفينا بالاحتجاجات التي لا طائل من ورائها، سوى أنها تفريغ للطاقات واستنزاف لغضب الشعوب.

إن ما يجهله عراب المال هذا ترامب ومعه ربيبه نتنياهو، هو أن الأرض عند المسلم تعني الشرف، وأن مفهوم الحدود هو قيود وضعتها اتفاقية سايكس بيكو، لا تشكل عائقاً في وجوههم، لأن فلسطين مغروسة في قلوب أطفال المسلمين.

إنه لمن المؤسف أن يتحدث ترامب بنبرة الواثق، وهو يتكلم عن خطة التهجير، فيخاطب حكام العرب بلغة القوة والتعالي، يقول إنهم سيفعلون، ويحاول أن يتحدث عن أموال طائلة يجب أن يدفعها حكام الخليج.

إن أمريكا التي تأسست على فلسفة ليبرالية، وعلى نظرة مادية للعالم والعلاقات، لا تبالي بصرخات الشعوب وهي تموت دفاعاً عن أوطانها.

يتكلم ترامب وكأن الأرض ليست أكثر من رقعة جغرافية يمكن تركها عند الضرورة، حين يصبح الإنسان فاقداً للأمان، هكذا يتعامل مع أهل غزة، ليغريهم بمنازل جديدة، ويحلم هو بمشروع استثماري في غزة. وإن هذا المشروع يكشف عن مدى تجرد هذه الحضارة من جميع القيم، فهو لا يعرف لماذا تموت الشعوب دفاعاً عن الأرض، وعن القيم، وعن الكرامة.

نقول لترامب: إن أرض غزة ليست مجرد رقعة جغرافية يمكن استبدالها، إنما هي تاريخ، وعقيدة، وهوية، لا يتحقق وجود أصحابها إلا بها.

نحن المسلمين لم نكن يوماً ضعفاء، فنحن نمتلك أكبر ثروة في العالم، إلا أن هذه الأنظمة المتسلطة هي علة الشقاء، لأنها رهينة للدول الغربية.

إن واقعنا اليوم مؤلم جداً، خصوصاً ونحن نواجه هجمة شرسة من أعداء الله، الذين تداعوا علينا كما تداعى الأكلة إلى قصعتها، وإن الخلاص من هذا كله إنما هو بالعمل الجاد من أجل إقامة دولتنا التي فيها عزنا وخلاصنا من هذه العذابات، وإن حزب التحرير، الرائد الذي لا يكذب أهله، يدعوكم للعمل معه من أجل إعادة هذا العز، الذي به تصونون كرامتكم، وتحفظون حقوقكم.

أبشروا أيها المسلمون، فإن الأمن والاستخلاف في الأرض حاصل بإذن الله، لمن آمن إيماناً صحيحاً بتحقيق وعد الله بالنصر والتمكين، مهما كانت قوة الأعداء، ﴿إِنْ تَنْصُرُوا اللهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾. فلنحرص على أن يكون لنا هذا الشرف السامي، الذي يعقبه النصر المؤزر بإذن الله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

مؤنس حميد – ولاية العراق

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست