حادثة قتل نائل: هل ستكون القطرة التي أفاضت الكأس؟
حادثة قتل نائل: هل ستكون القطرة التي أفاضت الكأس؟

الخبر:   أعلنت الدّاخلية الفرنسيّة اعتقال 719 شخصا ليلة السّبت، على خلفيّة الأحداث التي تشهدها البلاد منذ خمسة أيّام، عقب مقتل الشّاب نائل المرزوقي برصاص الشّرطة بحسب ما ذكره موقع سكاي نيوز. ...

0:00 0:00
Speed:
July 04, 2023

حادثة قتل نائل: هل ستكون القطرة التي أفاضت الكأس؟

حادثة قتل نائل: هل ستكون القطرة التي أفاضت الكأس؟

الخبر:

أعلنت الدّاخلية الفرنسيّة اعتقال 719 شخصا ليلة السّبت، على خلفيّة الأحداث التي تشهدها البلاد منذ خمسة أيّام، عقب مقتل الشّاب نائل المرزوقي برصاص الشّرطة بحسب ما ذكره موقع سكاي نيوز.

وكشفت الوزارة في وقت سابق أنّه تمّ اعتقال أكثر من 1300 شخص خلال ليلة يوم الجمعة، في محاولة من السّلطات لكبح جماح المظاهرات والاحتجاجات. وشارك المئات في تشييع جثمان نائل في ضاحية نانتير بباريس حيث قتل، بينما حمل مشيّعون نعشه الأبيض من أحد المساجد إلى المقبرة.

وأثارت القضيّة الجدل من جديد بشأن إجراءات إنفاذ القانون في فرنسا، حيث تمّ تسجيل 13 حالة وفاة في عام 2022 بعد رفض الامتثال لأوامر الشّرطة.

التّعليق:

في تقرير لها بعنوان "فرنسا 2022" أكّدت منظّمة العفو الدّوليّة أنّ:

- "التّمييز العنصريّ والدّينيّ استمرّ، مستهدفاً بصورة خاصّة الأفراد المسلمين والجمعيّات المسلمة. واستمرّ الاستخدام المفرط للقوّة من جانب الشّرطة بدون مساءلة. وقيّد القانون المتعلّق بـ"القيم الجمهوريّة" حرّيّة تكوين الجمعيّات أو الانضمام إليها...".

- لم يُحرَز أيّ تقدّم نحو ضمان العدالة والحقيقة والتّعويض عن وفاة المرأة الجزائريّة زينب رضوان التي فارقت الحياة بعد أن أصابتها عبوة غاز مسيل للدّموع في وجهها أطلقتها الشّرطة خلال احتجاج جرى خارج شقّتها، في كانون الأول/ديسمبر 2018. وعلى الرّغم من الأنباء التي نقلتها وسائل الإعلام عام 2021 بأنّ مفتّشيّة الشّرطة الوطنيّة قد أوصت بفرض عقوبة إداريّة على الشّرطيّ الذي أطلق العبوة، إلّا أنّ مدير الشّرطة الوطنيّة رفض تطبيق أيّ عقوبة، وبدا أنّ القضيّة قد جُمّدت عند قاضي التّحقيق.

- مُنع بصورة غير قانونيّة تجمّع للاعبات كرة القدم يُعرَف بـ"Les Hijabeuses" (المحجّبات) من القيام باحتجاج خلال نقاش برلمانيّ حول اقتراح لحظر ارتداء ملابس دينيّة في الرّياضات التّنافسيّة.

- في حزيران/يونيو، أيّد مجلس الدّولة حكماً أصدرته محكمة قضى بحظر ارتداء ملابس السّباحة التي تغطّي كامل الجسد - ما يُسمّى بالبوركيني - في المسابح العامّة في غرينوبل. وخلصت المحكمة إلى أن السماح المقترح في غرينوبل بارتداء البوركيني يمكن أن يقوّض المساواة في المعاملة للمستخدمين الآخرين للخدمات العامة. واستشهدت بقانون صادر عام 2021 حول القيم الجمهوريّة، الذي كان بعض المنتقدين قد خشوا من أن يؤدّي إلى انتهاكات لحقوق الإنسان، وبخاصّة التّمييز ضدّ الأشخاص المسلمين والجمعيّات المسلمة.

تقرير يسقط القناع عن دولة الحرّيّات التي ترفع الشّعارات وتبقيها حبرا على ورق ليظهر سريعا زيف وبطلان قيم العلمانيّة المعادية لحضارة الإسلام التي تعتبرها العدوّ والمارد النّائم الذي يهدّد كيانها ووجودها.

ربّما يكون مقتل نائل الشّرارة التي ستؤدّي إلى انتفاضة ضدّ حكومة ماكرون التي تمادت في ممارساتها العدائيّة العلنيّة ضدّ الإسلام.

فهذا الرّئيس لم يدّخر فرصة لإعلان حربه ضدّ الإسلام الذي اعتبره دينا "يمرّ بأزمة في جميع أنحاء العالم" مصرّحا أنّ على الدّولة الفرنسيّة "مكافحة الانفصاليّة الإسلامويّة".

 في 2 تشرين الأوّل/أكتوبر 2020 - وبعد الهجوم الذي استهدف مقرّ الصّحيفة التي نشرت رسوما مسيئة للرّسول ﷺ - توجّه ماكرون بخطاب حماسيّ تعهّد فيه بمكافحة "التّطرّف الإسلاميّ" والقضاء على "الانعزاليّة" التي تهدّد بخطر تشكيل "مجتمع مضادّ" والدّفاع عن قيم العلمانيّة مهما كان الثّمن وأطلق عبارة "فرنسا تتعرّض للهجوم". داعياً في الوقت عينه إلى "فهم أفضل للإسلام"... كما قامت السّلطات الفرنسيّة بملاحقة أئمة جمعيّات إسلاميّة في البلاد، وأغلقت عددا من المساجد، وهو ما زاد الطّين بلة.

إجراءات تشجّع حدوث ردود فعل عنيفة معادية للمسلمين في فرنسا وتجعلهم عرضة لانتهاكات تنتهي بمزيد من الضّحايا والأبرياء. هي سياسة دولة تنتهجها لتظهر أنّها تريد أن تطهّر علمانيّتها من هذا الدّين الذي اكتسح شريحة كبيرة من المجتمع وبدأ ينتشر فيه انتشار النّار في الهشيم.

ما يميّز أعمال الشّغب هذه عن سابقاتها هو أنّ عددا لا بأس به من مرتكبيها هم فتية صغار جدّا. فمن أصل 875 شخصا أوقفتهم الشّرطة ليل الخميس كان ثلثهم شبابا، وأحيانا فتية صغاراً جدّا. وبحسب ما صرّح به الرّئيس ماكرون ووزير الدّاخليّة جيرالد دارمانان فإنّ "متوسّط العمر هو 17 عاما".

هي إذاً انتفاضة شباب تذكّرنا بما وقع في ثورات الرّبيع العربيّ التي قادها الشّباب. لعلّها تكون شرارة إسقاط النّظام العلمانيّ في دولة الحرّيّات التي يدافع فيها حكّامها عن القيم العلمانيّة بالحرب على الإسلام وأهله باعتباره خطرا يهدّدها. نسأل الله أن يجعل كيد الكفّار في نحرهم وتدميرهم في تدبيرهم ﴿اسْتِكْبَاراً فِي الْأَرْضِ وَمَكْرَ السَّيِّئِ وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَبْدِيلاً وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَحْوِيلاً﴾.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلاميّ المركزيّ لحزب التّحرير

زينة الصّامت

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست