حجاب ينتصر للمعتقلات زوراً وبهتاناً
حجاب ينتصر للمعتقلات زوراً وبهتاناً

أكدت رئاسة الهيئة العليا للمفاوضات المنبثقة عن المعارضة السورية برئاسة رياض حجاب أنها لن تشارك في مفاوضات جنيف، التي من المقرر استئنافها في 25 الشهر الحالي، "ما لم يطلق سراح النساء المعتقلات من سجون النظام السوري، وإرسال المساعدات الإنسانية إلى الأطفال."

0:00 0:00
Speed:
February 17, 2016

حجاب ينتصر للمعتقلات زوراً وبهتاناً

حجاب ينتصر للمعتقلات زوراً وبهتاناً

الخبر:

أكدت رئاسة الهيئة العليا للمفاوضات المنبثقة عن المعارضة السورية برئاسة رياض حجاب أنها لن تشارك في مفاوضات جنيف، التي من المقرر استئنافها في 25 الشهر الحالي، "ما لم يطلق سراح النساء المعتقلات من سجون النظام السوري، وإرسال المساعدات الإنسانية إلى الأطفال."

وأضافت أن الهيئة منذ تأسيسها في 10 كانون الأول/ديسمبر 2015 اتخذت قرارا استراتيجيا بالسير في العملية السياسية وتعزيز الجهود الدولية لتحقيق الانتقال السياسي من خلال المفاوضات التي ترعاها الأمم المتحدة.

التعليق:

على الرغم من اعتراض بعض أعضاء المعارضة على انتقال رياض حجاب إلى صفوفهم وارتفاع أسهمه، وهو الذي قال عنه المعارض فايز ساره العام الماضي إن"حجاب كان ابناً عميقاً للنظام، وبالتالي من الطبيعي ألّا يصبح ابناً عميقاً للثورة" انتُخب حجاب ليترأس الهيئة العليا للمفاوضات بغالبية 24 صوتاً في مقابل ثمانية صوتوا لأحمد الجربا، من أصل 34 هم أعضاء اللجنة التي اختيرت خلال اجتماع الرياض الذي عقد في الثامن من كانون الأول والتاسع منه، وقد خلص المشاركون في هذا الاجتماع إلى وثيقة سياسية ورؤية موحدة لعملية التسوية السياسية في سوريا، كما أبدى المشاركون أيضاً استعدادهم للمشاركة في المحادثات استنادا إلى بيان جنيف واحد كمرجعية للتفاوض مع نظام الأسد.

وفي ظل تعثر هذه المفاوضات والتي لا هدف لها سوى منح الحياة للطاغية بشار وإعطائه وقتاً إضافياً يستطيع من خلاله استكمال مجازره ضد الشعب السوري ليكون ورقة ضغط يستخدمها النظام في أية مفاوضات مقبلة. في ظل ذلك تبدأ التصريحات من مختلف الأطراف لإعطاء حجج واهية عن سبب فشل أمريكا بإيجاد الحل السياسي الذي لطالما طمحت إليه رغم تشكيلها لمعارضة موحدة انبثقت من مؤتمر الرياض، وهذا ما كانت تنتظره وفق تصريحات مبعوثها إلى سوريا دي ميستورا للصحفيين عقب جلسة مشاورات مع رئيس الجمعية العامة للأمم المتحدة مونز لوكوتوفت، بمقرّ المنظمة الدولية بنيويورك إذ قال "من دون معارضة موحدة ومتماسكة سيكون من الصعب عقد اجتماع فعال في جنيف بين المعارضة والحكومة، وهو أمر طالما سبب مشكلة". كما شدد المبعوث الدولي على أهمية إنجاح مؤتمر الرياض لأنه "يجب أن يكون هناك منبر مشترك للمعارضة لأنه سيكون على أطراف المعارضة التعامل، إما مباشرة أو من خلالنا في غرف مختلفة، مع موقف الحكومة الذي هو شديد الثبات والانضباط." وذلك بعد أن كشف دي ميستورا عن أن قائمة المفاوضين باسم النظام جاهزة، قائلاً "نحن لدينا بالفعل قائمة للحكومة السورية (للمشاركة في المفاوضات)، لدينا أسماء 40 شخصاً، ومن المهم الآن أن تكون لدينا قائمة شاملة وواسعة تمثل المعارضة."

فها قد توحدت أطراف النزاع في سوريا وفق تصريحات دي ميستورا، فتشكلت هيئة عليا للمفاوضات برئاسة رياض حجاب وتضم 36 من مختلف الشخصيات السياسية والفصائل المسلحة المعتدلة، يقابلها أربعون شخصية تُمثل النظام في المفاوضات.

فمن المستغرب بعد كل هذه الجهود والعمل الحثيث على إيجاد تشكيلة موحدة لمعارضة الخارج، أن يصدر من رئاسة الهيئة العليا للمفاوضات تأكيد على عدم مشاركتها في مفاوضات جنيف، إلا بعد إطلاق سراح المعتقلات وإرسال المساعدات الإنسانية إلى الأطفال! إلا إذا كانت هذه التأكيدات من ضمن الحجج الواهية والمعهودة من قبل أمريكا وحلفائها التي تُخفي خططاً جديدةً وأساليب أخرى للالتفاف على ثورة الشام وإخضاعها بعد أن كشفت عن أهدافها الإسلامية.

 أين كانت هذه الشروط أيها المفاوضون منذ خمس سنوات؟ فمنذ بدء الثورة في سوريا بدأت معها حملات الاعتقالات العشوائية، فلم تستثن امرأةً أو طفلاً، فجميعهم سيان بتهمة معارضة النظام وإعلان الثورة عليه. ولم تتوان فروع التحقيق التابعة لنظام الطاغية بشار والتي تتوزع بشكل أساسي بين «الأمن السياسي» و«العسكري» و«أمن الدولة» و«المخابرات الجوية» و«المدارس» و«المستشفيات» و«الملاجئ» عن ممارسة وحشيتها بحق النساء، كما مارستها بحق الرجال.

هناك آلاف المعتقلات من النساء، يقبعن، إلى جانب عشرات الآلاف من المعتقلين، في سجون النظام، وتمارس عليهن كل وسائل الضغط والترهيب، التي تبدأ بالضرب المبرح ولا تنتهي بسحب الأظافر والصعق الكهربائي وما يعرف بـ"الكرسي الألماني" أو "الدولاب" و"إطفاء السجائر في الجسم" و"تعليق المعتقل من السقف" و"تهشيم الرأس"، بالإضافة إلى "الاعتداء الجنسي" و"توجيه الشتائم والألفاظ البذيئة" إلى أن تصل في أحيان كثيرة إلى القتل. لكن كيف لجدران السجن أن تسمع صرخاتهن؟ وكيف للأجساد النحيلة التي نهشتها أيدي شبيحة النظام أن تكون فوق قوة هذا السوط الموجه عليهن؟

سنوات تمر وصور المعتقلين الذين لقوا حتفهم تحت التعذيب تتوافد يوماً بعد يوم، وهي ليست بحاجة لإمعان كثير من النظر في الهياكل العظمية وتشويه الأجساد حتى يدرك الناظر وحشية نظام لا يعرف معنى أو لفظاً لكلمة الإنسانية.

هل استفاقت نخوة الرجال في رياض حجاب ورفاقه في هيئتهم العليا قبل أن يضعوا أيديهم بأيدي من توغل في دماء أطفال ونساء سوريا؟! أم أنه استغلال لمعاناة ومأساة معتقلات بكلمات إنسانية يضاف إلى سجل الخنوع والخضوع لقرارات دول كبرى لا تلقي بالاً ولا اهتماماً لاستغاثاتهن ومناجاتهن؟!

إن نساء المسلمين لا يستغثن بأشباه رجالٍ هم دمى عند أعداء الأمة، يُصرحون ويشترطون وكأن القرار بيدهم، لقد انكشفت تمثيلياتكم ومسرحياتكم أمام الرأي العام، الذي أدرك أن لا تفاوض مع المجرمين، وأن الثورة ستستمر، وأن كل من يجلس على طاولة التفاوض هو خائن لكل قطرة دم أُزهقت في سبيل نصرة المسلمين المستضعفين الذين شُردوا وقتلوا فقط لأنهم قالوا سيدنا محمد قائدنا للأبد.

إن أخواتنا المعتقلات وباسمهن نقول: إنهن لسن بحاجة لمن يخرجهن من السجون باتفاقيات ذل وعار تبقي على النظام المجرم، فما ينتظرهن في الخارج ليس بأرحم مما يعانينه، فنظرة المجتمع النفعي لهن وما سيلقينه من تعنيف وازدراء ومعاملة دونية ستقضي على ما بقي لهن من حب للحياة، إنهن بحاجة لنظام يرعى شؤونهن ويعيد لهن كرامتهن وعزتهن، لنظام ينشر العدل مكان الظلم، إنه النظام على أساس الإسلام فهو من عند أرحم الراحمين، فيه يُعزُّ الإسلام وأهله ويُذلُّ الكفر وأهله وينال كل ذي حق حقه.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رنا مصطفى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست