حكام الإمارات يدعمون مقررات مجلس الأمن بخصوص محاصرة الإسلام بالوسائل الإلكترونية الحديثة!
حكام الإمارات يدعمون مقررات مجلس الأمن بخصوص محاصرة الإسلام بالوسائل الإلكترونية الحديثة!

ﺍﻟﺨﺒﺮ:   أشادت معالي نورة بنت محمد الكعبي وزيرة الثقافة والشباب، خلال تمثيلها دولة الإمارات في اجتماعين رفيعي المستوى لمجلس الأمن التابع للأمم المتحدة، ضمن رئاسة جمهورية الهند، بالإنجازات التي حققها النظام متعدد الأطراف. واستعرضت معالي الكعبي خلال الاجتماع المعني بإصلاح العمل متعدد الأطراف سجل الأمم المتحدة الحافل بالإنجازات المهمة، وأكدت على ضرورة المباشرة في عملية إصلاح شاملة لتواكب منظمة الأمم المتحدة ما يشهده العالم من تحديات ناشئة وأزمات...

0:00 0:00
Speed:
December 19, 2022

حكام الإمارات يدعمون مقررات مجلس الأمن بخصوص محاصرة الإسلام بالوسائل الإلكترونية الحديثة!

حكام الإمارات يدعمون مقررات مجلس الأمن

بخصوص محاصرة الإسلام بالوسائل الإلكترونية الحديثة!

ﺍﻟﺨﺒﺮ:

أشادت معالي نورة بنت محمد الكعبي وزيرة الثقافة والشباب، خلال تمثيلها دولة الإمارات في اجتماعين رفيعي المستوى لمجلس الأمن التابع للأمم المتحدة، ضمن رئاسة جمهورية الهند، بالإنجازات التي حققها النظام متعدد الأطراف. واستعرضت معالي الكعبي خلال الاجتماع المعني بإصلاح العمل متعدد الأطراف سجل الأمم المتحدة الحافل بالإنجازات المهمة، وأكدت على ضرورة المباشرة في عملية إصلاح شاملة لتواكب منظمة الأمم المتحدة ما يشهده العالم من تحديات ناشئة وأزمات... وخلال الاجتماع حول مكافحة الإرهاب والذي عقد بتاريخ 15 كانون الأول/ديسمبر، تطرقت معالي الكعبي إلى الإجراءات التي اتخذها مجلس الأمن للتصدي لتهديدات التطرف والإرهاب، مشيرة إلى استمرار التهديد الإرهابي العالمي رغم هذه الجهود. وقالت: لقد قطعنا خطوات كبيرة في مسارنا نحو تعزيز التعاون الدولي وبناء القدرات وتطوير استراتيجيات ووسائل فعالة لمكافحة الإرهاب، وأوضحت أنه "لم يعد مقبولاً أن يكتفي المجلس بالتركيز على بعض الجماعات الإرهابية دون غيرها، خاصة في ظل طبيعة التهديد الإرهابي العابر للحدود". ودعت معاليها مجلس الأمن إلى التركيز على اتساع النطاق الجغرافي للأنشطة الإرهابية، مجددةً التأكيد على دعم إعلان دلهي بشأن مكافحة استخدام التقنيات الجديدة والناشئة لأغراضٍ إرهابية، وطالبت جميع الدول الأعضاء الحاضرة في الاجتماع بمعالجة الأسباب الجذرية للتطرف، ونشر الوعي حول أهمية احترام قيم التسامح. وفي هذا السياق، أوضحت معالي الكعبي نهج دولة الإمارات الذي يقوم على "العمل من خلال منظومة متكاملة لمكافحة التطرف، تشمل رفض كافة محاولات تشويه واستغلال الجماعات الإرهابية للدين الإسلامي، فكان من الضروري أن نعمل على نشر الوعي والتسامح والتعايش والتنوع كونها سمات متأصلة في الثقافة الإسلامية"، وأشارت إلى أنّ "المؤسسات الحكومية وغير الحكومية في دولة الإمارات وبالتعاون مع الشركاء الإقليميين والدوليين أطلقت العديد من المبادرات الهادفة للقضاء على التطرف بشكلٍ مستدام". (وكالة أنباء الامارات - وام 2022/12/16).

ﺍﻟﺘﻌﻠﻴﻖ:

يظهر على مسؤولي دولة الإمارات حرص شديد في إبراز التعاطف مع كافة المجرمين في الأرض. والآن تأتي وزيرة الثقافة نورة الكعبي بتصريحات مشمئزة أطلقتها في نيويورك تؤكد فيها دعمها لإعلان دلهي الصادر يوم 29 تشرين الأول من عام 2022 عن أحد أذرع مجلس الأمن في الأمم المتحدة بخصوص "مكافحة استخدام التكنولوجيات الجديدة والناشئة لأغراض إرهابية". وهكذا تجدد الإمارات وقوفها في صف الدول التي تعتبر أن المسلمين إرهابيون حتى يثبت العكس وأن معتنقيه لا يستحقون أن يعاملوا كرعايا لأي دولة. فعن أي مفهوم حقيقي للتعايش وأي قيم تسامح يتحدث مسؤولو الأمم المتحدة، وهم يجتمعون تحت مظلة دولة الهند، التي تقوم بعملية استئصال ممنهجة للمسلمين؟! فهل يخفى على وزيرة الثقافة ما قامت به الهند تجاه بعض الدعاة كذاكر نايك، من المطالبة برأسه من خلال الإنتربول، وذلك تحت مزاعم غسيل أموال وغيرها من التهم المعلبة والمجهزة لكل من يدعو للإسلام في الهند، سواء دعا للإسلام الفردي الذي لا يسمن ولا يغني من جوع، أو للإسلام السياسي العابر للقارات؟

وهل يخفى على وزيرة الثقافة بأن الإمارات تحاول استغلال أمثال شيخ الأزهر أحمد الطيب ورئيس مجلس الإفتاء الشرعي في الإمارات عبد الله بن بية للقيام بأدوار تكرس مفاهيم العلمانية وفصل الدين عن الحكم والسياسة تحت شعارات فضفاضة مثل التسامح والتعايش بين مكونات مختلفة ومنها الترويج للتطبيع مع كيان يهود الغاصب للأرض المباركة؟ وكذلك محاولة إيجاد تطبيع شعبي على نسق تطبيع الحكام، وذلك بين الشعوب الإسلامية من جهة ويهود من جهة أخرى؟

وهل يستحق إعلان دلهي كل هذا التأييد في حين إنه يحتوي على تناقضات جسيمة في صفحاته الخمس من حيث الإصرار على عدم حصر الإرهاب بمعتنقي دين معين في صفحته الأولى فيما صفحاته الأخرى لا تأتي إلا على وصم جماعات إسلامية بعينها بالإرهاب؟ فهل هذا فعل يؤكد الاهتمام بقيم إنسانية؟!

إن اصطفاف وزيرة الثقافة في الإمارات مع مقررات دلهي الصادرة عن لجنة "مكافحة الإرهاب" في مجلس الأمن والتي تحمل في جنباتها حملة عالمية ضد الإسلام وكذلك اصطفاف الدول جميعها في خندق واحد ضد الإسلام وحملته بمسميات محاربة الإرهاب ليذكرنا ببشرى الرسول ﷺ في الحديث الذي رواه مسلم: «بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيباً وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ غَرِيباً، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ». ففي حين إن كل مسلم غيور على الإسلام يلمس غربة الأفكار والمشاعر والأنظمة التي يدعو إليها الإسلام عن تلك السائدة بالمجتمع، تأتي البشرى لتخفف من المعاناة وتزيل كل ما يثبط الهمم والعزائم إثر تكالب الكفار والمنافقين على الإسلام والمسلمين، ولتشحذ النفس لمعالي الأمور واستسهال الصعاب، ولتذكر بأن من خضعت له نواصي الجبابرة، كفيل بنصر وإعزاز دينه الحق.

قال الله تعالى: ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

نزار جمال

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست