حكام الإمارات يسرفون في ثروات الأمة لعيون أسيادهم الإنجليز
حكام الإمارات يسرفون في ثروات الأمة لعيون أسيادهم الإنجليز

  الخبر: أعلنت أمريكا، يوم الجمعة، عن استثمار الإمارات مبلغ 1.4 تريليون دولار خلال السنوات العشر المقبلة، وذلك بعد لقاء الرئيس الأمريكي دونالد ترامب مع نائب حاكم إمارة أبو ظبي ومستشار الأمن الوطني الإماراتي، الشيخ طحنون بن زايد آل نهيان، في البيت الأبيض. وفي تفاصيل الاستثمارات وتوزيعها، ذكر تقرير نشرته السفارة الأمريكية في الإمارات أن هذا "الإطار الجديد سيزيد بشكل كبير استثمارات دولة الإمارات الحالية في الاقتصاد الأمريكي في مجالات البنية التحتية للذكاء الاصطناعي، وأشباه الموصلات، والطاقة، والتصنيع الأمريكي". (المصدر)

0:00 0:00
Speed:
March 25, 2025

حكام الإمارات يسرفون في ثروات الأمة لعيون أسيادهم الإنجليز

حكام الإمارات يسرفون في ثروات الأمة لعيون أسيادهم الإنجليز

الخبر:

أعلنت أمريكا، يوم الجمعة، عن استثمار الإمارات مبلغ 1.4 تريليون دولار خلال السنوات العشر المقبلة، وذلك بعد لقاء الرئيس الأمريكي دونالد ترامب مع نائب حاكم إمارة أبو ظبي ومستشار الأمن الوطني الإماراتي، الشيخ طحنون بن زايد آل نهيان، في البيت الأبيض. وفي تفاصيل الاستثمارات وتوزيعها، ذكر تقرير نشرته السفارة الأمريكية في الإمارات أن هذا "الإطار الجديد سيزيد بشكل كبير استثمارات دولة الإمارات الحالية في الاقتصاد الأمريكي في مجالات البنية التحتية للذكاء الاصطناعي، وأشباه الموصلات، والطاقة، والتصنيع الأمريكي". (المصدر)

التعليق:

دول الخليج عموماً، ودولة الإمارات خصوصاً، ليست أكثر من محطات وقود للإنجليز، كما قال أحد أعضاء البرلمان البريطاني. وهذا الواقع يجعل الإنجليز يستخدمون هذه الكانتونات بهذه الصفة لا أكثر. فمن أراد أن يعرف ما وراء هذه الاستثمارات الإماراتية في أمريكا، فعليه البحث عما تريد بريطانيا تحقيقه من هذه الصفقة. ولا يجوز أن يخطر ببال أي متابع أن للإمارات والرويبضات الذين يحكمونها أي مصلحة شخصية أو وطنية في أي عمل يقومون به، سواء على المستوى الإقليمي أو الدولي. فالإمارات ليست أكثر من قاعدة بريطانية استعمارية في البلاد الإسلامية، تنطلق منها أم الخبائث بريطانيا، لتعيث فيها فساداً، ولتواجه التغول الأمريكي وتنافسها في الموقف الدولي وعلى النفوذ ونهب ثروات الشعوب وقهرهم. هذا هو المفهوم السياسي الذي يجب أن ننطلق منه لتحليل وفهم ما وراء هذا الاستثمار في أبغض الدول على بريطانيا من عبيدها في الإمارات.

منذ تقسيم العالم إلى نصفين بين الاتحاد السوفيتي وأمريكا في العام 1964، والذي تم بين خروتشوف وكيندي، سعت أمريكا إلى سلب ما بين أيدي بريطانيا من مناطق نفوذ واستعمار، وخصوصاً في البلاد الإسلامية، بحكم أنها الأكثر ثراءً وغنىً وحساسية سياسية ومبدئية. وقد نجحت أمريكا في تحقيق ذلك إلى حد بعيد، فأصبحت بريطانيا دولة من الصف الثاني في العالم بعد أن كانت الإمبراطورية التي لا تغيب عنها الشمس. ومع ذلك، لم تستسلم أمام الكاوبوي الأمريكي، على الرغم من ضعفها وعلمها بهذا الضعف الذي لا يمكّنها من مواجهة أمريكا في حلبات الصراع الدولية وجهاً لوجه. لذلك تبنت سياسة المشي في ظل المارد الأمريكي ووضع العصي في دواليب مركبته كلما سنحت لها الفرصة لذلك. ومثال على ذلك تدخل الإمارات في الصراع الدائر في السودان بقيادة عميلي أمريكا، البرهان وحميدتي، ودعمها لحميدتي ليكون لها موطئ قدم في السودان وبين أطراف الصراع، حتى تتمكن من التأثير على مجريات الأمور، ولا أقل من الإفساد على أمريكا خططها. وهذا المثال ينطبق على سعي الإمارات لإيجاد مكان لها في سوريا بحجة الاستثمار، وكذلك تدخلها في اليمن للحفاظ على أكبر قدر ممكن مما تبقى للنفوذ الإنجليزي فيها بعد الإطاحة بعميل بريطانيا المخضرم، علي عبد الله صالح.

لقد وصلت أحلام بريطانيا، التي لم تقبل الاستسلام أمام التغول الأمريكي، إلى أن تقوم بالعمل نفسه في أمريكا ودولة يهود. فهي تظن أنه من خلال استثمارات عميلتها في بطن عدوتها، أنها تستطيع أن تطعن أمريكا في مقتل في الوقت المناسب. ولكن أمريكا تدرك هذه الحقيقة، ويعتقد رجل الأعمال الرئيس الأمريكي ترامب أنه قادر على احتواء هذه الألاعيب والسيطرة عليها والاستفادة الآنية من هذه الاستثمارات، وهو لا يرى أن الإنجليز قادرون على طعنه في البطن إن أرادوا، خصوصاً وأنهم تحت المراقبة الحثيثة وتحت السيطرة، كما يعتقد. ويبقى السؤال: هل تستطيع بريطانيا الغدر بأمريكا أم لا؟ وهل حقاً ستظل بريطانيا تحت سيطرة أمريكا، فتستفيد أمريكا من هذه الاستثمارات دون تعرضها لأي أعراض جانبية؟ يبقى هذا السؤال خاضعاً ليقظة كل ثعلب منهما على الآخر. ولكن لا يبدو أن بريطانيا ستكون قادرة على الغدر، ولكن يظل "شرف" المحاولة هو المتبقي عندها، خصوصاً أنها لم تنفق سنتاً واحداً من خزينتها، وهي تقاتل لآخر عميل عندها، دون أن تصيبها شظايا أي انفجارات ممكنة الحدوث.

إن استثمارات الإمارات في دولة يهود وتطبيعها معها وتهويدها من خلال تبنيها للخطة الإبراهيمية ودعمها ليهود ضد أهل فلسطين، ليس إلا لإيجاد موطئ قدم لسيدتها بريطانيا في أكثر الملفات سخونة في العالم، فيما يعرف بقضية الشرق الأوسط، وخصوصاً بعد أن ضعف نفوذها في كيان يهود أو كاد ينتهي بعد مقتل رابين على أيدي المتطرفين اليهود من الموالين لأمريكا ومقرهم نيويورك، في أعقاب إبرام رابين وبيرس اتفاقية أوسلو بعيداً عن أنظار أمريكا، وبهندسة وترتيب بريطاني مع رئيس حزب العمل اليهودي بيرس وعميل الإنجليز ياسر عرفات. فسبب قيام الإمارات بكل هذه الموبقات والأعمال القذرة مع وفي كيان يهود ليس إلا محاولة لإعادة نفوذ الإنجليز في دولة يهود أو على الأقل لوضع العصي في دواليب أمريكا ومشاريعها في المنطقة.

إن الصراع بين قوى الكفر في العالم، وخصوصاً بين أعضاء المعسكر الغربي، لن ينتهي إلا بأن يقضي ويجهز أحدها على الباقين. هذه هي العقلية الغربية الرأسمالية الاستعمارية، التي لا تقبل التعاون والتقاسم والتفاهم. فرغيف الخبز لا يأكله إلا من يقتل جميع الحضور. هذا هو المبدأ الرأسمالي الذي ظهر بكل وضوح في شخصية رجل الأعمال الرئيس الأمريكي، قرصان البيت الأبيض. ولكن ما يعلق في النفس هو أن تصبح خير أمة أخرجت للناس وثروتها وقوداً لهذا الصراع القذر. ولكن أيضاً ما يهوّن على النفس هو أن هذه الحقائق والألاعيب وأدواتها قد تكشفت للأمة، فأصبحت تعرف الأمة عدوها وما حجم غدره وقدرته، فتعد العدة لذلك لتحرير نفسها منه. وهو بلا شك حاصل قريباً بإذن الله، من خلال وعي الأمة على البديل الحضاري المتمثل بالإسلام ممثلاً بدولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة القائمة قريباً بإذن الله، بقوة سواعد الأمة وأبنائها المخلصين العاملين لإقامتها. والتي ندعو الله في هذه الأيام المباركات أن يفتح على قلوب أهل القوة والمنعة في البلاد الإسلامية لنصرة الإسلام وإقامة دولته ومبايعة خليفة للمسلمين... اللهم آمين.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

بلال المهاجر – ولاية باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست