حكام المسلمين  عاجزون عن مجرد إدانة وحشية نظام ميانمار (مترجم)
حكام المسلمين  عاجزون عن مجرد إدانة وحشية نظام ميانمار (مترجم)

الخبر: منعت السلطات البنغالية يوم الجمعة 18 تشرين الثاني/نوفمبر 2016 لاجئي الروهينجا، والذين كانوا محشورين في سبعة زوارق خشبية، منعتهم من الوصول إلى جانب نهر ناف البنغالي الذي يفصل الحدود الجنوبية الشرقية في بنغلاديش عن غرب ميانمار. كما قال نافيور رحمن يوم السبت. وقال أيضاً "وكان من بينهم 61 امرأة و36 طفلا. وقد منعناهم من دخول مياهنا الإقليمية"، مضيفا أن كلهم كانوا من رعايا ميانمار، الفارّين من تصاعد الاشتباكات العنيفة في إقليم راخين المجاور في ميانمار.

0:00 0:00
Speed:
November 26, 2016

حكام المسلمين عاجزون عن مجرد إدانة وحشية نظام ميانمار (مترجم)

حكام المسلمين

عاجزون عن مجرد إدانة وحشية نظام ميانمار

(مترجم)

الخبر:

منعت السلطات البنغالية يوم الجمعة 18 تشرين الثاني/نوفمبر 2016 لاجئي الروهينجا، والذين كانوا محشورين في سبعة زوارق خشبية، منعتهم من الوصول إلى جانب نهر ناف البنغالي الذي يفصل الحدود الجنوبية الشرقية في بنغلاديش عن غرب ميانمار. كما قال نافيور رحمن يوم السبت. وقال أيضاً "وكان من بينهم 61 امرأة و36 طفلا. وقد منعناهم من دخول مياهنا الإقليمية"، مضيفا أن كلهم كانوا من رعايا ميانمار، الفارّين من تصاعد الاشتباكات العنيفة في إقليم راخين المجاور في ميانمار. وقد تعرض راخين الذي يعيش فيه عدد كبير من المسلمين الروهينجا لحصار عسكري منذ اندلاع هجوم مزعوم على حرس الحدود في البلاد يوم 9 تشرين الأول/أكتوبر وأسفر عن مقتل تسعة من ضباط الشرطة. واتهمت الحكومة الروهينجا بالوقوف وراء هذا الهجوم. ومنذ ذلك الحين، عززت بنغلاديش بشكل كبير التدابير الأمنية على قطعة أرض على طول الحدود مع ميانمار ونشرت المئات من القوات للقيام بدوريات في المنطقة في محاولة لإبعاد موجات محتملة من اللاجئين الروهينجا المسلمين، الذين يفرون من العنف والاضطهاد المتكرر في وطنهم. المصدر: برس تي في)

التعليق:

قبل بضعة أشهر جرفت مياه فيضان فيلا هنديا بريا بعيدًا إلى أن وصل بنغلاديش وعلق في مناطق تضررت من الفيضانات في منطقة نائية من البلاد. وتلقى هذا الحادث أعلى مستوى من التغطية الإعلامية في بنغلاديش وكانت الحكومة البنغالية سريعة في تشكيل فريق إنقاذ يضم خبراء بعد انتشار الأنباء، وقد بذلت جهودا كبيرة لإنقاذ حياة هذا الوحش العاجز! وبالطبع فإن الإجراءات التي اتخذها نظام بنغلاديش الحالي جديرة بالثناء وليس هناك شيء خطأ في ذلك. ولكن، تثور أسئلة عندما تقوم السلطة ذاتها ووسائل الإعلام بغض الطرف والسكوت أمام الصرخات اليائسة للمئات والآلاف من المسلمين الروهينجا المضطهدين بما في ذلك الرجال والنساء والأطفال، الذين توسلوا لها كي توفر المأوى لهم هربا من التعذيب الوحشي من قبل نظام ميانمار. هل حياة حيوان بري مقدسة أكثر عند نظام بنغلاديش من حياة آلاف المسلمين؟!!

في "قمة الأمم المتحدة حول اللاجئين والمهاجرين" الذي عقد في أيلول/سبتمبر الماضي، تعهدت الشيخة حسينة، رئيسة وزراء بنغلاديش بضمان حقوق اللاجئين والمهاجرين، وقالت: "إن حقوق اللاجئين والمهاجرين مضمونة في جميع الحالات، بغض النظر عن حالتهم...". وقالت أيضا: "تتطلع بنغلاديش للعمل مع ميانمار لإيجاد حل دائم بشأن مسألة اللاجئين..." ونود أن نسأل الشيخة حسينة، ما هي الخطوات التي اتخذتها حتى الآن عندما تم قتل هؤلاء المسلمين الضعفاء من قبل جيش ميانمار باستخدام طائرات هليكوبتر؟ ماذا فعلت عندما تم حرق قرى الروهينجا بهجمات الحرق المتعمدة التي لا ترحم، وعندما تعرضت نساء الروهينجا المسلمات للاغتصاب بوحشية تحت تهديد السلاح؟ ما هي الحلول التي اقترحها نظامها عندما جاء هؤلاء المسلمين اليائسين يطرقون بابها متسولين للحصول على مأوى وعلى أمل الحصول على أقل قدر من الإنسانية؟ لا، لم يقم نظام حسينة عديم الرحمة بفعل أي شيء إلا دفعهم إلى أرض الكابوس، وتركهم لمصيرهم وزيادة حراس دورية الحدود لوقف تدفقهم. هل هذا هو ضمانها "لحقوق اللاجئين" الذين يطرقون بابها؟ ناهيك عن  عدم اتخاذ أية خطوات عملية لمساعدة أو إنقاذ أولئك المسلمين اليائسين، إن نظام حسينة حقير لم ينطق حتى بأية إدانة لفظية ضد القتل بدم بارد والتعذيب الوحشي الذي يقوم به جيش ميانمار.

في حزيران/يونيو 2012، بعد أشهر قليلة من حملة القمع العنيفة ضد المسلمين الروهينجا من قبل المجلس العسكري البوذي، قالت الشيخة حسينة في مقابلة مع قناة الجزيرة، "إن الروهينجا الفارين من العنف في ميانمار ليسوا مشكلتنا...". ومن الواضح أن الاضطهاد الوحشي المستمر ضد مسلمي الروهينجا ليس على الإطلاق مشكلة أي من حكام العالم الإسلامي بما في ذلك حسينة، لأنهم فشلوا في إدراك أن الأمة الإسلامية كالجسد الواحد. وبالنسبة لحسينة، فإن حياة ودم حيوان بري هي أقدس عندها من حياة عشرات الآلاف من المسلمين الروهينجا لأنها لم تتأمل أبداً الحديث المشهور لرسول الله rبشأن دم المؤمن وممتلكاته الذي رواه عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما أنه قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ r يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ، وَيَقُولُ: «مَا أَطْيَبَكِ وَأَطْيَبَ رِيحَكِ، مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ حُرْمَةً مِنْكِ، مَالِهِ، وَدَمِهِ، وَأَنْ نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْرًا».

يشهد التاريخ أنه لمدة أكثر من ألف سنة، كان دم وحياة وممتلكات الأمة الإسلامية محمية فقط من قبل دولة عظيمة واحدة ألا وهي دولة الخلافة، وعلى عكس حكام المسلمين غير المبالين اليوم، كان الخلفاء هم الحماة الحقيقيين لهذه الأمة النبيلة، يقاتل من ورائهم ويتقى بهم. وبالتالي، لا تحتاج هذه الأمة النبيلة إلى هؤلاء الحكام العاجزين مثل الشيخة حسينة والسيسي وأردوغان والملك سلمان أو رحيل/ نواز الذين فشلوا في نطق الإدانة اللفظية ضد فظاعة النظام البورمي. بل إن هذه الأمة تنتظر بفارغ الصبر خليفة عظيماً مثل صلاح الدين الأيوبي، والسلطان محمود، والمعتصم بالله، الذي سوف يكسر يد نظام ميانمار وينقذ إخواننا وأخواتنا المسلمين الروهينجا الأحبة من فظاعة النظام البوذي المجرم.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فهميدة بنت ودود

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست