حكام المسلمين الفاسدون يخدمون الكفار المستعمرين!
حكام المسلمين الفاسدون يخدمون الكفار المستعمرين!

الخبر: "في 15 أيلول/سبتمبر 2020، عُقد برئاسة أمين مجلس الأمن في الاتحاد الروسي ن.ب. باتروشيف، الاجتماع الخامس عشر لأمناء مجالس الأمن للدول الأعضاء في منظمة شنغهاي للتعاون عبر الفيديو. ممثلو الهند، وكازاخستان، والصين، وقرغيزستان، وباكستان، وطاجيكستان، وأوزبيكستان، والأمانة العامة واللجنة التنفيذية لمنظمة شنغهاي للتعاون الإقليمي شاركت في العمل.

0:00 0:00
Speed:
September 25, 2020

حكام المسلمين الفاسدون يخدمون الكفار المستعمرين!

حكام المسلمين الفاسدون يخدمون الكفار المستعمرين!
(مترجم)

الخبر:


"في 15 أيلول/سبتمبر 2020، عُقد برئاسة أمين مجلس الأمن في الاتحاد الروسي ن.ب. باتروشيف، الاجتماع الخامس عشر لأمناء مجالس الأمن للدول الأعضاء في منظمة شنغهاي للتعاون عبر الفيديو.


ممثلو الهند، وكازاخستان، والصين، وقرغيزستان، وباكستان، وطاجيكستان، وأوزبيكستان، والأمانة العامة واللجنة التنفيذية لمنظمة شنغهاي للتعاون الإقليمي شاركت في العمل.


وتبادل المشاركون بطريقة بناءة وجهات النظر حول الأنشطة العملية المشتركة التي تهدف إلى مواجهة التحديات والتهديدات الأمنية في منطقة منظمة شنغهاي للتعاون.


وتم التأكيد بشكل خاص على أن تركيز الاهتمام الوثيق يظل هو مهام مكافحة الإرهاب والانفصالية والتطرف والاتجار غير المشروع بالمخدرات والأسلحة والجريمة المنظمة عبر الحدود والجرائم التي تستخدم تكنولوجيا المعلومات والاتصالات الحديثة والهجرة غير الشرعية.

وأكد جميع المتحدثين على أهمية تطبيع الوضع العسكري السياسي في أفغانستان"، هذا ما صرّحت به أمانة منظمة شنغهاي للتعاون على صفحتها على شبكة الإنترنت يوم 16 أيلول/سبتمبر.

التعليق:


إنّ المهمة الرئيسية لحكام المسلمين اليوم هي خدمة وحماية مصالح الكفار المستعمرين. والدليل على ذلك هو كل أنواع التحالفات والمعاهدات التي اخترعها المستعمرون من أجل الحفاظ على تأثيرهم على بلادنا. وقد تشكلت منظمة شنغهاي للتعاون في عام 2001 على أساس "خمسة شنغهاي" (الصين وروسيا وكازاخستان وطاجيكستان وقرغيزستان)، وكانت ولا تزال أداة لروسيا للحفاظ على نفوذها في آسيا الوسطى.


على الرغم من أن منظمة شنغهاي للتعاون لا توصف بأنها كتلة عسكرية مثل الناتو، فإن المهام الرئيسية لهذه المنظمة هي تعزيز الاستقرار والأمن، ومكافحة الإرهاب، والانفصالية، والتطرف، وكانت إحدى أولى الوثائق التي اعتمدتها هي "اتفاقية شنغهاي لمكافحة الإرهاب والانفصال والتطرف".


اسمحوا لي أن أعرض بعض الاقتباسات من هذه الاتفاقية:


- الإدراك بأن الإرهاب والانفصالية والتطرف تشكل تهديدا للسلم والأمن الدوليين، وتنمية العلاقات الودية بين الدول، فضلا عن الحفاظ على حقوق الإنسان والحريات الأساسية.


- الاعتراف بأن هذه الظواهر تهدد بشكل خطير السلامة الإقليمية وأمن الجانبين (لهذه الاتفاقية)، وكذلك استقرارهم السياسي والاقتصادي والاجتماعي.


- الاقتناع الأكيد بأن الإرهاب والانفصال والتطرف، على النحو المحدد في هذه الاتفاقية، بغض النظر عن دوافعه، لا يمكن تبرئته تحت أي ظرف من الظروف، وأن المسؤولين عن مثل هذه الأعمال يجب أن يحاسبوا على الامتثال للقانون.


لذلك، وبحجة مكافحة هذه التهديدات، تستخدم روسيا منظمة شنغهاي للتعاون كأداة للحفاظ على نفوذها في المنطقة. من ناحية أخرى، ترى روسيا، بصفتها الوريث للممتلكات السابقة للاتحاد السوفيتي، تهديداً للاستقرار الاقتصادي والسياسي والاجتماعي والإقليمي لآسيا الوسطى، أولاً وقبل كل شيء، من الغرب، وخاصة من الولايات المتحدة، والتي تسعى لتأسيس نفوذها على أنقاض الاتحاد السوفيتي.


من ناحية أخرى، ترى روسيا تهديداً أساسه شعوب هذه البلاد المسلمون، الذين لديهم ماض ثقافي وروحي وسياسي عظيم، ويسعون للعودة إلى أصول دينهم. وهذا يعني القضاء التام على النفوذ الروسي في هذه المناطق، حيث يحرم الإسلام على المسلمين المشاركة في حكم الكفر، ويطلب منهم أن يمتثلوا في الحياة بالشريعة الإسلامية أي بأوامر الله ونواهيه فقط.


منحت روسيا الاستقلال الزائف لمناطق آسيا الوسطى ونصبت عليها عملاءها الدّمى، الذين يخدمونها بحجة محاربة الإرهاب والتطرف والانفصالية من خلال اضطهاد المسلمين الذين يسعون إلى ممارسة دينهم في المجالات الأخلاقية والاجتماعية والاقتصادية. وكذلك اضطهدوا بوحشية المسلمين الذين يعملون لاستئناف الحياة الإسلامية.


على المسلمين المخدوعين بهؤلاء الأئمة الجبناء الفاسدين الذين يصرون على الخضوع لهؤلاء الحكام، أن يدركوا أن هؤلاء الطغاة ليسوا أولياء أمورنا. وشرعا يعتبر الحاكم هو الذي يبايع الناس على أن يحكم بالقرآن والسنة، ويبايعه الناس على الطاعة ما دام يحكم بالقرآن والسنة.. وهي في جوهرها اتفاقية ثنائية بين الحاكم والمجتمع.


لم يُقسم أحد من حكام المسلمين اليوم للمسلمين على أنه سيحكم بالقرآن والسنة، بل على العكس من ذلك، فهم يحكمون بالطاغوت ويطيعون أسيادهم المستعمرين. وهؤلاء لا يمكن أن يكونوا حكامنا بأي شكل من الأشكال.


ولا يبقى لدينا إلا أن نعمل لاستئناف الحياة الإسلامية وفق منهاج النبوة، وإسقاط أنظمة الطغاة، والقضاء على أي نفوذ للكفار المستعمرين في بلادنا، ومبايعة الحاكم الذي سيقسم على الحكم بالقرآن والسنة، ونحن بدورنا نبايعه على الولاء والطاعة، ما دام يتبع أوامر الله تعالى ولا ينتهك حدوده. وفقنا الله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
إلدر خمزين
عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست