حكام المسلمين طبّعوا مع يهود ولم يطبّعوا مع أهل فلسطين
حكام المسلمين طبّعوا مع يهود ولم يطبّعوا مع أهل فلسطين

الخبر: أكّد العاهل المغربي الملك محمد السّادس، الأربعاء، أنّ بلاده تضع دائما القضيّة الفلسطينيّة في مرتبة قضيّة الصّحراء المغربية، وقال "عمل المغرب من أجل ترسيخ مغربيّة الصّحراء لن يكون أبدا، لا اليوم ولا في المستقبل، على حساب نضال الشّعب الفلسطينيّ، من أجل نيل حقوقه المشروعة"، مشيراً إلى أنّه "سيواصل انخراطه البناء من أجل إقرار سلام عادل ودائم بمنطقة الشّرق الأوسط".

0:00 0:00
Speed:
December 25, 2020

حكام المسلمين طبّعوا مع يهود ولم يطبّعوا مع أهل فلسطين

حكام المسلمين طبّعوا مع يهود ولم يطبّعوا مع أهل فلسطين


الخبر:


أكّد العاهل المغربي الملك محمد السّادس، الأربعاء، أنّ بلاده تضع دائما القضيّة الفلسطينيّة في مرتبة قضيّة الصّحراء المغربية، وقال "عمل المغرب من أجل ترسيخ مغربيّة الصّحراء لن يكون أبدا، لا اليوم ولا في المستقبل، على حساب نضال الشّعب الفلسطينيّ، من أجل نيل حقوقه المشروعة"، مشيراً إلى أنّه "سيواصل انخراطه البناء من أجل إقرار سلام عادل ودائم بمنطقة الشّرق الأوسط". وأكّد المغرب، الأربعاء، أنّ علاقاته مع (إسرائيل) قديمة ولن يبدأها من الصّفر وإنّما يجددها ويضفي عليها طابع الاستمراريّة. وقال وزير الخارجيّة المغربيّ ناصر بوريطة، في تصريحات لموقع "أكسيوس" الأمريكي، "المغرب يريد أن يكون جسراً بين اليهود والمسلمين في المنطقة، ويتطلع إلى أن يساعد ذلك على دفع عمليّة السّلام الفلسطينيّة (الإسرائيليّة)". (العين الاخباريّة)

التّعليق:


مباشرة بعد تطبيع الدّول الخليجيّة والمغرب والسّودان مع دولة يهود، بدأنا نشهد تدفقا لليهود إلى عواصم هذه الدّول، حتّى من دون تأشيرة دخول، إلى درجة فتح حائط "مبكى" ليهود على قمّة سماء دبي، وفي المقابل بدأنا نرى بعض الشّخصيات الخليجية، المنبتّة عن أهلهم، تستثمر وتزوّر الأرض المباركة فلسطين تحت حراب يهود، في مشهد يعكس حميميّة ودفء العلاقات بين كيان يهود وهذه الكيانات القائمة في البلاد الإسلامية، ما يؤكّد على يهوديّة هؤلاء الحكّام أو موالاتهم التّامة ليهود، ويؤكّد على كذبهم ونفاقهم تجاه الأرض المباركة فلسطين وتفانيهم في تمليكها ليهود.


منذ قيام دولة يهود في عام 1948 وبدء تدفق اللاجئين الفلسطينيين إلى البلدان المحيطة بها، وخصوصا دول الطّوق، الأردن ولبنان ومصر، منذ ذلك الحين وأهل فلسطين من اللاجئين يذوقون الأمرّين في تعامل تلك الأنظمة العنصريّ معهم، فلم يتعاملوا معهم كأهل أو حتّى ملهوفين، بل كانوا وما زالوا يتعاملون معهم كغرباء غير مرحّب فيهم أبدا، ويحرمونهم من أدنى حقوقهم الإنسانيّة، إضافة إلى عدم احترام حقوقهم الأخويّة على إخوتهم وجيرانهم، بل تمّ الزجّ بهم في مخيمات، فلا ترعاهم هي، بل ترعى بعضا من شؤونهم منظّمة الأمم المتّحدة التي أوجدت دولة يهود على أرضهم، أمّا الدّول الخليجيّة، فإنّها إضافة إلى أنّها لم تقبل أيّ لاجئ فيها، فإنّها كانت وما زالت تطلب التّأشيرات من كلّ فلسطينيّ يريد العمل أو الزّيارة، وهي تأشيرات مشروطة بحسن السّير والسّلوك، وأهمّها عدم انخراط المتقدّم للتأشيرة بأيّ عمل معاد لدولة يهود، تماما كما يفعل نظام الأردن الذي لا يسمح مجرد الدّخول أو المرور لأيّ فلسطينيّ من أراضيه، إن كان متوجّها إلى أي بلد، حتّى لو كان ذاهبا لأداء الحجّ أو العمرة، إن كان من النّاشطين في أيّ نشاط ضدّ دولة يهود أو حامل دعوة نشيطاً. ومثل النّظام الأردنيّ نظام تركيا أردوغان، حيث ينزل المحتل اليهوديّ مطارات تركيا من دون تأشيرة، ويذهب ويتجوّل ويستثمر ويعمل، وكأنّه ابن البلد، في حين لا يستطيع الفلسطينيّ التّوجّه إلى تركيّا، حتّى للعلاج إلا بتقديم رزمة من الأوراق للقنصليّة التّركيّة في دولة يهود يلتمس تأشيرة علاج أو زيارة، ودفع رسوم ماليّة تصل إلى 200 دولار للزّيارة الواحدة، أمّا المغرب، فإنّ مجرّد زيارة أهل فلسطين لها حلم، لا يتحقق على أرض الواقع، فمن يريد من أهل فلسطين زيارة المغرب فإنّ عليه تقديم الأسباب التي يريد من أجلها الزيارة، وهي أسباب تعجيزيّة، يقدّمها للقنصليّة المغربيّة في الأردن، وينتظر مدة غير محدودة للرّد عليه بالإيجاب أو السلب.


إنّ اللغة "العقلانيّة" التي يحاول حكّام العرب التّحلي بها، تفضحها أفعالهم الدّنيئة مع بيت المقدس وأكنافه ومع أهلها، فهم منافقون من ذوي الوجهين، وكلامهم "العقلانيّ" صحيح فقط في حقّ دولة يهود وفي التّعامل معها، بينما هو كذب ودجل في حقّ الأرض المباركة وأهلها، وهم يستخدمون هذه اللّغة لتبرير خياناتهم للأرض المقدّسة وتطبيعهم مع المغضوب عليهم من الله، ومحاولة استغباء أو استحمار شعوبهم الإسلاميّة التي تتوق لليوم الذي تقاتل فيه يهود وتقتلهم. وقد بات واضحا في الآونة الأخيرة تضييق دولة يهود وهذه الأنظمة ومعهم سلطة عباس، على أهل فلسطين، في معيشتهم وتنقلهم، في حلهم وترحالهم، حتى يقبلوا بأيّ حلّ لقضيتهم، حتّى لو كانت بإقامة دولة على أقلّ من 20 في المئة من أرضهم، كما نصّت عليه اتفاقيّة أوسلو الخيانيّة، في رسالة واضحة أنّهم جميعا يريدون فناء هذا الشّعب أو تطفيشه من بلاده حتى تخلو الأرض المباركة ليهود، ولكن كفر هذه الأنظمة وهؤلاء الحكّام بالله القاهر الجبّار هو الذي جعلهم يركنون إلى الشّيطان وجنده، وما هي إلّا لحظة كلمح البصر لا تتعدى أمر الله بين الكاف والنّون، حتّى تنهض الأمّة من كبوتها، فتطيح بعروش هؤلاء المنافقين، وتدوس عليهم، وتقيم الخلافة على منهاج النّبوّة، فتجيّش الجيوش وتقتل يهود وتحرر فلسطين من دنس يهود. عن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «تَقْتَتِلُونَ أَنْتُمْ وَيَهُودُ حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي تَعَالَ فَاقْتُلْهُ» رواه مسلم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلاميّ المركزي لحزب التحرير
بلال المهاجر – باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست