حكام مصر يرهنون مقدراتها للغرب ووكلائه ولا نجاة لها إلا بالخلافة على منهاج النبوة
حكام مصر يرهنون مقدراتها للغرب ووكلائه ولا نجاة لها إلا بالخلافة على منهاج النبوة

الخبر: ذكرت شبكة سكاي نيوز عربية الاثنين 2016/12/5م على موقعها، أن وزير الخارجية المصري سامح شكري ناقش مع مديرة صندوق النقد الدولي كريستين لاغارد الاتفاق الموقع بين الحكومة المصرية وصندوق النقد الدولي مؤخراً حيث استعرض شكري التطورات الاقتصادية والاجتماعية الجارية في مصر وبرنامج الإصلاح الاقتصادي القائم، وأكد على التزام الحكومة المصرية بتنفيذ كافة عناصر برنامج الإصلاح ومواجهة التحديات المرتبطة به، وأشار شكري إلى أن القرارات التي اتخذتها الحكومة المصرية في هذا الإطار هي قرارات طال انتظارها لمدة عقود طويلة، وأن اتخاذها في التوقيت الحالي يؤكد التزام الجانب المصري بتنفيذ إصلاحات هيكلية في الاقتصاد لتمكين المجتمع من الخروج من الأوضاع الاقتصادية الصعبة الحالية، من ناحيتها أعربت لاغارد عن سعادتها البالغة في قدرة مصر على المضي في برنامج الإصلاح بتلك الخطوات الجادة مشيرة إلى أن نجاح مصر في إتمام عملية الإصلاح المخطط لها سيعد نجاحا ليس فقط لمصر ولكن أيضا لصندوق النقد وقدرته على دعم الدول المختلفة.

0:00 0:00
Speed:
December 11, 2016

حكام مصر يرهنون مقدراتها للغرب ووكلائه ولا نجاة لها إلا بالخلافة على منهاج النبوة

حكام مصر يرهنون مقدراتها للغرب ووكلائه

ولا نجاة لها إلا بالخلافة على منهاج النبوة

الخبر:

ذكرت شبكة سكاي نيوز عربية الاثنين 2016/12/5م على موقعها، أن وزير الخارجية المصري سامح شكري ناقش مع مديرة صندوق النقد الدولي كريستين لاغارد الاتفاق الموقع بين الحكومة المصرية وصندوق النقد الدولي مؤخراً حيث استعرض شكري التطورات الاقتصادية والاجتماعية الجارية في مصر وبرنامج الإصلاح الاقتصادي القائم، وأكد على التزام الحكومة المصرية بتنفيذ كافة عناصر برنامج الإصلاح ومواجهة التحديات المرتبطة به، وأشار شكري إلى أن القرارات التي اتخذتها الحكومة المصرية في هذا الإطار هي قرارات طال انتظارها لمدة عقود طويلة، وأن اتخاذها في التوقيت الحالي يؤكد التزام الجانب المصري بتنفيذ إصلاحات هيكلية في الاقتصاد لتمكين المجتمع من الخروج من الأوضاع الاقتصادية الصعبة الحالية، من ناحيتها أعربت لاغارد عن سعادتها البالغة في قدرة مصر على المضي في برنامج الإصلاح بتلك الخطوات الجادة مشيرة إلى أن نجاح مصر في إتمام عملية الإصلاح المخطط لها سيعد نجاحا ليس فقط لمصر ولكن أيضا لصندوق النقد وقدرته على دعم الدول المختلفة.

التعليق:

أزمات الكنانة العاصفة تصنعها حزمة القوانين التي تلبي رغبات السادة في صندوق النقد الدولي وهو ما جسده رضا لاغارد عن الخطوات التي يخطوها النظام المصري الذي لا يعبأ بما يعانيه الملايين من أهل الكنانة الذين توقفت حياتهم في طوابير الخبز والبنزين والسلع التموينية والتواجد في وسائل المواصلات، في مظهر يعكس رغبة النظام في عدم الانتفاع من الطاقة البشرية الهائلة لأهل مصر وسعيه لإهدارها وتفريغها فيما لا يعود عليهم بأي نفع بل يزيد معاناتهم وأزماتهم وأعباءهم.

حزمة التوصيات والقرارات التي شملت تعويم الجنيه وضريبة القيمة المضافة ورفع الدعم عن الوقود والمحروقات والكهرباء، ورفع الرسوم الجمركية والاتجاه إلى ترشيد الإنفاق العام، كل هذه التوصيات وما ينتج عنها من قرارات يتحملها ويدفع تكاليفها وأعباءها أهل مصر الفقراء فيزداد الذين لن ينالوا شيئا من القرض المنشود بل هم مطالبون بتسديد فاتورته وفوائده وما سبقه من قروض من قوتهم وقوت أولادهم.

يا أهل الكنانة! إن حكامكم يدركون يقينا أن هذه القرارات والتوصيات ستكون وبالا عليكم ولن تجني مصر منها إلا الويلات وأن مصر لا تحتاج إلى هذا القرض أصلا ولكنهم يدركون أيضا أن قرارات الصندوق الدولي هي قرارات واجبة التنفيذ ولا يجوز لهم التلكؤ في تنفيذها ولو على جثثكم ولو سحقوكم بالمجنزرات! فهم لا يعبئون بكم ولا بما سيحل بكم وبمصر جراء قراراتهم وخضوعهم لشروط وإملاءات الدول المانحة والتي سيمتد وبالها إلى أبنائكم وأحفادكم طالما بقي هذا النظام يحكم ويتحكم في الكنانة وثرواتها ومقدراتها ويمنعكم أنتم من استغلالها ويمكّن الغرب منها ويعطيه كل الحق في استغلال ما يستطيع من موارد بلادكم ويرعى مصالحه فيها.

يا أهل الكنانة! إنكم لا تحتاجون لهذا القرض ولا لما يترتب عليه من قرارات وتوصيات فبلادكم فيها من الموارد ليس ما يكفيها فقط ولا ما يغنيها ولكن ما يجعلها دولة عظمى ويمكنها من قيادة العالم؛ فهي غنية بالثروات والخيرات الظاهرة والدفينة، فمن الغاز والنفط إلى الذهب وغيره من المعادن إلى المسطحات المائية الواسعة وما تجره من خيرات ونهر النيل وما يهيئه من مساحات زراعية واسعة، ناهيك عن الطاقة البشرية الهائلة والقادرة على النهوض بمصر والأمة إذا أُفسح لها المجال وهيئت لها الأجواء، فواقع الأزمة التي تمر بها الكنانة ليس في ندرة الموارد ولا في الحاجة لإنتاجها وإنما في النظرة إليها وكيفية إدارتها وكيفية استغلالها، وما تحتاجه مصر فعلا هو نظام قادر على إدارة ثرواتها ومواردها بشكل صحيح يضمن انتفاع أهل الكنانة بها ويضمن رعايتهم رعاية صحيحة بما ينتج عنها ويضمن أيضا عدالة من يقومون على تطبيق هذا النظام، وهذا لا يوجد إلا في الإسلام وعقيدته ونظامه، الخلافة على منهاج النبوة، فهي وحدها القادرة على علاج مشكلات الكنانة والنهوض بها وبالأمة، ولا يحمل التصور الكامل لها والمشروع القادر على تطبيقها في الأمة الآن بجاهزية كاملة إلا حزب التحرير، فكونوا معه واحملوا ما يدعوكم إليه فهو منكم رائد لا يكذب أهله يحمل همكم ويتألم لألمكم ويؤرقه مصابكم ومصاب الأمة بغياب الخلافة التي ترعاها، فاحتضنوه وانصروا دعوته فبها تنعتق رقابكم من ربقة الغرب وتبعيته وتعيدون ما نهب من خيراتكم وثرواتكم وتحسنون التصرف فيها وتورثونها لأبنائكم وأحفادكم، لا تلك القروض والديون التي يكبلكم بها حكامكم لتبقى رقابكم مرهونة لعدوكم، فاخلعوهم عنكم وأقيموها فيكم خلافة على منهاج النبوة تعيد عزكم الذي ترجون.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست