حكام رويبضات قست قلوبهم ينصرون الحجر ويخذلون البشر!!
حكام رويبضات قست قلوبهم ينصرون الحجر ويخذلون البشر!!

وافق ممثلو حوالي 40 دولة على خطط إنشاء صندوق تبلغ قيمته 100 مليون دولار لحماية التراث الثقافي العالمي وترميم المواقع التراثية والأثرية التي يهددها التطرف والحروب، كما التزم المشاركون بإنشاء "شبكة دولية من الملاذات الآمنة".

0:00 0:00
Speed:
December 08, 2016

حكام رويبضات قست قلوبهم ينصرون الحجر ويخذلون البشر!!

 حكام رويبضات قست قلوبهم ينصرون الحجر ويخذلون البشر!!

الخبر:

وافق ممثلو حوالي 40 دولة على خطط إنشاء صندوق تبلغ قيمته 100 مليون دولار لحماية التراث الثقافي العالمي وترميم المواقع التراثية والأثرية التي يهددها التطرف والحروب، كما التزم المشاركون بإنشاء "شبكة دولية من الملاذات الآمنة". جاء ذلك خلال مؤتمر عقد في مدينة أبو ظبي نظّم تحت رعاية اليونسكو بالتعاون بين دولتي الإمارات وفرنسا وبحضور الرئيس الفرنسي فرانسوا أولاند. (المصدر: بي بي سي العربية)

التعليق:

لقد تعلم المسلمون من السياسة الغربية أن الغرب المستعمر الكافر لا يتحرك ولا يرعى أعمالا إلا لتحقيق أطماعه الاستعمارية. لذا فإن مؤتمرا كهذا في بلاد المسلمين تعقده منظمة اليونيسكو، الحاقدة على الإسلام، وبرعاية فرنسا، بتاريخها الاستعماري الدموي المعروف، وحضور رئيسها المجرم أولاند، هذا المؤتمر لا يمكن تصنيفه إلا ضمن سلسلة المخططات والسياسات التآمرية التي تنتهجها دول الغرب ضد الإسلام وثقافة المسلمين وعقيدتهم، لجعل الإسلام دينا كبقية الديانات الأخرى وليس دين الله الحقّ وما دونه باطل. تلك السياسات التي تفرض على المسلمين ثقافة الانفتاح على الديانات والثقافات الأخرى باسم التسامح والحرية، وتزرع فيهم الاعتزاز بالحضارات السابقة من فرعونية وبابلية وآشورية وغيرها بدلا من الاعتزاز بحضارة الإسلام وحدها، وتجعل من عقيدة الغرب الرأسمالية، عقيدة فصل الدين عن الحياة، هي الأساس المشترك بين الثقافات، وتنعت كل من يأبى ذلك ويرفض ما عدا الإسلام من ثقافات بـ (التطرف والإرهاب).

ولعل ما يشير إلى هذا الهدف الاستعماري الخبيث لهذا المؤتمر ما ذكره رئيس مجلس إدارة هيئة أبو ظبي للسياحة والثقافة في المؤتمر من أن التراث "يشكّل بكل ما يتسم به من تنوّع، مصدراً من مصادر الثروة المشتركة، ويشجع على الحوار، وهو وسيلة لبناء علاقات وثيقة، وتحقيق التسامح والحريّة"، وما صرحت به مديرة اليونسكو إيرينا بوكوفا من أن المؤتمر "يهدف إلى تشكيل تحالف واسع يمكنه الجمع بين الأمور الأمنية والإنسانية والثقافية بمشاركة هذا العدد الكبير من الدول والمنظمات". هذا ناهيك عن هدف هذا المؤتمر المستتر خلف ستار زائف اسمه الحفاظ على الآثار من توسيع وتمويل الأعمال التجسسية للمستعمر التي اشتهر بها عبر التاريخ من خلال إدخال جواسيسه في البلاد الإسلامية بحجة البحث والتنقيب عن الآثار وحمايتها.

ومنذ تدمير طالبان للتماثيل البوذية في أفغانستان وبخاصة تمثالا باميان عام 2001، وما تلاه من ضجة إعلامية واحتجاجات دولية، تم تضخيم أهمية الآثار والمواقع الأثرية وأصبحت حماية الآثار والتماثيل تثار على أنها تدخل ضمن حفظ التراث الإنساني، الذي "لا يمكن فصله عن حماية الروح الانسانية" وهي "أمر مستعجل لا يستطيع الانتظار"، وذلك كما صرحت به مديرة اليونسكو إيرينا بوكوفا في مؤتمر أبو ظبي، والتي وصفت أيضا التدمير المتعمد للمواقع التراثية والاثرية بأنه "جريمة حرب".

فيا لمكر هؤلاء الكفار وعجب أكبر مكر حكام المسلمين الرويبضات الذين قست قلوبهم وفقدوا انتماءهم لأمتهم! أيتباكون على الحجارة والتماثيل في أفغانستان وسوريا واليمن، ويتعاهدون مع الكفار على حمايتها من (الإرهاب) بملايين الدولارات، بينما ترهب طائراتهم الآلاف من البشر في تلك البلاد وتدمر مدنا بأكملها على رؤوس المسلمين.!.

أليست فرنسا التي تدعي حرصها على حماية الثقافة والتراث في مالي هي التي قامت خلال تدخلها العسكري الغاشم في مالي بدعم مادي من الإمارات بقصف المساجد التاريخية على رؤوس المصلين في تمبكتو، أحد منارات نشر الإسلام والثقافة الإسلامية عبر الصحراء إلى وسط وغرب أفريقيا، بدعوى تحصن مسلحين بها؟! أليست طائرات الإمارات هي التي تقوم بقصف المسلمين وتدمير المستشفيات والمدارس في اليمن؟! ألا يتم تدمير قرى بأكملها في سوريا ويباد أهلها بطائرات التحالف التي تشارك فيه فرنسا والإمارات وأمام مرأى ومسمع هذه الدول المجتمعة في أبو ظبي الحريصة على حماية بقايا تماثيل بوذا في أفغانستان؟!

والنبي صلى الله عليه وسلم يقول وهو يطوف بالكعبة: «مَا أَطْيَبَكِ وَأَطْيَبَ رِيحَكِ، مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ حُرْمَةً مِنْكِ، مَالِهِ، وَدَمِهِ، وَأَنْ نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْرًا» (رواه ابن ماجه) فما بال هؤلاء القوم ينصرون التماثيل ولا يقيمون وزنا لقتل المسلمين.!

ولو كان من اجتمع في أبو ظبي من المسلمين حريصين حقا على التراث والثقافة والآثار التاريخية لرأيناهم من باب أولى ينصرون الأقصى مما يحدث له من تخريب وتدنيس وحرق على يد يهود الأنجاس أمام مرأى فرنسا ومنظمة اليونسكو حامية التراث كما تزعم، ولكن أنّى لهم ذلك فهم ليسوا سوى أدوات بل خدّام للغرب الكافر وحماة لمصالحه الاستعمارية.

إن السبيل لعزة المسلمين وخلاصهم من شر الاستعمار وجشع الرأسمالية وفسادها هو في نبذ الحكام المرتمين في أحضان أعدائهم، المتخاذلين عن نصرة إخوانهم، والعمل على نصرة دعوة الحق لإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة التي ستحمي المسلمين وحضارتهم وتحمي البشرية جمعاء.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فاطمة بنت محمد

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست