سپریم کورٹ کا فیصلہ اسلام اور سرمایہ داری کے درمیان تہذیبوں کا تصادم ظاہر کرتا ہے۔
(مترجم)
خبر:
کینیا کی سپریم کورٹ نے پیر کے روز مسلمان والدین کے ہاں زنا سے پیدا ہونے والے بچوں کو اپنے والد کی جائیداد سے وراثت میں حصہ لینے کا حق دیا ہے، جو کینیا میں اسلامی قانون احوال شخصیہ کی تشریح میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ سپریم کورٹ کے ججوں نے اسلامی قانون احوال شخصیہ کے نفاذ اور آئینی تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ عدالت نے آرٹیکل 24 (4) کا حوالہ دیا جو احوال شخصیہ کے قوانین، جیسے کہ اسلامی شریعت کے تحت بعض حقوق پر پابندی کی اجازت دیتا ہے، لیکن اس نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پابندیاں معقول، جائز اور واضح طور پر متعین ہونی چاہئیں۔
تبصرہ:
سپریم کورٹ کا فیصلہ کینیا اور پوری دنیا میں مسلمانوں کے درمیان تہذیبوں کے تصادم اور شناخت کے بحران کی حقیقت کو مجسم کرتا ہے۔ مسلمان آج مغربی لبرل سیکولر نظام اور اسلام کے درمیان دوراہے پر کھڑے ہیں۔ نیز یہ فیصلہ واضح طور پر ملکیت کی آزادی اور ذاتی آزادی کی بنیادی اقدار کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو انسان، زندگی اور کائنات کے رب سے بھی بالاتر ہیں! اس کا ترجمہ یہ ہے کہ زنا اور فسق سے پیدا ہونے والے بچے قانونی طور پر پابند رشتے ہیں، جو معاشرے میں برائی کو فروغ دیتے ہیں۔
لبرل معاشرے میں معاشرے کی سلامتی کو ترجیح نہیں دی جاتی، بلکہ افراد کی خواہشات اور چاہتوں کو غالب اور مطلق سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیتا ہے جس میں اخلاقی اقدار کی کمی ہوتی ہے اور جو نیکی پر برائی کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ زنا کو انعام دیتا ہے اور شادی کو ایک مقدس ادارے کے طور پر کمزور کرتا ہے۔ برائی پر مبنی معاشرہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں برا ہے۔ سرمایہ داری میں ریاست کی بنیادی ذمہ داری رعایا کی فلاح و بہبود کا خیال رکھنا نہیں ہے، بلکہ نام نہاد آزادیوں کی حفاظت کرنا ہے، جس سے معاشرتی تعلقات میں مزید برائی پیدا ہوتی ہے، بشمول زنا سے پیدا ہونے والے بچے بھی۔
اسلام میں زنا سے پیدا ہونے والے بچوں کو نسب اور وراثت کے حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے، یہ ان کے لیے کوئی سزا نہیں ہے، بلکہ انہیں برائیوں سے روکنے کے لیے ہے، اور اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ نسب اور وراثت کے حقوق کے تحفظ کے لیے شادی ہی واحد قانونی رشتہ ہے۔ کینیا کی سپریم کورٹ کا فیصلہ، جو زنا کے بچوں کو مسلمانوں کی جائیداد میں وراثت کی اجازت دیتا ہے، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مغربی لبرل سیکولر فکر کس حد تک بنیادی اسلامی اقدار اور قوانین سے متصادم ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان یہ سمجھ لیں کہ اس مسئلے میں امت کا موقف ایک سیاسی فکری جدوجہد کا موقف ہے۔ اور امت مسلمہ کا فرض ہے کہ وہ سیاسی اور فکری کام کو اسلام کو زندہ کرنے اور سیکولر فکر کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے وقف کر دے جو برائی کو فروغ دیتا ہے اور اسے انعام دیتا ہے۔ اور امت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ سیکولر ماحول کبھی بھی اسلام اور عدل کے فروغ کے لیے سازگار نہیں ہوگا۔ یہ خاص مسئلہ اور عمومی طور پر بہت سے دوسرے مسائل امت کو بتاتے ہیں کہ اسلام کی واحد ذمہ داری خلافت کے قیام کے لیے کام کرنا ہے جو شریعت کا نفاذ کرے گی، حق کو بلند کرے گی اور عدل قائم کرے گی۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے
علی عمر البيتي
حزب التحریر کینیا کے میڈیا آفس کے رکن