هكذا تحبط المؤامرات يا وزير الخارجية
هكذا تحبط المؤامرات يا وزير الخارجية

الخبر:   تحت عنوان: "تشاووش أوغلو: أحبطنا مكيدة إقامة دولة لـ"ي ب ك" الإرهابي" نشر موقع وكالة الأناضول يوم الجمعة 2019/11/01 الخبر التالي: (أعلن وزير الخارجية التركي مولود تشاووش أوغلو، أن تركيا أحبطت "مكيدة كبيرة"، تتمثل بوجود أطراف في مقدمتها فرنسا و(إسرائيل)، تريد إقامة دولة لـ"ي ب ك/ بي كا كا" شمالي سوريا. جاء ذلك في فعالية بجامعة البحر المتوسط، بولاية أنطاليا (جنوب)، الجمعة أشار خلالها أن بعض الدول "أقامت الدنيا ولم تقعدها" بعد إطلاق تركيا عملية "نبع السلام" شمالي سوريا. ...

0:00 0:00
Speed:
November 02, 2019

هكذا تحبط المؤامرات يا وزير الخارجية

هكذا تحبط المؤامرات يا وزير الخارجية

الخبر:

تحت عنوان: "تشاووش أوغلو: أحبطنا مكيدة إقامة دولة لـ"ي ب ك" الإرهابي" نشر موقع وكالة الأناضول يوم الجمعة 2019/11/01 الخبر التالي:

(أعلن وزير الخارجية التركي مولود تشاووش أوغلو، أن تركيا أحبطت "مكيدة كبيرة"، تتمثل بوجود أطراف في مقدمتها فرنسا و(إسرائيل)، تريد إقامة دولة لـ"ي ب ك/ بي كا كا" شمالي سوريا.

جاء ذلك في فعالية بجامعة البحر المتوسط، بولاية أنطاليا (جنوب)، الجمعة أشار خلالها أن بعض الدول "أقامت الدنيا ولم تقعدها" بعد إطلاق تركيا عملية "نبع السلام" شمالي سوريا.

ولفت إلى أن "ألمانيا الصديقة لتركيا، كانت إلى جانب فرنسا مع الدول التي شاركت بذلك في الأمم المتحدة والاتحاد الأوروبي".

وأضاف: "كافحنا 'ي ب ك' في منطقة عفرين أيضاً، وشرحنا ذلك للمجتمع الدولي، وبعثنا رسائل لمجلس الأمن، وفي هذه العملية قمنا بـ10 أضعاف ذلك، فلماذا قامت الدنيا ولم تقعد؟ رغم أن في المنطقتين يوجد 'ي ب ك/ بي كا كا'؟، لأنهم كانوا يريدون إقامة دولة إرهابية هنا".

وأردف: "لقد أحبطنا مكيدة كبيرة، كانوا يريدون إقامة دولة لـ'ي ب ك/ بي كا كا' هنا (شمالي سوريا)، وعلى رأسهم فرنسا و(إسرائيل)، وأتحدث بكل صراحة، وحتى اليوم لم تخرج أي منها وتقول؛ 'لا، لم يكن لنا هكذا مساع'".

وأكد تشاووش أوغلو أن جوهر التفاهم التركي الروسي بخصوص شرق الفرات، يتمثل بإخراج إرهابيي "ي ب ك/ بي كا كا"، من المنطقة الممتدة من نهر الفرات إلى الحدود العراقية على عمق 30 كلم، بما فيه مدينة القامشلي التي تُستثنى فقط من إجراء الدوريات المشتركة، التي انطلقت.

ولفت إلى أن تركيا والولايات المتحدة أرادوا منذ زمن إخراج الإرهابيين من منبج.

وأردف: "الروس موجودون هناك بعد انسحاب الولايات المتحدة، وسيتم إخراج إرهابيي 'ي ب ك/ بي كا كا' من مدينتي تل رفعت ومنبج السوريتين، وحققنا عبر الاتفاقيْن مع واشنطن وموسكو ما كنا نريده وبأقل الخسائر، ولو لم نطلق عملية 'نبع السلام' لما تحققت هذه الأمور".

وفي وقت سابق الجمعة، أعلنت وزراة الدفاع التركية إجراء أول دورية عسكرية تركية - روسية شرق منطقة عملية "نبع السلام"، عبر 8 مدرعات وطائرة بدون طيار.

وفي 9 تشرين الأول/أكتوبر الماضي، أطلق الجيش التركي بمشاركة الجيش الوطني السوري، عملية "نبع السلام" في منطقة شرق نهر الفرات، لتطهيرها من إرهابيي "ي ب ك/ بي كا كا" و"داعش"، وإنشاء منطقة آمنة لعودة اللاجئين السوريين إلى بلدهم.

وفي 17 من الشهر نفسه، علق الجيش التركي العملية بعد توصل أنقرة وواشنطن إلى اتفاق يقضي بانسحاب الإرهابيين من المنطقة، وأعقبه باتفاق مع روسيا في سوتشي 22 من الشهر ذاته.)

التعليق:

يقول الوزير أوغلو بفخر إن عملية نبع السلام قد أحبطت مؤامرة كانت تدبرها دول أوروبا مع كيان يهود... وأنا أقول لك أيها الوزير:

إن عمليتكم هذه قد كانت لها نتائج أكبر بكثير من تلك التي ذكرتها وتتباهى بتحقيقها... نتائج كارثية على المسلمين عامة وعلى أهلنا في سوريا خاصة:

1-  ففي هذه العملية كما سابقاتها من العمليات التي قدتم فيها الثوار لمقاتلة بعضهم بعضا فأرقتم دماء مسلمين زكية حرمها الله تعالى، دماء السكان الأبرياء ودماء الثوار عربا وكردا، ودماء جنودكم في حين حفظتم دماء جيش النظام وداعميه.

2-  خذلتم أهلنا في سوريا الذين كانوا يريدون من جيشكم الإجهاز على النظام المجرم الذي سامهم سوء العذاب بدل استغلال الثوار في عملياتكم المشبوهة التي أمدت النظام بأسباب الحياة في كل عملية قمتم بها بداية من درع الفرات مرورا بغصن الزيتون وانتهاء بنبع السلام... فمع كل عملية ساهمتم في توسيع المساحة التي يسيطر عليها النظام وقلصتم مساحة الأراضي المحررة من براثنه، وثبتم الطاغية على عرشه بعد أن كان قاب قوسين أو أدنى من السقوط والاندثار.

3-  أرأيتم أيها الوزير نتائج الوطنية المنحطة والقومية المنتنة؟! إنها هي من جعلتكم تدخلون سوريا ليس لمساعدة إخوانكم في الدين بل للحفاظ على حدود أقامها الاستعمار وسماها حدودا وطنية بتّم تحمونها ويهون عليكم قتل إخوانكم في العقيدة للمحافظة عليها.

4-  ولو أنكم دخلتم سوريا دفاعا عن إخوانكم المظلومين كما تدعون لأجهزتم على النظام المجرم الذي استباح دماء وحرمات إخوانكم بدل التدخل للحفاظ على حدودكم والحيلولة دون إقامة دويلة تجاوركم تستشعرون منها الخطر على وحدة بلادكم.

5-  إن اجتثاث دولة يهود من جذورها هو النصر المبين وليس إحباط مؤامراتها وحلفائها الأوروبيين التي لن تنفك عن حياكتها ما دامت على قيد الحياة... كيف لا والغرب ما غرسها في قلب العالم الإسلامي إلا لحياكة المؤامرات والحيلولة دون نهضة المسلمين وتوجههم نحو قضيتهم الكبرى... قضية إعادة حكم الله إلى الأرض بإقامة دولته التي توحد بلاد المسلمين وتجمعهم جميعا أمة واحدة تحت راية واحدة وحاكم واحد هو خليفة المسلمين الذي يقاتل من ورائه ويتقى به... حينها وفقط حينها يمكنك التباهي بإحباط مؤامرات الكفار ورد كيدهم إلى نحورهم.

6-  أما وأنتم تتحالفون مع جبهة من الكفار لإحباط مؤامرات جبهة أخرى فإنما هي التبعية والمذلة وخدمة مخططات أعداء الأمة، فأي مؤامرة أكبر من إبقاء المسلمين متفرقين تحت رايات عمية يقاتل بعضهم بعضا على حدود مصطنعة وأنظمة لا علاقة لها بديننا ولا بالنظام الذي ارتضاه لنا رب العالمين!

اللهم إنك أنت القائل: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُم﴾.

اللهم إنك تعلم أننا في حزب التحرير لا هم لنا سوى نصرة دينك وتحكيم شرعك فأعنا اللهم على إقامة الدولة التي تطبق الإسلام وتحمله رسالة هدى ونور للعالمين. اللهم آمين

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسماء الجعبة

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست