هكذا يريدون أرض الشام مقيدة تابعة للغرب ورأسماليته
هكذا يريدون أرض الشام مقيدة تابعة للغرب ورأسماليته

الخبر:   نقلا عن موقع عربي سبوتنك نيوز - صرح نائب وزير الخارجية الروسي سيرغي ريابكوف، الاثنين 29 شباط/فبراير 2016م، أن روسيا ترى إمكانية اتفاق المشاركين في المحادثات السورية على إنشاء جمهورية فيدرالية، في حال رضيت جميع الأطراف السورية بهذا النموذج،

0:00 0:00
Speed:
March 05, 2016

هكذا يريدون أرض الشام مقيدة تابعة للغرب ورأسماليته

هكذا يريدون أرض الشام مقيدة تابعة للغرب ورأسماليته

الخبر:

نقلا عن موقع عربي سبوتنك نيوز - صرح نائب وزير الخارجية الروسي سيرغي ريابكوف، الاثنين 29 شباط/فبراير 2016م، أن روسيا ترى إمكانية اتفاق المشاركين في المحادثات السورية على إنشاء جمهورية فيدرالية، في حال رضيت جميع الأطراف السورية بهذا النموذج، وقال ريابكوف خلال مؤتمر صحفي عقد في وكالة "روسيا سيغودنيا": "لا أستطيع تقييم فرص إقامة دولة فيدرالية في سوريا، لأن عملية تحديد معالم سوريا المستقبلية لم تبدأ بعد، وأضاف في حال أدت المحادثات والمشاورات ومناقشة مستقبل سوريا، التي نأمل أن يستأنفها السيد دي ميستورا في القريب العاجل، وإن رأى المشاركون أن هذا النموذج هو الأنسب بالنسبة لهم للحفاظ على سوريا دولة موحدة وعلمانية ومستقلة وذات سيادة، فمن سيتمكن من معارضة ذلك؟ وفي حال اعتماد نموذج آخر فلن تكون تلك قضيتنا، شرط ألا يكون مفروضا من على بعد آلاف الكيلومترات من سوريا، وفي حال التوصل إليه عن طريق المحادثات.

التعليق:

نعم هكذا يريدون الشام بعد سنوات القهر والتجويع والتشريد وهتك الأعراض والقتل بكل وبأبشع أنواع الأسلحة يريدونها كما هي علمانية ولكن بعميل جديد، وكأن دماءكم بلا ثمن يا أهل الشام، لكم الله أيها المستضعفون المقهورون أمام تكالب كل قوى الكفر عليكم لوأد ثورتكم التي خرجت لله من يومها الأول فأقضت مضاجعهم وأطارت النوم من عيونهم وأفشلت كل مخططاتهم ومؤامراتهم وحساباتهم.

يا أهل الشام، إن ثورتكم تميزت عن غيرها من الثورات بوعيها وثباتها وعظم مطلبها فهي ثورة الأمة التي تنادي بعودة الخلافة على منهاج النبوة تحرر الشام والأمة كلها بعمومها، والغرب يدرك أن نجاح ثورتكم لا يعني انعتاق الشام فقط من تبعيته، وإنما يعني انعتاق الأمة كلها من تبعيته، بل وأكثر من ذلك فسيفقد الغرب كل مستعمراته ونفوذه ولن يبقى آمناً داخل حدوده إلا بدفع الجزية لدولة الخلافة القادمة بإذن الله، نعم هذا ما يدركه الغرب ويعلم أنه مطلبكم وغايتكم ولهذا أطلق يد عملائه وكلابه جميعا عليكم حتى لا تقوم لثورتكم قائمة واستعمل في سبيل ذلك كل الوسائل والأساليب، إلا أن كل محاولاته باءت بالفشل وتكسرت كل مؤامراته على أعتاب ثورتكم المأمورة، وقد رأينا جميعا ذهاب البعض لهاثا نحو موسكو وتركيا وجنيف والرياض وغيرها ثم رأينا هذه الهدنة التي تمخضت عنها تلك المؤامرات، في محاولة لتثبيت أركان نظام الأسد المنهار، ولكن خاب فألهم؛ ففي الشام رجال باعوا أنفسهم لله رخيصة وارتضوا ما عنده عوضا عن الدنيا وما فيها وصدق رسول الله فيهم حين قال «إذا فسد أهل الشام فلا خير فيكم»، فلله دركم يا أهل الشام ما أعظمكم وأكرمكم عند الله ورسوله، ويا طوبي لكم فملائكة الله باسطة أجنحتها على أرضكم.

يا أهل الشام، هذا ما ينطق به ساسة الغرب وقادته قد بدت البغضاء من أفواههم وما تخفي صدورهم أكبر، غايتهم الكبرى ردكم عن دينكم وعن مطلبكم وإجباركم على السير وفق مخططاتهم والانقياد لمن لف لفيفهم وتعلق بحبالهم من قادة الفصائل، ألا فلتعلموا أن هؤلاء الذين تجمعوا ملبين نداء أمريكا ومتعلقين بحبائلها ومن قبلوا المال السياسي من الحكام العملاء، قد باعوا دماء شهداء الشام بلا ثمن، وما كان مثلهم لينصر ثورة الشام التي قامت لله، والتي أبت إلا أن تكون لهم ولأمثالهم كاشفة فاضحة حتى يتحول الناس إلى فسطاطين اثنين فسطاط إيمان لا نفاق فيه وفسطاط كفر ونفاق لا إيمان فيه، وإننا نبشركم ببشرى رسول الله r والتي نسأل الله أن تتحقق فيكم وبكم، «يَوْمَ الْمَلْحَمَةِ الْكُبْرَى فُسْطَاطُ الْمُسْلِمِينَ بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا الْغُوطَةُ، فِيهَا مَدِينَةٌ يُقَالُ لَهَا دِمَشْقُ، خَيْرُ مَنَازِلِ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ».

ألا فلتعلموا يا أهل الشام أن النظام في أضعف حالاته الآن، وما لجأ سادته في أمريكا ومن دار في فلكها إلى الهدنة إلا لإطالة عمر النظام الساقط وكسب مزيد من الوقت حتى تجد ما تستطيع به وأد ثورتكم التي حيرت الغرب كله وأظهرت فشل وعجز ساسته، فاعتصموا بحبل الله وألقوا حبائل أمريكا في وجهها وليكن أمركم واحداً يجمعكم ويجمع شملكم، ولتكونوا جميعا على قلب رجل واحد في وجه من حاربكم وحارب دينكم، ولتكن ثوابتكم التي أعلنتموها نبراسا لكم، وبينكم إخوانكم شباب حزب التحرير ما خذلوكم وما خانوا ما سال من دماء طاهرة على أرض الشام، فكونوا معهم ولهم أنصارا وعونا لتقام بكم على أرض الشام الخلافة على منهاج النبوة تقتص لتلك الدماء والأعراض وتعيد ما سلب ونهب من ثروات وتعيد العزة للشام والأمة كلها معكم.

أما أنتم يا قادة الفصائل، فهذه أمريكا التي تعلقتم بحبالها تقتلكم ولا تلقي لكم بالا، وحسبكم ما فعلته بزهران علوش وغيره ممن ارتضوا السير في ركابها، فاعتبروا يا أولي الأبصار قبل أن يدرككم الموت فتحاسبوا أمام الله على خيانتكم للأمة وتواطؤكم مع عدوها أو تقام الخلافة فتحاسبكم على جرمكم في حق الأمة، ألا فلترجعوا إلى الله تائبين آيبين فالله يقبل توبة العبد ما لم يغرغر، ولا تنفصلوا عن جسد أمتكم فتلفظكم كما لفظت غيركم، والله غالب على أمره ولكن أكثر الناس لا يعلمون، احذروا أن تتمايز الصفوف فتكونوا في فسطاط أهل النار من الخونة والعملاء، ولتكونوا رجالا للأمة ناصرين لها على عدوها فذلك والله خير الدنيا والآخرة.

وإننا ندعوكم وقد رأيتم كما رأينا ما سال من دماء طاهرة لغاية عظيمة هي تحكيم الإسلام من خلال الخلافة على منهاج النبوة أن تتوحد صفوفكم على مشروع الأمة ودستورها الذي قدمه لكم حزب التحرير والذي تعلمون أن فيه خلاصكم وخلاص الشام والأمة بأسرها، ففوتوا الفرصة على الغرب وأفشلوا مخططاته وكونوا مع إخوانكم في حزب التحرير عسى الله أن يكتب الفتح والنصر على أيديكم فتفوزوا فوزا عظيما، وإنني أستحلفكم بالله ألا تضيعوا ثمرة دماء إخوانكم فيسألكم الله عنها يوم القيامة ويتعلقوا برقابكم أمام الواحد الديان، فعجلوا بتوحيد صفوفكم نسأل الله أن يؤلف بينكم ونهتف جميعا معا

قسما بمن خلق الشآم وسحرها

لن يحكم الشـــام الأبيــــة فاجر

وسيعلن الأخبـــار خير خليفـــة

قسمـا برب رجالهـــا الأقحــاح

مرتــد ديــن عـــاقر الأقــــداح

يا شام كوني بلسمــا لجراحي


فاللهم اجعل الشام وأهلها بلسما لجراح الأمة اللهم عاجلا غير آجل.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست