هكذا يستخدم شر عدو مهزوم منذ زمن طويل لإعماء الدول على الشر الذي يرتكب اليوم
هكذا يستخدم شر عدو مهزوم منذ زمن طويل لإعماء الدول على الشر الذي يرتكب اليوم

في 12 شباط/فبراير 2016، نشرت التايم مقالاً بعنوان "داخل إحدى آخر محاكمات معسكر الموت النازي"، حول اليوم الثاني من محاكمة حارس سابق في وحدة الأس أس (SS) النازية، البالغ من العمر 94 عامًا والذي اتهم أنه من الذين يخدمون في أوشفيتز. وصف الناجون هول معسكر الموت، والمتهم يحاكم بـ"الاشتراك" في قتل170.000 شخص على الأقل لأنه لا يوجد دليل يربطه مباشرةً بأي حالة وفاة محددة. هانينج هو واحد من النازيين السابقين الذين لا يزالون على قيد الحياة، وتمثل قضيته استراتيجية جديدة تسعى إلى توسيع دائرة المسؤولية عن المحرقة.

0:00 0:00
Speed:
February 16, 2016

هكذا يستخدم شر عدو مهزوم منذ زمن طويل لإعماء الدول على الشر الذي يرتكب اليوم

هكذا يستخدم شر عدو مهزوم منذ زمن طويل

لإعماء الدول على الشر الذي يرتكب اليوم

(مترجم)

الخبر:

في 12 شباط/فبراير 2016، نشرت التايم مقالاً بعنوان "داخل إحدى آخر محاكمات معسكر الموت النازي"، حول اليوم الثاني من محاكمة حارس سابق في وحدة الأس أس (SS) النازية، البالغ من العمر 94 عامًا والذي اتهم أنه من الذين يخدمون في أوشفيتز. وصف الناجون هول معسكر الموت، والمتهم يحاكم بـ"الاشتراك" في قتل170.000 شخص على الأقل لأنه لا يوجد دليل يربطه مباشرةً بأي حالة وفاة محددة. هانينج هو واحد من النازيين السابقين الذين لا يزالون على قيد الحياة، وتمثل قضيته استراتيجية جديدة تسعى إلى توسيع دائرة المسؤولية عن المحرقة.

التعليق:

هذه القضية ضد الحارس النازي السابق المعمر، قد تكون الأخيرة من نوعها، والتي من شأنها أن تكون شيئًا جيدًا جدًا. فالشر موجود في هذا العالم قبل صعود ألمانيا النازية منذ فترة طويلة، وظل الشر موجودًا حتى بعد سقوطها، وسوف يستمر وجوده طويلاً حتى بعد أن تنسى محاكمات جميع هؤلاء النازيين السابقين وتغلق كتب الرجال عن هذه المسألة.

محاكمات نورمبرغ التي تلت هزيمة ألمانيا النازية أسفرت عن 12 حكمًا بالإعدام في تشرين الأول/أكتوبر عام 1946 لتثبت إدانتهم بالتورط المباشر في قتل اليهود خلال المحرقة. ووقعت عدة محاكمات في نورمبرغ في الفترة ما بين كانون الأول/ديسمبر 1946 ونيسان/إبريل 1949 والتي أسفرت عن إدانة والحكم على 97 آخرين. محاكمات فرانكفورت أوشفيتز اتهمت أيضًا 22 شخصاً بموجب القانون الألماني بين عامي 1963 و1967 لدورهم في معسكر أوشفيتز، ومنذ ذلك الحين استمر تسليم ومحاكمة الأفراد النازيين المشتبه في ضلوعهم في المحرقة في بطء لكن بخطى ثابتة. ومع ذلك فإن معظمهم هرب من العدالة بما فعله.

بالرغم من ذلك فقد نمت المحرقة إلى حدث رمزي للغاية، وفي كانون الثاني/يناير عام 2000 اجتمعت 44 دولة من مختلف أنحاء العالم في ستوكهولم عاصمة السويد لمناقشة أهمية ثقافة الهولوكوست، الذكرى والبحوث. إعلان ستوكهولم الناتج أورد في بداية المادة 3 على أنه "مع استمرار خوف الإنسانية من الإبادة الجماعية والتطهير العرقي والعنصرية ومعاداة السامية وكراهية الأجانب يشارك المجتمع الدولي مسؤولية جليلة لمكافحة هذه الشرور." لسوء الحظ، فإن الشرور التي وصفت في إعلان ستوكهولم لا تزال مستشرية في العالم.

وقد حجبت رمزية المحرقة حقيقة أن تدمير مجموعة من الناس من قبل مجموعة أقوى من الناس هو أمر شائع جدًا، وهو يحدث اليوم. وكانت جماعات الضغط اليهودية ناجحة في تركيز الكثير من الاهتمام على أنفسهم على أنهم الضحايا الرئيسيون للمحرقة، وقامت البلدان الديمقراطية التي تعزز من رمزية المحرقة بالتركيز كثيرًا على شر الفاشية النازية والتفوق الأخلاقي للديمقراطية في مكافحة الفاشية وأن الإبادة الجماعية في حملات هتلر ضد الأجناس المعتبرة من درجة أدنى حقيقة ذات أبعاد أسطورية. ومع ذلك فإن هذه الديمقراطيات ترتكب بسهولة كبيرة مثل هذه الجرائم ضد الإنسانية.

في الواقع هذه الديمقراطيات اخترعت معسكرات الاعتقال قبل هتلر بفترة طويلة. فكل من الألمان والإنجليز قاموا باستخدامها في أفريقيا قبل خمسين عامًا من الحرب العالمية الثانية لتجويع أعدائهم من أجل إرضاخهم، ولكن الولايات المتحدة أنشأت معسكرات الاعتقال الأولى، وكانت تستخدمهم كجزء من الحل النهائي لهنود الشيروكي الذين طردوا من أراضيهم الأصلية. قال أحد الحراس: "حاربت خلال الحرب بين الولايات وشهدت إطلاق الرصاص على العديد من الرجال، لكن إزالة الشيروكي كانت أقسى عمل عرفته." الآلاف قتلوا بلا رحمة في الرحلة إلى المخيمات التي كانت تسمى "درب من الدموع".

الديمقراطية لا يمكن أن تنقذ أياً من ضحايا هذه الإبادات الجماعية، لأن الحكومات المنتخبة ديمقراطيًا أصدرت القوانين وعينت السياسات لهذه الأعمال الوحشية.

في عام 1995، بعد أقل من ثلاثين عامًا على محاكمات فرانكفورت أوشفيتز، عادت الإبادة الجماعية إلى أوروبا مع المذبحة الصربية ضد مسلمي البوسنة. حتى إن الصرب اخترعوا اسمًا جديدًا للإبادة ووصفوها "بالتطهير العرقي"، ولقد تم سماع هذا الاسم عدة مرات منذ ذلك الحين. الآن أوروبا تعاني مرةً أخرى، وهذه المرة هي التدفقات الضخمة من الناس الذين يهربون من الدمار الذي سببته جهودها لخلق دولة ديمقراطية في الشرق الأوسط بالقوة. معظم اللاجئين هم من سوريا، 897،645 لاجئاً حتى كانون الأول/ديسمبر 2015، تقدموا بطلب الحصول على اللجوء إلى أوروبا و4 ملايين لاجئ موجودون في البلدان المجاورة لسوريا. ومن المقرر أن معاناة هؤلاء الناس هي من قبل بشار الأسد، وعلى الرغم من أنه يدير دولة استبدادية وحشية قام بتلقي الدعم من الغرب الذين قاموا بفرض عقوبات على السلاح ضد الثوار الذين ناضلوا لعزله، وسعوا لإبقائه في السلطة حتى يتمكنوا من العثور على بديل. لم يتم العثور على بديل والآن اجتمع العالم ضد سوريا مدعوماً بقوة السلاح لضمان حل فيها.

ومن خلال الاستمرار في وضع جرائم هتلر ضد اليهود على مستوى فريد من نوعه، تظهر أي وحشية أخرى في العالم أكثر ليونة. في الواقع أولئك الذين قاموا بالتطهير العرقي على أرض فلسطين من نصف سكانها السابقين هم من اليهود، والدولة الصهيونية التي صنعوها لديها سجل رهيب من الإساءة ضد أهل فلسطين الباقين.

عن طريق وضع هزيمة هتلر كأعظم تبرير للديمقراطية تظهر وحشية ديمقراطيات اليوم، ملثمة بالإصلاح غير المشكوك فيه. الحكومة الدنماركية رحبت باللاجئين اليهود بعد الحرب العالمية الثانية لكنها في الاسبوع الماضي صوتت ليتم سلب المجوهرات والساعات والهواتف من اللاجئين المسلمين للمساعدة في دفع تكاليفهم. قريبًا سيموت النازي الأخير من أوشفيتز عن عمر كبير، ولكن المثل التي أرادوا أن يعتنقها العالم هي التي لا تزال حيّة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتور عبد الله روبين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست