حكومة السودان ترهن البلاد لروسيا وتمكنها من رقاب المسلمين وثرواتهم
حكومة السودان ترهن البلاد لروسيا وتمكنها من رقاب المسلمين وثرواتهم

الخبر:   روسيا توقع اتفاقاً مع السودان، يضمن لها إنشاء مفاعل نووي للأغرض السلمية في السودان. (وكالات، 17 آذار/مارس 2018م).

0:00 0:00
Speed:
March 19, 2018

حكومة السودان ترهن البلاد لروسيا وتمكنها من رقاب المسلمين وثرواتهم

حكومة السودان ترهن البلاد لروسيا

وتمكنها من رقاب المسلمين وثرواتهم

الخبر:

روسيا توقع اتفاقاً مع السودان، يضمن لها إنشاء مفاعل نووي للأغراض السلمية في السودان. (وكالات، 17 آذار/مارس 2018م).

التعليق:

يحاول النظام الحاكم في السودان، وهو يمشي مكباً على وجهه بسياساته، أن يصور للناس أن ما يقوم به من صفقات مشبوهة، وعقود باطلة، تحت عنوان (الاستثمار الأجنبي) إنما هي مقدمة، لحياة الرفاه والمدنية المتطورة، التي ستُولد من رحم الاستثمار ودخول الشركات الأجنبية للبلاد، وهذا أمر بالتأكيد غير صحيح البتة، بل على العكس تماماً؛ فإن إبرام مثل هذه العقود إنما هو شر مستطير وخيانة تستوجب القصاص لفاعلها، وذلك للآتي:

أولا: إن هذا التعاون الاقتصادي المزعوم بين روسيا والسودان ما هو إلا شكل من أشكال الارتهان للأجنبي وتسليمه لثروات البلاد... فتحت عنوان الاستثمار وقعت الدولة على عدد من العقود، مع شركات روسية، وكل تلك العقود هي عقود ربوية، وبضمان الذهب الذي في باطن الأرض! فقد صرح وزير المعادن السابق أحمد الصادق الكاروري بذلك قائلاً: (اتفقنا مع شركات روسية على تمويل مشروعات في البلاد بضمان الذهب) (2015/08/05). كما صرح الوزير الحالي هاشم علي سالم في 2017/09/09م لوكالة نوفوستي قائلاً: (إن الجانب السوداني يريد تعزيز صناعة التعدين في البلاد، وقد يسمح لفترة قصيرة تصدير خام المعادن)، وهذا حرام شرعاً، وخيانة للأمانة، فالذهب الذي في باطن الأرض، بل وكل المعادن العد التي لا تنقطع، هي ملكيات عامة، ولا يجوز لكائن من كان أن يتصرف فيها وكأنها ملك يمينه، فهذه ملكيات الأمة العامة، التي باتت تنهب اليوم بأيدي الكافرين بتواطؤ من الحكام، الذين يعاونونهم في السيطرة على أموالنا، وعلى رقابنا.

ثانياً: إن بناءَ مفاعل نووي في السودان يمكن المستعمر من نهب اليورانيوم من البلاد بعد تخصيبه في السودان وهذه من أكبر عمليات الاستحمار التي يباشرها الكافر المستعمر على الأمة اليوم بعون الحكام من رويبضات هذا العصر.. فكيف بنا نرضى بهذا ونحن ننتمي لأمة ذكية لها تاريخها في السياسة والرياسة؟!

ثالثاً: إن إنشاء مثل هذا المفاعل النووي في البلاد يُمكن الروس من معرفة معلومات خارطة وجود اليورانيوم فيها، ولا يخجل وزير المعادن من ذلك فقد صرح في حفل أقيم لهذه المناسبة بتاريخ 24 كانون الثاني/يناير 2017م قائلاً: (إن الاتفاقية مع الشركة الروسية، تتضمن سبعة بنود، الأول تسلم السودان خارطة المعلومات المعدنية والجيولوجية، والثاني تقييم وتطوير المعامل المختبرية الموجودة حالياً بالسودان، بالإضافة إلى بناء قاعدة بيانات وتقييم الموجودة بها) وهذه تعتبر جريمة أخرى في حق الأمة يجاهر بها الوزير بلا حياء. أيضاً دخول هذه الشركات للبلاد يمكن الكافر المستعمر من معرفة الكوادر من العلماء والفنيين في هذا المجال مما يسهل عليه تصفيتهم في المستقبل كما فعلوا مع بعض إخواننا من علماء المسلمين.

رابعاً: عدم وجود عائد مادي من فكرة الاستثمار الأجنبي. فالذي يحدث أن هذه الشركات تتحصل على المادة الخام من السودان بلا ثمن، ثم تقوم بتصنيعها وتصديرها للسوق العالمية فلا مال يعود على أهل السودان، ولا سلعة تدخل سوقهم، وبالعكس فالملكيات العامة من المعادن النفيسة تنهب، وأكثرهم نائمون على خطوط النار، وهذه حالة من السفه في التعامل مع الملكيات العامة يجب على الأمة أن توقفها حالاً.

خامساً: إن روسيا دولة محاربة فعلاً ففي لحظة كتابة هذه السطور هي ترمي ببراميل الموت المتفجرة على رؤوس الأطفال والشيوخ في أكبر مجزرة ضد الجنس البشري تتم على مر التاريخ، فبدل أن يتخذ حكامنا حيالها إجراء الحرب والضرب، كونها تقتل إخوتنا وبني جلدتنا في الشام، رغم ذلك ها هم أحذية الكافر المستعمر من حكامنا يعملون ليل نهار على إرضاء الروس الكافرين، فلقد ذهب الرئيس عمر البشير إلى روسيا في 2017/11/23م مستجدياً المساعدة العسكرية والاقتصادية منها في مشهد أقل ما يمكن أن يوصف به بأنه مصادمة ومناطحة لآيات القرآن الكريم القطعية الدلالة، قال الله عز وجل: ﴿مَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلا الْمُشْرِكِينَ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْكُمْ مِنْ خَيْرٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ﴾ [البقرة: 105] فكيف بعد هذه الحقيقة التي يخبرنا بها الله تبارك وتعالى يسعى مسلم ليطلب الخير من الكافرين؟!!

أيها الأهل في السودان: لا تخدعنكم هذه الحكومة بحجج الاستثمار والرخاء والمدنية المتطورة، فلا إصلاح ولا صلاح لديها، لأنها جعلت من العقيدة العلمانية قيادة لها لذلك ضلت وأضلت وأفسدت ولم تصلح، فالواجب علينا العمل بخطوات ثابتة نحو تغييرها وإيجاد أنظمة الإسلام وفلسفته للحياة في ظل خلافة راشدة على منهاج النبوة تُحفظ فيها ملكيات الأمة العامة، وتُقطع بها يد العابثين بأموال المسلمين.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عصام أتيم

مندوب المكتب الإعلامي المركزي في ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست