هل الانتخابات المحلية في تركيا مصيرية بالنسبة لأردوغان؟
هل الانتخابات المحلية في تركيا مصيرية بالنسبة لأردوغان؟

صرح الرئيس التركي أردوغان يوم 2024/3/11 قائلا "هذه آخر انتخابات لي، وبموجب التفويض الذي يمنحه القانون، هذه هي انتخاباتي الأخيرة". وظهر تركيزه على كسب المدن الكبرى التي خسرها وخاصة إسطنبول. والتي قال عنها سابقا إن من يكسبها يكسب تركيا. بينما يزداد السخط عليه بسبب موضوعين مهمين هما الاقتصاد وغزة.

0:00 0:00
Speed:
April 04, 2024

هل الانتخابات المحلية في تركيا مصيرية بالنسبة لأردوغان؟

هل الانتخابات المحلية في تركيا مصيرية بالنسبة لأردوغان؟

الخبر:

صرح الرئيس التركي أردوغان يوم 2024/3/11 قائلا "هذه آخر انتخابات لي، وبموجب التفويض الذي يمنحه القانون، هذه هي انتخاباتي الأخيرة". وظهر تركيزه على كسب المدن الكبرى التي خسرها وخاصة إسطنبول. والتي قال عنها سابقا إن من يكسبها يكسب تركيا. بينما يزداد السخط عليه بسبب موضوعين مهمين هما الاقتصاد وغزة.

التعليق:

تصريحات أردوغان تظهر أنه يتحدث عن مصيره ومصير حزبه. حيث إن وجود حزبه مرتبط بشخصه، فإذا هو ذهب أو سقط فربما يندثر حزبه. فيريد استمرار حزبه من بعده والمحافظة على زعامته وتأثيره بعد أن تنتهي ولايته الثانية التي بدأت عام 2023 والتي تعتبر الأخيرة قانونيا وتنتهي عام 2028، إلا إذا تمكن من القيام بتعديلات دستورية على غرار التعديلات الدستورية التي أجراها المجرم بوتين في روسيا والذي وصفه بأنه صديقه العزيز. إذ تعاونا معا على إجهاض ثورة الأمة ضد النظام السوري الإجرامي برئاسة الطاغية بشار أسد. فوجه طعنة غدر لهذه الثورة كما وجه طعنة غدر لغزة التي كانت تأمل أن ينصرها فخذلها وساعد العدو عليها.

علما أن خذلانه لأهل غزة واستمراره في العلاقات مع كيان يهود وخاصة العلاقات التجارية على أعلى مستوى قد أثر على شعبيته كثيرا حتى في داخل تركيا، إذ إنه يمد العدو يوميا بثماني سفن محملة بكافة المواد كما أعلن وزير مواصلاته، بينما هذا العدو يمنع عن أهل غزة حتى شربة الماء أو لقمة الخبز وهو يمعن فيهم قتلا وفتكا، وخاصة الأطفال والنساء، وتدميرا لكل ممتلكاتهم. وأردوغان لا يكترث لذلك، إلا ببعض التنديدات المبتذلة التي لا تغني ولا تسمن من جوع. وكأنه تلقى جائزة من أمريكا على موقفه الغادر، بتعهدها أن تدعمه ولا تسقطه، ولا تضغط عليه في الناحية الاقتصادية التي أثرت على شعبيته بشكل ملحوظ.

فالناس يشكون من تردي أحوالهم المعيشية ومن الغلاء، فقيمة الليرة تنخفض باستمرار، والأسعار ترتفع باستمرار أيضا. والديون الخارجية تتراكم، خاصة الديون قصيرة الأجل لعام واحد أو أقل، حيث أعلن البنك المركزي في شهر كانون الأول 2023 أنها بلغت 226,6 مليار دولار. ولجلب السيولة لتسديد الديون رفع البنك المركزي النسبة الربوية لنحو 50%، ومعنى ذلك أيضا أن البنوك ستقرض الناس بنسبة ربوية أكثر من ذلك ما سيؤثر على سوق العمل وإقامة المشاريع.

وأردوغان ومن معه لا يكترثون بحرمة الربا وبأنهم في حرب مع الله ورسوله! علما أنه يطبق نظام الكفر منذ 22 عاما. فهذه الديون قصيرة الأجل كافية بأن تطيح بأردوغان وحزبه لولا الدعم الأمريكي، الذي ظهر بشكل علني عندما أعلنت شركات التصنيف الأمريكية الدولية فيتش يوم 2024/3/13 وستاندر آند بورز يوم 2024/3/27 توقعاتها بنمو الاقتصاد التركي بنسب مئوية أعلى لهذا العام والعام القادم. فهي تأتي قبل الانتخابات كشهادات مزورة لدعم حزب أردوغان.

فيظهر أن موقفه المتخاذل من غزة وعدم قطعه علاقاته مع كيان يهود وعدم قيامه بأدنى ضغط عليه له علاقة بتلقي الدعم الأمريكي بسبب وضعه الاقتصادي المتردي، وقد تعهد لأمريكا بالحفاظ على هذا الكيان. أي أنه باع غزة وفلسطين وأهلها مقابل حمايته من السقوط إذا رفعت الدعم عنه عندما يتحرك الدائنون بالمطالبة بسداد ديونهم قصيرة الأجل كما حصل مع حكومة أجاويد عام 2002.

فموضوع غزة والوضع الاقتصادي يضغطان بقوة على وضع أردوغان وحزبه، والأحزاب الأخرى بدأت تستغل هذين الموضوعين. إذ يبدو أن كسبه للمدن الكبرى أنقرة وإزمير واسطنبول بعيد المنال رغم الدعم الأمريكي له.

وإذا فشل في هذه الانتخابات فإن مستقبله ومستقبل حزبه على المحك، ويكون قد وضع قدمه على الحافة ليتجه نحو الهاوية. وهذا سيؤثر على زعامته في المستقبل، بأن لا يبقى له تأثير يذكر، فلا يستطيع أن يلعب دورا في تعيين الشخصيات في الحزب أو في الدولة أو توجيه السياسة عندما يصبح خارج الحكم، عدا اللعنات التي ستلاحقه بسبب موقفه المتخاذل والغادر لقضايا المسلمين والوعود الكاذبة بأنه سينصر الإسلام.

علما أن مصير الأحزاب التركية مرتبط بالزعامات، فعشرات الأحزاب الكبيرة والصغيرة اندثرت عقب ذهاب زعيمها. فهي عبارة عن تجمع أفراد لتحقيق مصلحة للوصول إلى الحكم وتقاسم المغانم، ولهذا فإن السمة التي تظهر عليها هي الولاء للزعامات والصراعات الشخصية. فأردوغان نفسه عمل على تصفية جل المؤسسين معه للحزب حتى يتفرد بالزعامة.

ويأتي آخرون ربما من داخلها ليشكلوا أحزابا أخرى على المنوال نفسه وللغاية ذاتها. وكل هذه الأحزاب يفرض عليها تبني أسس الجمهورية العلمانية الكمالية القومية الديمقراطية، ويحظر قانون الأحزاب التركي تأسيس حزب يستند إلى الإسلام أو يدعو إلى إقامة الخلافة.

ولهذا فإن هذه الأحزاب كلها لا تعمل على تحقيق نهضة الأمة وتغيير المجتمع تغييرا جذريا صحيحا، بل ترسخ الواقع السيئ الموجود في المجتمع منذ هدم الخلافة والشريعة وتزيد من تعقيداته ومشاكله. وجل تركيزها على تحسين الوضع الاقتصادي ولم تستطع تحقيقه، لأنها لا تدرك الكيفية الصحيحة لذلك، وجعلت الناس يركزون عليه ويلهثون وراء المكاسب المادية، دون الاهتمام ببناء شخصية الإنسان وبناء المجتمع وإقامة الدولة على أسس صحيحة، بل عمقت من فساد المجتمع والإنسان، والدولة بحد ذاتها فاسدة باطلة ينخرها السوس.

ولهذا احتاجت الأمة لحزبها المبدئي القائم على أسس دينها الحنيف والذي يستمد فكره وحلوله من الكتاب والسنة ويجعل إقامة الخلافة طريقة لتطبيقها، فيقوم بإيجاد الشخصيات الإسلامية ورجل الدولة ويعمل على بناء المجتمع ليكون مجتمعا إسلاميا تسوده القيم الروحية والأخلاقية والإنسانية والمادية بالمستوى نفسه ومقياس الأعمال الحلال والحرام، فهي قائمة على مزج المادة بالروح أي إدراك الصلة بالله عند القيام بالأعمال، والمثل الأعلى نيل رضوان الله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست