هل المشكلة في عدم وفرة الماء أم هي بسوء الأداء؟
هل المشكلة في عدم وفرة الماء أم هي بسوء الأداء؟

الخبر: ذكرت منظمة الصحة العالمية، أن ما يقرب من ملياري شخص في جميع أنحاء العالم لا يتمكنون من الحصول على مياه نظيفة. وأوضح تقرير نشرته المنظمة حول مياه الشرب لعام 2017، يوم الخميس، أن بلدان العالم خلال السنوات الثلاث الأخيرة، زادت ميزانياتها المخصصة للمياه والنظافة بمعدل سنوي يبلغ 4.9% حسبما ذكرت وكالة "الأناضول". وفي تصريح صحفي قالت ماريا نيرا، مديرة قسم الصحة العامة بالمنظمة، إن "نحو ملياري شخص يستخدمون مياه شرب مختلطة بمياه الصرف الصحي في الوقت الراهن".

0:00 0:00
Speed:
April 17, 2017

هل المشكلة في عدم وفرة الماء أم هي بسوء الأداء؟

هل المشكلة في عدم وفرة الماء أم هي بسوء الأداء؟

الخبر:

ذكرت منظمة الصحة العالمية، أن ما يقرب من ملياري شخص في جميع أنحاء العالم لا يتمكنون من الحصول على مياه نظيفة.

وأوضح تقرير نشرته المنظمة حول مياه الشرب لعام 2017، يوم الخميس، أن بلدان العالم خلال السنوات الثلاث الأخيرة، زادت ميزانياتها المخصصة للمياه والنظافة بمعدل سنوي يبلغ 4.9% حسبما ذكرت وكالة "الأناضول".

وفي تصريح صحفي قالت ماريا نيرا، مديرة قسم الصحة العامة بالمنظمة، إن "نحو ملياري شخص يستخدمون مياه شرب مختلطة بمياه الصرف الصحي في الوقت الراهن".

التعليق:

يعتبر الماء من مقومات الحياة الأساسية وذلك مصداقاً لقوله تعالى: ﴿وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاء كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ﴾، وقال r: «النّاس شركاء في ثلاث: الماء والكلأ والنار».

من المعلوم جغرافياً أن البلاد العربية محاطة بكميات مائية كبيرة، فهي تُشرف على ممرات استراتيجية مهمة جداً. وبلادنا الإسلامية تُشرف أيضاً على كثير من البحار والمحيطات، وهذه تُعتبر مياهاً غير محدودة، كما يوجد في بلادنا أنهار من أشهر أنهار العالم، وهذه وحدها توفر ما يزيد على 150 مليار متر مكعب من الماء، بالإضافة إلى كمية المياه الجوفية الموجودة تحت الأرض والتي تُقدّر بـ 7734 مليار متر مكعب، وهناك موارد كثيرة للمياه تُوفر ما يكفي لسكان الأرض جميعهم.

رغم كثرة المياه الموجودة في بلاد المسلمين إلّا أنه بسوء استغلالها لصالح تأمين الحاجيات الأساسية للبشرية وبوضعها الحالي المتدهور، تخدم المصالح الاقتصادية للدول الرأسمالية حيث يرى الاقتصاديون فيها أنّ تزايد عدد السكان وبالتالي ارتفاع نسبة ميزانياتهم المخصصة للمياه والنظافة، مشكلة يجب التعامل معها والحدّ منها، لأنّ نظرتهم الاقتصادية منصبّة على إنتاج الثروة أكثر من انصبابها على توزيعها لإشباع الحاجات الأساسية للأفراد.

إذ رأى المفكرون وخاصة في الغرب في بدايات القرن العشرين أن عدد الناس تزايد بالمليارات، وقد تنبّأ بعضهم بأنّ العالم سيعجز عن توفير الماء والغذاء لهذه الأعداد المتزايدة، وبالتالي ستحدث المجاعات وستشح الأراضي ويصيبها الجفاف مما سيؤدي إلى موت الملايين من البشر جوعاً. خاب ما تنبأوا به، فقد بيّن الله سبحانه وتعالى في كتابه العزيز أنّه قدّر في هذه الحياة أقواتها، قال تعالى: ﴿وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِلسَّائِلِينَ﴾.

صحيح أن مشكلة توفير الماء والغذاء قائمة، ولكن الأصعب هو توفيرهما في حالات الحروب والصراعات والتي وللأسف تعمُّ معظم بلادنا الإسلامية. ففي اليمن تفيد إحصائيات الأمم المتحدة أن سوء التغذية والأمراض الناجمة عن نقص المياه تؤدي إلى وفاة 14 ألف طفل يمني، دون سن الخامسة، كل عام.

فالمياه كما الغذاء موجود والحمد لله، وهو بحاجة إلى الاستثمار بالشكل الصحيح وإلى التوزيع العادل. فالقول إن ازدياد عدد الناس وبالتالي ازدياد الاستهلاك وقلة الماء والغذاء سبب في موت الناس جوعاً، لا أساس له من الصحة، فقد تحدث المجاعة في أماكن قليلة السكان ولا تحدث في مناطق كثيرة السكان، فالصين فيها أكثر من مليار نسمة ولكنها لا تعاني مشكلة في الماء والغذاء، بينما نرى دولاً أفريقية تعيش على أنهار وهي قليلة السكان ومع ذلك أبناؤها يعيشون مجاعة دائمة.

هذه هي الرأسمالية التي لا تقرّ قيمة إلاّ القيمة المادية، فهي لم تكتف بتدمير البشر بل تجاوزت ذلك إلى إحداث اختلال بيئي وما نتج عنه من فيضانات قياسية، والحرائق الضخمة والاحتباس الحراري وانتشار التصحر والتلوث وغيرها من الكوارث، وذلك لتجعل الأرض بكل ما فيها ومن عليها في خدمة الدول الرأسمالية وخدمة مصالحها النفعية.

نعم لقد نهب الكافر المستعمر وتحت سمع المسلمين وبصرهم، أموالهم وثرواتهم الثمينة، وما يعود منها للأمة يأخذه الحكام اللصوص ويضعونه في بنوك الغرب الكافر مع تطبيق سياسة سوء الرعاية لحرمان الشعوب من مقدرات بلادهم الوافرة.

إن العالم لن ينعم بالسعادة والأمان ما دامت الرأسمالية تتحكم في شؤونه، ولن ينقذه من هذا الشقاء إلا الإسلام، هذا المبدأ الصحيح الذي أنزله الله على رسوله rلينقذ الناس من الظلمات إلى النور ومن شقاء الرأسمالية إلى نعيم الإسلام وذلك بكيان الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، التي هي فوق كونها ضرورة شرعية يجب علينا إيجادها، فهي حاجة ملحة للمسلمين وهي كذلك حاجة ملحة للبشرية جمعاء. قال تعالى: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رنا مصطفى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست