هل باستطاعة الصين إنقاذ الغرب وإنعاش اقتصاده؟!
هل باستطاعة الصين إنقاذ الغرب وإنعاش اقتصاده؟!

الخبر:   ... وذكرت صحيفة نيكاي آسين ريفيو 2017/09/01 أن الصين تخطط لجعل العقود الجديدة للخام قابلة بشكل تام للتحويل إلى الذهب في بورصتي "شنغهاي" و"هونج كونج" لتكون هذه العقود أكثر جاذبية، وتعتقد الصحيفة أن هذه العقود قد تدخل حيز التطبيق نهاية العام الحالي بعد حصول تأجيل لعدة أشهر... (المستقبل البترولي 2017/09/04).

0:00 0:00
Speed:
September 08, 2017

هل باستطاعة الصين إنقاذ الغرب وإنعاش اقتصاده؟!

هل باستطاعة الصين إنقاذ الغرب وإنعاش اقتصاده؟!

الخبر:

... وذكرت صحيفة نيكاي آسين ريفيو 2017/09/01 أن الصين تخطط لجعل العقود الجديدة للخام قابلة بشكل تام للتحويل إلى الذهب في بورصتي "شنغهاي" و"هونج كونج" لتكون هذه العقود أكثر جاذبية، وتعتقد الصحيفة أن هذه العقود قد تدخل حيز التطبيق نهاية العام الحالي بعد حصول تأجيل لعدة أشهر... (المستقبل البترولي 2017/09/04).

التعليق:

الصين دولة تحافظ على بقائها كدولة كبرى إقليميا، ولديها إحساس بالقوة لذا فهي وإن كانت تعمل على تعزيز قوتها العسكرية - خاصة في بحر الصين - وقوتها الاقتصادية التي جعلتها تحوز على احتياطيات كبيرة مِنْ النقد سَمح لها بأن تؤثر في الاقتصاد العالمي، فإنها تستغل قوتها الاقتصادية لتؤثر سياسيا في بعض المناطق.

ولأن الصين تابعة للنهج الرأسمالي ولسياساته الاقتصادية فإن اقتصادها يعتمد بالدرجة الأولى على التصدير للأسواق الأمريكية وقيام الشركات الأمريكية بالاستثمار في داخل الصين، ثم على الاستثمارات المتبادلة مع أمريكا عن طريق شرائها أسهمًا من الشركات الأمريكية بمئات المليارات أو شرائها لسندات الخزينة الأمريكية بما يتجاوز ترليون دولار، وكذلك جعل الاحتياطي النقدي لها بالدولار بما يزيد عن 3 ترليون دولار.

إلا أن ما تعرض له العالم من أزمة مالية نتيجة ربط أمريكا اقتصاد العالم بعملتها وما سجله الدولار من انخفاضات متتالية تجاه العملات الرئيسية الأخرى كالإسترليني واليورو مما جعل العالم يفقد الثقة بالدولار كعملة للاحتياط الدولي، فاستغلت الصين الوضع وسعت لجعل اليوان عملة دولية يمكن من خلالها إجراء التبادلات التجارية مع دول العالم دون وجود الدولار كعملة وسيطة بين اليوان الصيني وعملة الدولة التي يتم التداول معها.

وسعيا منها لرفع قيمة اليوان والحفاظ على استقراره كعملة دولية، قام بنك الشعب الصيني عام 2015م بخفض مفاجئ لقيمة اليوان بنسبة 1.9%، بالتزامن مع ارتفاع احتياطي الصين من النقد الأجنبي، كما رفعت الصين احتياطياتها من الذهب لتتجاوز 4000 طن خلال شهر حزيران/يونيو الماضي، بهدف تنويع احتياطياتها بعيداً عن الدولار الأمريكي. وفي تشرين الأول/أكتوبر 2016، اعتمد صندوق النقد الدولي، اليوان الصيني كعملة عالمية بجانب الدولار الأمريكي والين الياباني والجنيه الإسترليني واليورو، الأمر الذي ساعد في نمو الاقتصاد الصيني ولم يعد يُنظَر إلى اليوان على أنه مصدر خطر للاقتصاد العالمي.

وتعتبر الصين ثاني أكبر مستهلك للنفط في العالم، وقد استغلت التراجع الحالي في أسعار النفط لتقوم ببناء احتياطياتها من النفط الخام والتي وصلت العام الماضي إلى 237.5 مليون برميل، واليوم تعمل الصين على بناء المزيد من المنشآت لتخزين المزيد من النفط الخام الذي تستورده. وقد وصل مجموع إنتاج مصافي النفط في الصين للعام الحالي إلى 11.1 مليون برميل يومياً. (نقلا عن شبكة رؤية الإخبارية، بتصرف)

في المقابل، تسبب إعصار هارفي الذي ضرب أمريكا مؤخرا في توقف العمل في هيوستون ومينائها وتعطل عدد من المصافي وجزء من الإنتاج الخام مما تسبب في ضربة قوية لإنتاج النفط الأمريكي في تكساس وخليج المكسيك مما أدى إلى تراجع أسعار النفط عالميا مرة أخرى بعد أن حققت خلال الشهرين الماضيين ارتفاعا، كما أن الإعصار أضر بالطلب على النفط الخام وتسبب في إغلاق 16% من مصافي النفط في أمريكا وإغلاق بعض الموانئ، وحسب تقرير صادر عن جولدمان ساكس من أن حوالي 3 ملايين برميل من النفط يوميا لم يتم تكريرها.

وكخطوة قد تقلل من سيطرة الدولار الأمريكي على تسعير النفط الخام، ها هي الصين تستعد لإطلاق عقود نفط خام آجلة مقومة باليوان الصيني وقابلة للتحويل إلى ذهب، على اعتبار أن هذه الخطوة يمكن أن تكون طوق نجاة للدول التي تعاني من العقوبات الاقتصادية الأمريكية، مما سيفتح لها سبلًا أخرى لمباشرة معاملاتها النفطية.

يقول جرانت ويليامز، مستشار شركة فولبس لإدارة الاستثمارات: "إنه يتوقع أن يسعد معظم منتجي النفط لتبادل احتياطياتهم من النفط بالذهب". ويضيف: "إنها عملية تحويل ثرواتهم من سائل أسود إلى معدن أصفر، إنها خطوة استراتيجية للتبادل النفطي بالذهب، بدلاً من الدولارات الأمريكية، والتي يمكن طباعتها في الخزانة الأمريكية بسهولة".

وتسعى السعودية والتي تعتبر هي وروسيا كأكبر مُصَدِّرَيْن للنفط الخام إلى الصين، حيث بلغت صادراتها ما معدله 1.03 مليون برميل يومياً، تسعى للحصول على تمويل جانب من احتياجاتها باليوان الصيني، مما قد يمنحها مزيدا من المرونة المالية، ويذكر أن الشارقة هي أيضا تخطط لإصدار سندات مقومة باليوان في الصين، وخلال قمة بريكس والتي عقدت مؤخرا في شيامن بالصين، أعلنت "روس نفط"، كبرى شركات النفط الروسية، عن إبرام اتفاق استراتيجي وعقد توريد نفط طويل الأجل مع شركة "CEFC" للطاقة الصينية.

أخيرا: ففي جواب لأمير حزب التحرير العالم الجليل عطاء بن خليل أبو الرشتة بتاريخ 2013/01/14 ردا على سؤال كيف أن الاقتصاد العالمي بعد خمس سنوات لا يزال يعاني من الأزمة الاقتصادية 2008 يقول:

(هناك ثلاثة احتمالات قد تؤدي في النهاية إلى الانتعاش الاقتصادي نذكرها من الأدنى إلى الأعلى:

الأول هو أن يتحول الركود المزدوج إلى كساد وانخفاض كبير في الأسعار، وذلك يؤدي إلى هبوط في أسعار القروض والعقارات والسلع فيعطي دفعة لبدء نمو اقتصادي يتمثل في سهولة تسديد هذه القروض. وهذا الاحتمال ضعيف لأن الاقتصاد الرأسمالي قائم أساساً على القروض والربا الناتج عنها، وهبوط أسعار القروض "الربا" لا يستمر طويلاً ما دام الاقتصاد الرأسمالي قائماً.

الاحتمال الثاني هو أن تقوم الصين بإنقاذ الغرب. فتجارة الصين الكبيرة وأموالها الفائضة مرتبطة بديون الولايات المتحدة وبريطانيا وقطاعات واسعة من منطقة اليورو، وهي ديون كبيرة غير مستدامة. وسيكون من مصلحة الصين إنقاذ الغرب. وهذا يعني أيضا اضطرار العالم الغربي إلى قبول قيادة صينية عالمية. ولكن القضية هنا ليست هي فيما إذا كان الغرب سوف يقبل بمثل هذا الإنقاذ، بل هو فيما إذا كانت الصين ستتخذ مثل هذه السياسة.

الاحتمال الثالث: أن تُشرق شمس دولة الخلافة، ويُطبق النظام الاقتصادي الإسلامي، فتنتفع به ليست فقط دولة الخلافة، بل دول العالم المتعاملة معها، ما يجعل مثل هذه الأزمات العالمية منعدمة أو في وضع يمكن السيطرة عليه.) انتهى النقل.

وها نحن نرى أن الاحتمال الثاني بدأت علاماته تظهر واقعيا، إلا أننا نأمل في أن يتحقق الاحتمال الثالث بوتيرة أسرع ونرى بأم أعيننا عودة تطبيق النظام الاقتصادي الإسلامي، اللهم اجعل ذلك قريبا قريبا.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أختكم: راضية عبد الله

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست