هل هناك وحدة بين النظام الأوزبيكي وشعبنا المسلم في مواجهة الصين؟
هل هناك وحدة بين النظام الأوزبيكي وشعبنا المسلم في مواجهة الصين؟

الخبر: انتشرت أخبارٌ عن زيادة عدد الصينين في مدينة طشقند في الآونة الأخيرة، وعن شرائهم لمواقع مهمة في المدينة وأماكن رئيسية في الأسواق، ما أدى إلى ظهور لافتات وإعلانات باللغة الصينية في الشوارع. وأعرب مستخدمو وسائل التواصل عن مخاوفهم من منح أراضٍ في العاصمة لرجال أعمال صينيين. وقد أدلى مكتب وكالة السجل العقاري بتصريح في ضوء هذا اللبس، واصفاً هذه الأخبار بـ"الأخبار غير الصحيحة". (gazeta.uz، 2025/03/06م)

0:00 0:00
Speed:
March 13, 2025

هل هناك وحدة بين النظام الأوزبيكي وشعبنا المسلم في مواجهة الصين؟

هل هناك وحدة بين النظام الأوزبيكي وشعبنا المسلم في مواجهة الصين؟

الخبر:

انتشرت أخبارٌ عن زيادة عدد الصينين في مدينة طشقند في الآونة الأخيرة، وعن شرائهم لمواقع مهمة في المدينة وأماكن رئيسية في الأسواق، ما أدى إلى ظهور لافتات وإعلانات باللغة الصينية في الشوارع. وأعرب مستخدمو وسائل التواصل عن مخاوفهم من منح أراضٍ في العاصمة لرجال أعمال صينيين. وقد أدلى مكتب وكالة السجل العقاري بتصريح في ضوء هذا اللبس، واصفاً هذه الأخبار بـ"الأخبار غير الصحيحة". (gazeta.uz، 2025/03/06)

التعليق:

تؤكد الوكالة أنه لا داعي للهلع من خصخصة الأراضي المؤجرة. وكتبت المنظمة لا داعي للقلق "لن تتم خصخصة الأراضي للأجانب". وأشارت أيضا إلى أن المادة 17 من قانون الأراضي تنص على أنه لا يجوز للأجانب والكيانات القانونية والأشخاص عديمي الجنسية والمؤسسات ذات الاستثمار الأجنبي امتلاك قطع الأراضي إلا على أساس الإيجار. حالياً لم تعبر أي منظمات حكومية أو مسؤولين آخرين عن أي ردود فعل تجاه هذه المخاوف. في الواقع، زادت مخاوف شعبنا من التوسع الصيني بعد أن تم الإعلان عن شراء شركات صينية عدداً من الأراضي المحتملة لاستخراج الذهب بالمجان مثل الماء في ولاية نوائي، والتي يبلغ عددها 31 قطعة. وعلى هذه الخلفية، ظهرت تقارير تفيد بأن منصة Temu الصينية قد تتعرض للحظر بسبب رفضها دفع الضرائب. ويبدو أن الحكومة قد اتخذت هذا الطريق لتخفيف حالة الاستياء لدى الناس. ولا نذهب إلى أبعد من ذلك، فقد تنازلت طاجيكستان المجاورة لنا عن 1100 كيلومتر مربع من منطقة بامير للصين مقابل إلغاء جزء كبير من ديونها الخارجية المستحقة للصين. وتجدر الإشارة إلى أنه على الرغم من اعتماد البرلمان الطاجيكي لهذا القرار، إلا أن الحقيقة أخفيت عن عامة الناس. أما الشعب الطاجيكي المسلم الذي كان في غفلة عن هذا الأمر، فقد علم بذلك فيما بعد من الصحف الصينية، أليس هذا كافيا للقلق؟! حيث إن النظام الأوزبيكي لديه أيضاً اتفاقيات قروض مشبوهة مع الصين. ومع ذلك، حتى الآن، لم يتم الكشف عن شروط اتفاقية القرض بين الصين وأوزبيكستان، للشعب الذي لا يدرك حجم الديون التي تقع على عاتقه نتيجة هذه الشروط. علاوة على ذلك، ليس جديداً أن النظام الأوزبيكي يخفي أشياء كثيرة عن شعبه.

نعم، إن شعبنا يعبّر عن قلقه لأنه يدرك إلى حد ما المخاطر القادمة من الصين. بهذا، يقوم شعبنا المسلم في الواقع بما يوجبه عليه الإسلام. ومن المعروف أن الإسلام أوجب على المسلمين العمل بالسياسة. شعبنا ليس غير مبالٍ بالسياسة التي يمارسها النظام، بل يحاول فهمها والتأثير فيها باستخدام الأساليب والوسائل التي يعرفها. ولكن، هل فقد النظام الأوزبيكي حتى القدرة على التفكير البسيط على مستوى الشعب، أم أنه يفعل ذلك عن عمد؟ فهو يقيم علاقات دافئة جداً مع الصين، وخاصة في المجال المالي والاقتصادي، وأصبحت القروض والاستثمارات الصينية تثير شهيته. على سبيل المثال، يشعر رجال الأعمال الصينيون وكأنهم يتجولون في منازلهم وينقلون البيئة من بلدهم إلى أوزبيكستان. إن زيادة اللافتات والإعلانات باللغة الصينية في شوارعنا وأسواقنا ليست من قبيل الصدفة.

لقد قام النظام الأوزبيكي بإزالة الإعلانات واللافتات التي تحمل أي أسماء أو رموز إسلامية، مدعيا أنها "دعاية دينية"، ولكن لم يذكر كلمة واحدة عن النقوش باللغة الصينية أو غيرها من اللغات! وبطبيعة الحال، سيكون من الصحيح أن نقول إن هذا يهدف إلى تعويد الناس تدريجياً على الكتابة الصينية والعرف الصيني وما إلى ذلك، والقضاء على الكراهية تجاه الصين، حتى يتمكن المسلمون من الانخراط بشكل فعال في التجارة والعلاقات الأخرى مع الصينيين المشركين، ولا ينظرون إليهم كأعداء، بل كأصدقاء.

 وهناك أخبار تفيد بأن الصينيين الكفار يتزوجون من فتيات مسلمات محليات. ويا للعجب! إذا زوج شخص ابنته مبكراً، أو إذا تزوج شخص أكثر من زوجة بعقد شرعي، فإن ذلك سيكون جريمة، ولكن إذا تزوجت فتاة مسلمة من كافر صيني، فإن ذلك يعتبر شأناً شخصياً! وهكذا، يقوم النظام بتقديم تسهيلات وامتيازات كبيرة للصينيين بحجة جذب الاستثمار، فهو لا يتدخل في شؤونهم تقريباً. لكن هذا النظام أصبح ماهرا في التدخل في شؤون رجال الأعمال المحليين متى شاء، حتى إنه استولى على أعمالهم بالقوة.

يريد شعبنا من النظام الأوزبيكي أن يتخذ إجراءً ضد الصين التي تتعدى على بلادنا كالطاعون. وداخل قلقهم رغبة وأمل كهذا. ولكن النظام الذي يرأسه ميرزياييف يلتزم الصمت بشأن الصين بسبب ديونها البالغة مليارات الدولارات. لأن السياسة الخارجية الصينية تقوم على أساس المصلحة الذاتية، وتستخدم كل الأساليب والوسائل المتاحة لها لتحقيق هذه المصلحة. وتشمل هذه الأنشطة الإقراض والاستثمار وممارسة الضغوط ورشوة المسؤولين وما إلى ذلك. وبعد الوقوع في الفخاخ الصينية كهذه، يصعب الخروج منها طبعا. وعلى أية حال فإن هذا سيكون صعباً بالتأكيد ما دام النظام غير الإسلامي والحكم السيئ مستمرين في السيطرة علينا. وكذلك لا ترغب الصين في رفع قضية المسلمين الأويغور، التي تعد واحدة من القضايا الحساسة لديها، على المستوى الدولي. ولم يطرح النظام الأوزبيكي هذه القضية على أي منصة حتى الآن بكلمة واحدة، خذلانا لإخواننا الأويغور مقابل الأموال القذرة من الصين. لقد تركهم بمفردهم ليواجهوا القمع الوحشي للدولة الصينية الشيوعية الملحدة.

من المؤكد أن الصين هي من أشد أعداء الإسلام والمسلمين، ومن الواجب على شعبنا المسلم أن يكون حذرا للغاية تجاهها. ولكن احتجاجنا لا ينبغي أن يأخذ الشكل والاتجاه الذي تريده أمريكا أو روسيا، لأنه لا يوجد شك في أن هاتين الدولتين الاستعماريتين تحاولان استغلالنا، لمواجهة جذور الصين في آسيا الوسطى، وخاصة في أوزبيكستان. إذا حاول شعبنا إثارة القضية بالطريقة التي يريدانها، فقد ينتهي به الأمر إلى خدمة مصالحهما الخاصة. لذا، يجب أن يكون موقفنا من الصين، مثل موقفنا من الدول الاستعمارية الأخرى، قائماً على الإسلام فقط. حينها فقط لن نضل، وسنتخذ الموقف الإسلامي الصحيح تجاه أعدائنا. يقول الله تعالى: ﴿لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا﴾‏.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إسلام أبو خليل – أوزبيكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست