هل حقا هناك إصلاح للاقتصاد المصري كما يدعي ممثل الغرب؟!
هل حقا هناك إصلاح للاقتصاد المصري كما يدعي ممثل الغرب؟!

الخبر:   نقلت اليوم السابع الثلاثاء 11/6/2019م، قول وزير التجارة الدولية البريطاني ليام فوكس، أن مصر ليست البوابة التجارية لأفريقيا والشرق الأوسط فقط بل للعالم كله، موضحاً أن رجال الاقتصاد في بريطانيا لديهم نظرة إيجابية نحو الاقتصاد المصري الآخذ في النمو والتطور، وإشادته ببرنامج الإصلاح الاقتصادي المصري، الذي بدأت مصر في جني ثماره، لا سيما أنه ليس برنامجاً واحداً وإنما هو عدة برامج هدفها النهوض بالاقتصاد المصري، مؤكدا أن بريطانيا تطمح إلى أن تصبح الدولة الكبرى في الاستثمار في أفريقيا، مشدداً على أنه شجع على الاستثمار في مصر لكونها دولة تتمتع بالعديد من المميزات منها العدد الكبير من الشباب وتطوير قطاع النقل.

0:00 0:00
Speed:
June 18, 2019

هل حقا هناك إصلاح للاقتصاد المصري كما يدعي ممثل الغرب؟!

هل حقا هناك إصلاح للاقتصاد المصري كما يدعي ممثل الغرب؟!

الخبر:

نقلت اليوم السابع الثلاثاء 2019/6/11م، قول وزير التجارة الدولية البريطاني ليام فوكس، أن مصر ليست البوابة التجارية لأفريقيا والشرق الأوسط فقط بل للعالم كله، موضحاً أن رجال الاقتصاد في بريطانيا لديهم نظرة إيجابية نحو الاقتصاد المصري الآخذ في النمو والتطور، وإشادته ببرنامج الإصلاح الاقتصادي المصري، الذي بدأت مصر في جني ثماره، لا سيما أنه ليس برنامجاً واحداً وإنما هو عدة برامج هدفها النهوض بالاقتصاد المصري، مؤكدا أن بريطانيا تطمح إلى أن تصبح الدولة الكبرى في الاستثمار في أفريقيا، مشدداً على أنه شجع على الاستثمار في مصر لكونها دولة تتمتع بالعديد من المميزات منها العدد الكبير من الشباب وتطوير قطاع النقل.

التعليق:

لم تنس بريطانيا أن مصر كانت تابعة لها منذ عقود وكانت وحدها تتمتع بثرواتها وخيراتها ولا زالت تطمع بالعودة إليها وإن كانت عودتها مستحيلة، إلا أنها ارتضت بأن تحصل على ما تستطيع مما تسمح به أمريكا صاحبة النفوذ في مصر الآن.

الوزير البريطاني يمثل دولة رأسمالية استعمارية كبرى، فهو واجهة لمن خلفه من أصحاب رؤوس الأموال والشركات الرأسمالية ومفهومهم للإصلاح الاقتصادي في بلادنا لا يخرج عن تنفيذ النظام لقرارات صندوق النقد الدولي التي تفتح الأبواب أمامهم لمزيد من نهب ثرواتنا وخيراتنا، وقد رأينا ثمار هذا الإصلاح التي يجنيها الغرب ولا يرى منها أهل مصر شيئا بل يتحملون تبعاتها ويدفعون ثمنها من قوتهم، فالطرق والكباري وحتى وسائل النقل يتم بناؤها وتطويرها بأموال القروض التي تحصّل من أهل مصر ثم يحصّل منهم النظام مقابل استخدامهم لتلك الطرق أو الكباري بخلاف زيادة ما يحصّله منهم في وسائل النقل وآخرها زيادة سعر تذاكر المترو للخط الثالث ولن تكون الزيادة الأخيرة.

حجم الاستثمارات البريطانية في السوق المصرية تبلغ حالياً 5.4 مليار في عدد 1567 مشروعاً في قطاعات الصناعة والخدمات والإنشاءات والسياحة والتمويل والاتصالات وتكنولوجيا المعلومات، بحسب ما نشرته اليوم السابع أيضا في 2019/1/24م، هذه الاستثمارات لا ينال من ورائها أهل مصر شيئا بل هي وبالٌ يضاف إلى وبالات الرأسمالية التي تحكمنا فجميع استثمارات الغرب تنهب من بلادنا النفط والمواد الخام وتجعل من بلادنا سوقا لمنتجات شركاتها ومصانعها، فشركة بي بي أحد أكبر المستثمرين الأجانب في مصر تستثمر في مجال التنقيب عن النفط والغاز بمعنى أدق تنهب من نفط مصر وغازها تحت رعاية الدولة وفي حمايتها وبعقود سرية لا يعرف بنودها أحد، بل لا يجرؤ على محاولة البحث حول تلك البنود، في الوقت الذي يدعي رأس النظام المصري أنه يحارب الفساد، وينظم له مؤتمرا، في حين إن هذا النفط والغاز هو من الملكية العامة وحق أصيل من حقوق الناس لا يجوز للدولة التفريط في منابعه وحقوله.

عندما يشيد الغرب بإصلاحات معينة في بلادنا فهذا معناه أن حكامنا قد أدوا دورهم في خدمته وهيأوا الأجواء لشركاته ورجاله ليمارسوا مزيدا من نهب ثروات البلاد، أو أوجدوا سبلا جديدة تمكن الغرب من التسلط على رقاب الناس ونهب ما تبقى لهم وما يحملون من مدخرات، فكيف يكون الإصلاح حقا وكيف يلمسه الناس في واقع حياتهم؟!

إن بداية الإصلاح الاقتصادي تكون بمنع كل استثمارات الغرب في بلادنا ومنع شركاته الرأسمالية من العمل في بلادنا لكونها تتبع دولا استعمارية، واسترداد كل الموارد الدائمية وشبه الدائمية الممنوحة لشركات الغرب وإعادة تقسيم الملكيات ووضع الملكية العامة ومنع منح أي امتياز لأي أجنبي مستقبلا، ثم تضع الدولة يدها على تلك الملكية العامة وفيها ما فيها من ثروات كنفط وغاز وذهب ومعادن أخرى فتقوم هي بإنتاج الثروة منها ثم تعيد توزيع ما ينتج من ثروة على الناس جميعا بلا استثناء لا فرق بين مسلم وغير مسلم ولا غني وفقير، بحيث تحسن توزيع الثروة بشكل صحيح يمنع تداول المال بين فئة معينة دون باقي الناس، ثم تعمد إلى ما في البلاد من أرض موات فتمنحها لمن أراد إحياءها من الناس بالزرع أو الإعمار فتعينهم على ذلك بما تملك قدر المستطاع ومن أحيا أرضا مواتا فهي له كما أخبر نبينا r، فتعينهم على إعمارها وتهيئ الأجواء التي تمكن أبناء الأمة من استغلالها في الزراعة والصناعة وغيرها... هذا غيض من فيض مما يحدث حقا لو كان هناك إصلاح اقتصادي حقيقي ملموس، إلا أن هذا مستحيل الحدوث في ظل الرأسمالية التي تحاربه أصلا ويحتاج إلى دولة خلافة راشدة على منهاج النبوة حتى يطبق فعلا.

وهنا نتوجه إلى أهل القوة المخلصين في جيش الكنانة ونضع أمامهم سبيل الإصلاح الحقيقي الذي يغنيهم عن تلك المشاريع التي يمنحها إياهم النظام على سبيل الرشوة ليشتري ولاءهم ويضمن سكوتهم عن فساده وتجاوزاته في حق أهل مصر البسطاء، إن حقوقكم المسلوبة وحقوق أهل مصر معكم أكبر بكثير من هذا الفتات الذي يلقيه لكم النظام من بقايا موائد الغرب، حقوقكم وحقوق أهلكم هي التي يتمتع بها الغرب ويشتري صمتكم وولاء قادتكم والخيار خياركم، وسنظل نناديكم ونذكركم حتى نجد من بينكم من يسمع وينصر، وحينها ستدركون كم الخير الذي حرمتم منه في ظل الرأسمالية وأدواتها، فأدركوا أنفسكم وانصروا دينكم وأقيموا دولته دولة عزكم الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، يرضى عنكم ربكم ويفتح عليكم بركات من السماء والأرض، اللهم عاجلا غير آجل.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست