هل ما زالت التعبئة للديمقراطية قائمة؟
هل ما زالت التعبئة للديمقراطية قائمة؟

الخبر: حضر الرئيس التركي رجب طيب أردوغان المؤتمر الإقليمي العادي السابع لقارس وكرمان من جناح وحيد الدين من خلال البث المباشر. وقال أردوغان في كلمته "إننا نتّخذ خطوات حاسمة ستضع بلادنا في المكانة التي تستحقها في النظام العالمي والسياسي والاقتصادي الذي سُيعاد تشكيله بعد انتهاء الجائحة. نحن بصدد إطلاق حملة تعبئة جديدة في الاقتصاد والقضاء والديمقراطية، لقد أعدنا تشكيل إدارة الاقتصاد، نحن نهدف إلى التنفيذ السريع للتحركات التي من شأنها أن تجعلنا نحقق أهدافنا". (وكالة الأناضول، 2020/11/14م)

0:00 0:00
Speed:
November 23, 2020

هل ما زالت التعبئة للديمقراطية قائمة؟

هل ما زالت التعبئة للديمقراطية قائمة؟

(مترجم)

الخبر:

حضر الرئيس التركي رجب طيب أردوغان المؤتمر الإقليمي العادي السابع لقارس وكرمان من جناح وحيد الدين من خلال البث المباشر. وقال أردوغان في كلمته "إننا نتّخذ خطوات حاسمة ستضع بلادنا في المكانة التي تستحقها في النظام العالمي والسياسي والاقتصادي الذي سُيعاد تشكيله بعد انتهاء الجائحة. نحن بصدد إطلاق حملة تعبئة جديدة في الاقتصاد والقضاء والديمقراطية، لقد أعدنا تشكيل إدارة الاقتصاد، نحن نهدف إلى التنفيذ السريع للتحركات التي من شأنها أن تجعلنا نحقق أهدافنا". (وكالة الأناضول، 2020/11/14م)

التعليق:

إن الحكّام الذين تكون أقوالهم غير فعالة، وكلماتهم لا معنى لها، ونصائحهم غير مجدية، والذين لا يستفيدون من المشاكل والمصائب، يكادون يتصرفون كأفراد في فيلق يعمل على جرّ المجتمع إلى الكارثة. أولئك الذين نسوا أن مناصبهم ومراكزهم مؤقتة ويجهلون أنهم سيقفون أمام الله يوم الحساب، والذين يرون أن كل طريق مسموح به لهم من أجل الوصول إلى المصالح الدنيوية البسيطة، هم من يحكمون الناس للأسف. إن حقيقة أن حزب العدالة والتنمية، الذي يقترب من 20 عاماً في السلطة، وزعيمه أردوغان لا يزالان يتحدثان عن التعبئة في الاقتصاد والقضاء والديمقراطية، يوجب على أي شخص لديه الإيمان والعقل والاعتبار أن يقلق. ونحن نقول إنه يجب أن نقلق، لأن ما فعلوه هو مقدمة لما سيفعلونه.

عندما نلقي نظرة على العملية التي وصل فيها حزب العدالة والتنمية إلى السلطة في تركيا، نعلم أنهم وصلوا إلى السلطة من خلال سياساتهم لحل المشاكل التي يمرّ البلد فيها بأزمة مالية كبيرة وكان التقرير سيئاً في القانون والعدالة. لكن الوقت أظهر أن المجتمع محاط بالديمقراطية، وبالخط الجمهوري القائم على المحسوبية، والفساد، والمصلحة، والوقاحة، والظلم، والديمقراطية المتقدمة. خصخصة سلع بالحقيقة هي من الملكية العامة بقيمة عشرات المليارات من الدولارات في الأيام الأولى للاقتصاد، ونشر الربا المنخفض في المجتمع، على الرغم من أن الأموال الساخنة القادمة من الخارج لسنوات عديدة أعادت إحياء الأسواق وأعانت الاقتصاد، فقد قلنا إن هذا البالون سينفجر عاجلاً أم آجلاً. إنّ الاعتقاد بأن النظام الرأسمالي، القائم على الاستغلال والأزمات، ستنقذه التعبئة، هو قصور عقلي، إنه يبتعد كل البعد عن الحقيقة.

إن هذا القطار الذي يسير على السكة الخاطئة، بأهدافه الوهمية، ومهندسيه المطيعين للغرب، ومرشديه الجهلة، وعرباته المليئة بالحرام والمعاصي، لم يكن ليصل إلى برّ الأمان. لا القاطرة ولا سكة الحديد يمكن أن تتحمل قطار الخطيئة والحرام هذا. إنها لا تفعل ذلك بالفعل. نتحدث عن قانون يشكو فيه حتى وزير العدل من انعدام العدل، ولا أحد يوافق على القرارات المعينة، ولو كان الضعفاء على حق فهم مذنبون، ولو كان الأقوياء مذنبون فهم شرفاء وعلى حق، والعدالة هي ما تحددها وسائل التواصل وحسب التفاعلات! هل سيكون هناك أي اختلاف لإطلاق حركة في نظام قانوني حيث يُسجن آلاف المسلمين ظلماً بسبب أفكارهم، وحيث يُعاقب آلاف الرجال بأخذ شهادات النساء كأساس، وحيث يُسجن آلاف اليافعين الذين تزوجوا في سن مبكرة؟ في الواقع إن التعبئة في هذه المنطقة ستؤدي إلى مزيد من القمع والظلم، وهذا واضح وضوح النهار.

على الرغم من أن عمل أردوغان وجهوده ونضاله من أجل الديمقراطية وإصراره على تقدم الديمقراطية خرافات، فلا شك في أن لديه الجانب الأكثر نجاحاً وثباتاً. بحيث إن جميع المشاريع التي تفتح باب الحرام على نطاق واسع في حين إنها كانت نصف مفتوحة بالديمقراطية المتقدمة، والتي قبلت الاتفاقات التي تفسد الأسرة والمجتمع، والتي تعطي حقوقاً للشواذ من خلال سنّ القوانين التي تدمر الأسرة بفتنة الجندر والمساواة، هي كانت الديمقراطية المتقدمة. والتصرف بحماس في هذا الطريق أكثر من الكفار الغربيين أمر مؤلم حقاً. وهذا يعني أن الحرام والجرائم في هذه المناطق تعتبر غير كافية، وستضاف إليها جرائم جديدة بالتعبئة في الديمقراطية.

كنت تبحث عن عُمر بن الخطاب في كل مدينة، ولكن حكمك وأعمالك تشبه حال أبي جهل. أن تكون عمرَ يعني أن تكون قادراً على حمد الله عندما تسمع الإجابة "نقومك بالسيوف" على سؤاله للمسلمين "ماذا أنتم فاعلون إن ضللت؟" تقوي فيه الإرادة لتطبيق حكم الله. إنه يمكن أن يقول "لن أشرب إلاّ إذا شرب شعبي هذا" فيما يتعلق بالعصير الذي أحضره له. إنها ليست حياةً أفضل من حياة الخنازير، بينما يكافح الملايين من الناس من أجل الحياة تحت خط الفقر بسبب كثرة أنواع الضرائب والزيادات.

أي تسويق للديمقراطية يمكن أن يحل حقيقة أنك أصم أمام صوت العدالة لملايين الناس؟ ما زلت تسوّق للديمقراطية بينما كل أنواع الحرام والعار أصبحت شرعية بأيديكم؟ هل فعلاً تحاول خداع المسلمين عبر هذا النظام الوهمي، بينما السبب الحقيقي لهذه المشاكل وأكثر هو النظام الرأسمالي الديمقراطي، وليس التعبئة ضد الله ودينه؟

إذا كنت تريد حقاً أن يكون لديك أمر يجد فيه الجميع الأمان والسعادة، فيجب أن تعمل من أجل الحشد للخلافة، فالخلافة هي نظام الحكم في الإسلام وليس من أجل الديمقراطية. بهذه الطريقة تكون من الفائزين في الدنيا والآخرة. ماذا نقول؟ ما يدور في عقل الإنسان ينطق به لسانه.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أحمد سابا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست