هل ماليزيا دولة فاشلة؟
هل ماليزيا دولة فاشلة؟

الخبر:    في الآونة الأخيرة، أصبح هاشتاغ #KerajaanGagal شائعا بين رواد وسائل التواصل الإلكتروني الماليزيين. يمكن ترجمة #KerajaanGagal إلى #حكومة فاشلة. يتحرك هذا الاتجاه بالتوازي مع الحالات المتزايدة باستمرار لكوفيد-١٩ في ماليزيا. الرأي هو أن الحكومة تواصل ارتكاب خطأ فادح بعد خطأ فادح في سياساتها لحل المشاكل التي يسببها الوباء. لا يبدو أن أفكار مستخدمي الإنترنت تنفد من إنشاء الميمات ويسخرون من السياسيين الذين يواصلون التعثر في أعمالهم في الأماكن العامة. جلسة البرلمان التي بدأت في 26 تموز/يوليو للمرة الأولى بعد أشهر عدة فقط جعلت التصور القبيح بالفعل للماليزيين حول السياسة أكثر قبحاً. سارع مستخدمو الإنترنت إلى وصف الجلسة البرلمانية الأولى وكأنها حديقة حيوانات. انطباع مخجل حقا.

0:00 0:00
Speed:
July 31, 2021

هل ماليزيا دولة فاشلة؟

هل ماليزيا دولة فاشلة؟

(مترجم)

الخبر:

 في الآونة الأخيرة، أصبح هاشتاغ #KerajaanGagal شائعا بين رواد وسائل التواصل الإلكتروني الماليزيين. يمكن ترجمة #KerajaanGagal إلى #حكومة فاشلة. يتحرك هذا الاتجاه بالتوازي مع الحالات المتزايدة باستمرار لكوفيد-١٩ في ماليزيا. الرأي هو أن الحكومة تواصل ارتكاب خطأ فادح بعد خطأ فادح في سياساتها لحل المشاكل التي يسببها الوباء. لا يبدو أن أفكار مستخدمي الإنترنت تنفد من إنشاء الميمات ويسخرون من السياسيين الذين يواصلون التعثر في أعمالهم في الأماكن العامة. جلسة البرلمان التي بدأت في 26 تموز/يوليو للمرة الأولى بعد أشهر عدة فقط جعلت التصور القبيح بالفعل للماليزيين حول السياسة أكثر قبحاً. سارع مستخدمو الإنترنت إلى وصف الجلسة البرلمانية الأولى وكأنها حديقة حيوانات. انطباع مخجل حقا.

التعليق:

كانت ماليزيا تعتبر ذات يوم دولة تعاملت مع جائحة كوفيد-١٩ بنجاح. ثم تسلل الرضا عن النفس إلى السياسيين، بسبب أنانيتهم​​، ثم كانت الانتخابات في ولاية صباح. وقد تم تجاهل إجراءات التشغيل الموحدة الخاصة بكوفيد-١٩ وفي غضون أسبوعين، تضخم عدد الإصابات، وحتى اليوم تستمر الحالات في الزيادة. منذ تلك اللحظة بدأ الماليزيون في الاشمئزاز من السياسيين. يتم فحص كل خطوة يقوم بها الوزراء ولا يتم إخفاء أي سر مفتوح أو مخفي عن الجمهور. ومع ذلك، لكي نكون منصفين للحكومة، كانت هناك جهود لحل المشاكل الاقتصادية للشعب. وضعت الحكومة الأموال في جيوب المحتاجين، خاصة أولئك الذين فقدوا وظائفهم بسبب الوباء، والفئات الضعيفة مثل الآباء والأمهات الوحيدين وفئة B40. قدمت الحكومة إعانات للأجور لأرباب العمل. لقد توصلت الحكومة إلى برنامج "سلة الغذاء" لمساعدة المحتاجين. حسناً، إذا كانت الحكومة تقوم بمسؤولياتها، فلماذا لا يزال #KerajaanGagal رائجاً؟

في مقال نشره موقع freemalaysiatoday.com، تم إجراء تقييم بسيط لسبعة مقاييس خلص إلى أن ماليزيا ليست دولة فاشلة ولكنها بالتأكيد تتجه نحو ذلك. وفقاً للمؤلف، يجب أن تخبرنا المقاييس السبعة، التي حددتها موسوعة بريتانيكا، ما إذا يمكن اعتبار الدولة حالة فاشلة أم لا. بناءً على تقييم المؤلف، فشلت ماليزيا جزئياً في 5 من المقاييس، وهي:

1) الضعف الواضح في قدرة الدولة على أداء المهام الإدارية والتنظيمية المطلوبة للسيطرة على الأفراد والموارد.

2) حقيقة أن الناس بدأوا في تطوير تصور أن الحكومة لم تعد شرعية.

3) زيادة الإدراك بأن الهيئات التشريعية والقضائية والبيروقراطية قد فقدت قدرتها واستقلاليتها المهنية عندما يبدو أن الثقافة السامة المتمثلة في السياسة والمناورة والتنقل بين الأحزاب قد احتلت الأولوية على حكم البلاد.

4) هناك ازدهار للفساد حيث لا يمكن للنشاط الاقتصادي الصادق أن يزدهر.

5) عدم القدرة على توفير التمثيل والتمكين السياسي لرعاياها أو حماية الحريات المدنية وحقوق الإنسان الأساسية.

من الواضح أن هذه المقاييس ليست مطلقة بأي حال من الأحوال في التأكد مما إذا كان يمكن اعتبار الدولة دولة فاشلة أم لا. في الواقع، يمكن للمرء أن يكتشف التحيزات تجاه الأفكار والثقافة الغربية التي تشكل معايير العديد من المقاييس. ومع ذلك، فإن المقاييس تعطي صورة عامة عن دولة ناجحة أو فاشلة. إذا فحصنا هذه الإخفاقات الجزئية، فمن الواضح أن المشاكل تظهر لأن الحكومة الماليزية الحالية لم تعد فعالة، ولم تعد جديرة بالثقة وتفتقر إلى النزاهة والالتزام بخدمة الشعب. تتجه ماليزيا نحو حافة طيف يحدد الدول الفاشلة. يمثل طيف "الدول الفاشلة" مثالاً على الوضع الذي نواجهه اليوم في جميع أنحاء العالم. تعاني جميع الدول في عالم اليوم، وخاصة البلاد الإسلامية، من نقص الفعالية والجدارة بالثقة والنزاهة والالتزام بالخدمة لأن البشر، في قدراتهم المحدودة، وتحيزاتهم وأهوائهم ورغباتهم وأنانيتهم ​​تُمنح السلطة لحل مشاكل الإنسانية. والأسوأ من ذلك، أنه يسمح لهم بالإفلات من كل الجرائم المرتبطة بها من "حل مشاكل الإنسانية". عندما تطبق دولة الإسلام الشرع في مجمله، فإن حلول مشاكل البشرية تنبع من كلام خالق الإنسان والكون العليم. قد تتشابه أشكال هذه الحلول مع ما كان يعتقده المرء، لكن الإطار الذي يتم تنفيذه ضمنه مرتبط بإحكام بالمساءلة وطاعة الله سبحانه وتعالى. وهذا ما يشكل حقاً الأساس الذي يرسم حدود الدولة الفاشلة والدولة الناجحة. الدولة الفاشلة هي دولة لا تحكم بما أنزل الله، أما الدولة الناجحة فهي التي تلتزم بأحكام الله ورسوله ﷺ.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الدكتور محمد – ماليزيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست