هل من نظام ينهي الغطرسة الأمريكية في البلاد الإسلامية؟!
هل من نظام ينهي الغطرسة الأمريكية في البلاد الإسلامية؟!

الخبر:   أعلن البنتاغون مؤخراً أن الضربة الأمريكية بطائرة بدون طيار في كابول في 29 آب/أغسطس والتي قتلت 10 مدنيين أبرياء، بينهم نساء وأطفال، كانت خطأ مؤسفاً لكنها لم تكن سوء سلوك أو انتهاكاً للقانون. وكان الهجوم قد وقع بالقرب من منطقة سكنية بالقرب من مطار كابول، حيث قصفت سيارة يُشتبه في انتمائها لتنظيم الدولة مع سبعة أطفال وأفراد عائلاتهم، بمن فيهم زيمراي أحمدي، وهو موظف في منظمة أمريكية غير ربحية تقدم أيضاً بطلب للحصول على اللجوء في الولايات المتحدة. "أسوشيتد برس؛ 4 تشرين الثاني/نوفمبر".

0:00 0:00
Speed:
November 07, 2021

هل من نظام ينهي الغطرسة الأمريكية في البلاد الإسلامية؟!

هل من نظام ينهي الغطرسة الأمريكية في البلاد الإسلامية؟!

(مترجم)

الخبر:

أعلن البنتاغون مؤخراً أن الضربة الأمريكية بطائرة بدون طيار في كابول في 29 آب/أغسطس والتي قتلت 10 مدنيين أبرياء، بينهم نساء وأطفال، كانت خطأ مؤسفاً لكنها لم تكن سوء سلوك أو انتهاكاً للقانون. وكان الهجوم قد وقع بالقرب من منطقة سكنية بالقرب من مطار كابول، حيث قصفت سيارة يُشتبه في انتمائها لتنظيم الدولة مع سبعة أطفال وأفراد عائلاتهم، بمن فيهم زيمراي أحمدي، وهو موظف في منظمة أمريكية غير ربحية تقدم أيضاً بطلب للحصول على اللجوء في الولايات المتحدة. "أسوشيتد برس؛ 4 تشرين الثاني/نوفمبر".

التعليق:

بعد 20 عاماً من الإرهاب في أفغانستان، نفذت الولايات المتحدة هجوماً إرهابياً حتى في المراحل الأخيرة من انسحاب قواتها، ولم يقتل فيه أحد سوى رجل مع أفراد عائلته، وجميع الضحايا كانوا من النساء والأطفال. ومع ذلك، فإن دولة الإرهاب لم ترتكب تلك الجريمة الوحشية فحسب، بل دمرت قلوب ومشاعر المسلمين مرة أخرى، بإعلان وزارة الدفاع أنها لم تنتهك أي قاعدة أثناء الهجوم!

كان يجب على العالم أن يدرك دولة الإرهاب هذه التي تتشدق بالدفاع عن حقوق الإنسان وحقوق المرأة في العالم، وخاصة في البلاد الإسلامية، بينما سياستها الأساسية تقوم على الإرهاب والإبادة الجماعية. مذبحة بحق 100 مليون من السكان الأصليين الأمريكيين؛ قصف مدينة درسدن الألمانية في الحرب العالمية الثانية ما أسفر عن مقتل أكثر من 200000 شخص؛ القصف النووي لهيروشيما وناغازاكي في الحرب العالمية الثانية، ما أدى إلى مقتل 220 ألف شخص على الفور وإصابة مئات الآلاف بأمراض مختلفة في أعقاب الكارثة؛ الحرب الأمريكية الفيتنامية التي خلفت حوالي 3 ملايين قتيل فيتنامي خلال حرب 16 عاماً حيث كانت القوات الأمريكية تلقي 500000 طن من القنابل سنوياً، بالإضافة لذلك فقد أحرقوا البشر والحيوانات والغابات بالنابالم. إلى جانب ذلك، قُتل ملايين المسلمين، بمن فيهم النساء والأطفال، في الحروب التي قادتها الولايات المتحدة في كل من أفغانستان والعراق، ما تسبب في نزوح الملايين من ديارهم. حتى إنها أسقطت أم القنابل (جي بي يو-43/بي) في أفغانستان. لذا، فإن الجرائم البشرية في دولة الإرهاب هذه كانت وستظل وصمة عار في جبينها.

اللفتنانت جنرال د. سيد، المفتش العام لإدارة القوات الجوية الأمريكية الذي قاد التحقيق قال إنه: "لم يجد انتهاكاً للقانون أو سوء سلوك".

وقال للصحفيين بلا خجل إن هذا لم يكن سلوكاً إجرامياً أو إهمالاً، لكن المتورطين بشكل مباشر في الهجوم يعتقدون في الواقع أنه كان هناك تهديد وشيك. لذلك، لم يوص بأي إجراء تأديبي.

يجب التأكيد على أن خيانة حكام البلاد الإسلامية والفتنة السياسية بين المسلمين هي السبب الرئيسي لاستمرار الجرائم الأمريكية والغربية؛ لأن المسلمين ليس لديهم دولة إسلامية، تقام من خلال نصرة المسلمين الأقوياء؛ دولة تطبق الإسلام على الأمة وتحمله إلى العالم بالدعوة والجهاد. علاوة على ذلك، فإن السبب في عدم قيام المسلمين باستعادة مثل هذه الدولة الإسلامية بعد هدمها هو ببساطة بسبب تفسيرهم الخاطئ لغاية الحياة. فالمسلمون، بدل إرضاء الله سبحانه وتعالى لينجحوا في الابتلاء والامتحان في هذه الدنيا، لجأوا إلى أهداف سعت إليها الدول الأخرى بالفعل، مثل الحصول على المتعة في الدنيا الذي هو الهدف الرئيسي للحياة عند الغرب، أو الهروب من المعاناة والمشقة التي هي الهدف الرئيسي للحياة التي تحددها الأديان في الهند والصين. يبدو أن مثل هذه الأفكار والمقاصد من الحياة قد وضعت "الوهن: حب الدنيا وكراهية الموت" في قلوب المسلمين، ما جعلهم يسيرون على خطا الأمم السابقة التي لعنها الله وعاقبها بسبب هذه الأفكار.

لذلك يجب أن نعود إلى رشدنا بوصفنا أمة واحدة! يجب أن نعيد تعريف قبلتنا. يجب أن نسعى إلى الأمل من الله سبحانه وتعالى بدلاً من الولايات المتحدة والصين وأوروبا والأمم المتحدة. يجب أن ندرك أن نؤدي واجبنا على أساس الإسلام. يجب أن نزيل الوهن من قلوبنا.

يجب أن نحمل حكامنا الخونة والأشرار المسؤولية بل ونطردهم من السلطة عن طريق الإطاحة بحكوماتهم غير الإسلامية، وبدلاً من ذلك يجب علينا إقامة دولة إسلامية؛ الخلافة على منهاج النبوة. وإلا فإننا سنرى مثل هذا الوضع الفظيع يستمر؛ لأننا مسلمون، بوصفنا أمة واحدة، لدينا عهد مع الله سبحانه وتعالى، عهد لتطبيق الإسلام، وإظهاره على جميع الأديان، وحمله إلى البشرية جمعاء، وهو أمر حيوي نسيناه للأسف حتى الآن.

﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سيف الله مستنير

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية أفغانستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست