هل ستتكلّم السعودية اللغة الفارسية؟!  تصويت مجلس الشيوخ الأمريكي
هل ستتكلّم السعودية اللغة الفارسية؟!  تصويت مجلس الشيوخ الأمريكي

واشنطن (رويترز) - فيما يمثل توبيخا تاريخيا نادرا للرئيس دونالد ترامب صوت مجلس الشيوخ الأمريكي يوم الخميس 2018/12/14 تأييدا لإنهاء الدعم العسكري الأمريكي للحرب في اليمن وحمل ولي العهد السعودي الأمير محمد بن سلمان المسؤولية عن قتل الصحفي السعودي جمال خاشقجي. وانضم سبعة أعضاء من الحزب الجمهوري الذي ينتمي له ترامب إلى الديمقراطيين لدعم الخطوة. وقد صوت لصالح مشروع القرار 56 عضواً مقابل 41.

0:00 0:00
Speed:
December 21, 2018

هل ستتكلّم السعودية اللغة الفارسية؟! تصويت مجلس الشيوخ الأمريكي

هل ستتكلّم السعودية اللغة الفارسية؟!

تصويت مجلس الشيوخ الأمريكي

الخبر:

واشنطن (رويترز) - فيما يمثل توبيخا تاريخيا نادرا للرئيس دونالد ترامب صوت مجلس الشيوخ الأمريكي يوم الخميس 2018/12/14 تأييدا لإنهاء الدعم العسكري الأمريكي للحرب في اليمن وحمل ولي العهد السعودي الأمير محمد بن سلمان المسؤولية عن قتل الصحفي السعودي جمال خاشقجي.

وانضم سبعة أعضاء من الحزب الجمهوري الذي ينتمي له ترامب إلى الديمقراطيين لدعم الخطوة. وقد صوت لصالح مشروع القرار 56 عضواً مقابل 41.

وقال عضو مجلس الشيوخ من الحزب الجمهوري بوب كوركر ويرأس لجنة العلاقات الخارجية وهو أحد رعاة القرار "بالإجماع... قال مجلس الشيوخ الأمريكي إن ولي العهد الأمير محمد بن سلمان مسؤول عن قتل جمال خاشقجي. هذا إعلان قوي. أعتقد أنه يعبر عن القيم التي نتمسك ونعتز بها".

التعليق:

يعتبر هذا التصويت رمزيا إلى حد بعيد لأن مشروع القانون لا يمكن أن يصبح قانونا إلا بعد أن يقره مجلس النواب الذي حالت قياداته الجمهورية دون إقرار أي تشريع يهدف إلى توبيخ السعودية.

وفي أول تعليق من الإدارة الأمريكية على ذاك القرار، فقد جاء في اليوم الثاني للقرار على لسان وزير الخارجية الأمريكي مايك بومبيو قوله إن الإدارة الأمريكية عازمة على مواصلة التعاون العسكري مع المملكة ومحاسبة المسؤولين عن قتل خاشقجي. وقال في مؤتمر صحفي الجمعة (2018/12/14) بعد لقاء جمعه مع نظيرته الكندية ووزيري الدفاع من البلدين في واشنطن: "إن الرئيس الأمريكي، دونالد ترامب، مصمم بحزم على حماية الولايات المتحدة بالتزامن مع محاسبة مرتبكي هذه العملية الفظيعة لقتل خاشقجي".

وفي إشارة منه على استمرار نهج الإدارة الأمريكية المتعنّت والذي يظهر فيه بوضوح أنّ مصالح أمريكا الاقتصادية مقدّمة على أي اعتبار آخر فقد تابع بومبيو قائلاً: "إننا بالطبع رأينا نتائج تصويت الأمس، ونتعامل دائما باحترام كبير مع ما يعمل عليه الفرع التشريعي للسلطة، ونتواصل على أساس دائم مع أعضاء الكونغرس، وسنستمر بذلك لاحقا". وأضاف: "إننا نفهم بشكل كامل قلقهم ونبذل كل الجهود الممكنة لتوضيح أسباب اتباعنا هذه السياسات بالضبط وأنها صحيحة بالنسبة إلى الشعب الأمريكي".

وقوله "ونبذل كل الجهود الممكنة لتوضيح أسباب اتباعنا هذه السياسات بالضبط وأنها صحيحة" يدل بوضوح على أنّ إدارة ترامب عازمة على رفض الأصوات المعارضة لسياستها في التعامل مع الحدث والتعامل مع السعودية وأنها تقدّم مصالحها على أي اعتبار أخلاقي، وقد سبق أن تكلم سياسيون أمريكان عن أنّ نهج ترامب يخالف "القيم الأخلاقية الأمريكية" في تعامله مع نظامٍ - يعني السعودية - قام بجريمة بشعة.

ومع علمنا التام أنّ القيم الأخلاقية لا اعتبار لها عند ساسة أمريكا لأنّ الشواهد على مستوى العالم وفي كلّ بقعة تتواجد فيها أمريكا لحراسة مصالحها تدلّ على أنها قيم منحطّة ولا اعتبار فيها لإنسانية الإنسان ولا لحرمة دمه وعرضه، إلا أن استخدام الساسة لهذا الاصطلاح (القيم الأخلاقية) جاء من باب الضغط على إدارة ترامب ليعيد النظر في علاقته مع النظام السعودي ومع ولي العهد على وجه الخصوص.

يرى الخبير الألماني في شؤون الشرق الأوسط يوخن هيبلر أن التصويت مهم سياسيا، كما صرح في مقابلة لـDW عربية، وذلك "لأنه يُصعب على الرئيس الأمريكي الاستمرار في الوقوف إلى جانب ابن سلمان دون شروط، لا سيما أن مجلس الشيوخ لا زالت لديه أغلبية جمهورية أي أنه لا يمكن أن يتم تفسير نتيجة التصويت بأنها لأسباب حزبية".

وقد سبق أن صرّح ترامب قائلاً: "لولا السعودية لما بقيت حليفتنا الأولى في الشرق الأوسط على قيد الحياة السياسية وربما الوجودية".

ومن جانب آخر قال السيناتور الجمهوري ليندسي غراهام، أمس، إن "التعاون مع ولي العهد السعودي ونظامه المجرم يضر الولايات المتحدة". وفي تصعيد للهجة ضد الرياض، قال غراهام، بحسب موقع "عربي21": "لولا واشنطن لكانت السعودية تتحدث الفارسية الآن". في إشارة واضحة أن إيران هي عصا أمريكا في المنطقة، وتهديد للسعودية بأن أمريكا قادرة على تقويض نظام حكمها.

ويعتبر السيناتور الجمهوري ليندسي غراهام المقرب من الرئيس الأمريكي دونالد ترامب من قادة مجلس الشيوخ البارزين، وهو أحد ستة نواب طرحوا مشروع قانون يحمّل ولي العهد السعودي محمد بن سلمان المسؤولية عن مقتل جمال خاشقجي.

إنّ النظام السعودي، كما النظام المصري والإيراني والتركي وغيرهم، يخدمون المصالح الأمريكية السياسية والاقتصادية والعسكرية، وقد اعتبرت أمريكا وكيان يهود النظامين السعودي والمصري بأنهما (كنزان استراتيجيان)، كما صرّح ترامب كذلك بأنّ النظام السعودي ضروري وحيوي لبقاء كيان يهود.

هذه هي أحوال الأنظمة في بلاد المسلمين؛ مجرّد أدوات قذرة مطيعة تلبّي كلّ ما يحتاجه الغرب وكيان يهود ويشكّلون حلقة أمان وضمان لبقاء كيان يهود بسياساتهم التي لا تخدم مسلماً ولا تحفظ دماً ولا حرمة، والواقع يجزم أنّه بالتخلص من هذه الكيانات العميلة التافهة وإقامة كيان يقوم على أساس شرع الله وأحكامه يكون هذا كفيلاً بزوال كيان يهود وقطع أيدي وأرجل الوجود الغربي وهيمنته على بلاد المسلمين، الخلافة التي يخشاها الغرب ويخشاها كلّ أعداء الله ودينه هي فقط سبيل خلاص المسلمين، وهي سبيل حفظ أعراضهم ودمائهم وبلادهم، وهي التي ستُخرج الشعوب الغربية قاطبة من حالها تلك إلى رحاب رحمة الله بتخليصهم من الحضيض الذي أوصلتهم إليه رأسمالية أنظمتهم الزائلة قريباً بعون الله.

يقول سبحانه: ﴿وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ * إِنَّ فِي هَٰذَا لَبَلَاغاً لِّقَوْمٍ عَابِدِينَ * وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾ [الأنبياء: 105-107].

وما ذلك على الله بعزيز

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رولا إبراهيم – بلاد الشام

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست