هل سيدفع شعبنا المسلم ثمن جبن النظام الأوزبيكي مرة أخرى؟
هل سيدفع شعبنا المسلم ثمن جبن النظام الأوزبيكي مرة أخرى؟

الخبر: أعلن المشروع الحكومي الأوكراني "أريد أن أعيش" الذي يساعد في استسلام الجنود الروس الطوعي قائمة بأسماء 1110 من رعايا أوزبيكستان الذين وقعوا عقوداً مع القوات المسلحة الروسية وشاركوا في الأعمال العسكرية ضد أوكرانيا. (gazeta.uz، 30/04/2025م).

0:00 0:00
Speed:
May 11, 2025

هل سيدفع شعبنا المسلم ثمن جبن النظام الأوزبيكي مرة أخرى؟

هل سيدفع شعبنا المسلم ثمن جبن النظام الأوزبيكي مرة أخرى؟

الخبر:

أعلن المشروع الحكومي الأوكراني "أريد أن أعيش" الذي يساعد في استسلام الجنود الروس الطوعي قائمة بأسماء 1110 من رعايا أوزبيكستان الذين وقعوا عقوداً مع القوات المسلحة الروسية وشاركوا في الأعمال العسكرية ضد أوكرانيا. (gazeta.uz، 30/04/2025م).

التعليق:

لقد وضع نشر هذه القائمة النظامَ الأوزبيكي في موقف صعب للغاية؛ لأنه استمر في غض الطرف عن جرّ روسيا أهل أوزبيكستان إلى حرب غريبة عنهم باستخدام الأساليب والوسائل الشنيعة لإرضاء "الأخ" الروسي! وعلى الرغم من أنه رأى وعرف تجاوز الروس إلا أنه لم يتخذ أي إجراء. ولا يمكن للنظام الآن أن يبرر لنفسه بالقول إنه لم يكن يعلم بهذا الوضع، فلقد كان يعلم ويرى ولكنه تظاهر بأنه لم يعلم ولم يرَ! فهو لم يحمِ أبناء شعبه من أن يتحولوا إلى وقود للمدافع في حرب غريبة عنهم، بل إنه لم يحرك ساكناً. وقد انتشرت في شبكات التواصل الإلكتروني منذ فترة طويلة مناشدات المساعدة من أولئك الذين تم اقتيادهم قسراً إلى الخطوط الأمامية للحرب الروسية الأوكرانية ومن أقاربهم إلى الرئيس ميرزياييف شخصياً.

إن نظام أوزبيكستان الآن في موقف صعب لدرجة أنه مضطر لأكل "العصيدة" التي قام بطبخها بنفسه، وإذا نظرنا إلى هذا الموقف فسيتضح لنا ما يلي:

1- الذي أعلن قائمة الأوزبيكيين الذين قاتلوا أو يقاتلون إلى جانب روسيا هو أوكرانيا. إذن فإن الكشف عن هذه المعلومات يخدم مصالح الغرب وأمريكا على وجه الخصوص. وليس عبثاً أن يتم نشر هذه القائمة عشية الذكرى الثمانين للانتصار في الحرب العالمية الثانية. ويبدو أن الوقت قد حان لاستخدام ورقة رابحة. وهذا بالتأكيد سيؤدي إلى تبريد العلاقات الروسية الأوزبيكية. بالطبع لم تظهر هذه القائمة بالأمس، بل من المحتمل جداً أنها وُضعت مسبقاً وأُطلقت في الوقت المناسب. والآن يمكن لأمريكا أن تحول هذا الخطأ الكبير للنظام الأوزبيكي إلى أداة ضغط عليه متى شاءت.


2- بعد إعلان القائمة بدأ النظام الأوزبيكي باتخاذ إجراءات عاجلة. ففي 2 أيار/مايو التقى نائب وزير خارجيته بابور عثمانوف بالسفير الروسي أوليغ مالجينوف. وخلال الاجتماع أعرب عن قلق أوزبيكستان إزاء انتهاك حقوق العمال المهاجرين. كما صرحت وزارة الخارجية لـ Gazeta.uz أن السلطات المختصة في أوزبيكستان بدأت في التحقيق بالمعلومات حول 1110 شخصا أوزبيكيا وقعوا عقوداً مع القوات المسلحة الروسية للمشاركة في الحرب ضد أوكرانيا. وإذا تأكدت هذه المعلومات فسيتم اتخاذ التدابير المناسبة عند عودة المرتزقة إلى البلد. غير أن هذه الإجراءات لا تعتبر سوى تبرير ذاتي وإجراءات لحماية النظام. ولهذا السبب لا يعتقد شعبنا المسلم أن النظام الأوزبيكي سيجرؤ على معارضة روسيا. وكأنه لا يكفي أنه لا يزال غير مكترث بمصير رعاياه فبدل أن يعترف النظام بخطئه يحاول مرة أخرى تبرئة نفسه. لأنه لو لم يكن الأمر كذلك فبدل أن يهدد رعاياه بالعقاب كان سيعترف بجرأة بخطئه ويعتذر لشعبه ويتخذ خطوات جادة لتصحيحه ولا يكترث بمزاج "أخيه" الروسي. فإزالة الخطأ تقتضي التعامل مع روسيا ليس بضعف وذل بل بكبح جماحها بصرامة وعدم مساومة. ولكن للأسف لا يُظهر النظام الأوزبيكي مثل هذا العزم.


3- والأهم من ذلك أن الخاسر في مثل هذه الحالة سيكون هو شعبنا المسلم، فالغرب وخاصة أمريكا لديهم الفرصة لاستخدام هذه الورقة الرابحة لتهديد النظام الأوزبيكي ومطالبته بتقديم تنازلات. وإذا ما تم تقديم مثل هذه التنازلات فلا شك أن ديمقراطية الغرب الفاسدة ستنتشر بشكل أوسع في بلادنا، ما سيؤدي إلى نشر الفساد في كل مكان وزيادة نهب ثرواتنا. خاصة أن أمريكا الآن تتطلع بشرهٍ إلى الموارد المعدنية المهمة في أوزبيكستان. ومن ناحية أخرى فإن النظام الأوزبيكي يعاني من متلازمة العبودية. وعلى ما يبدو من الأسهل عليه أن يكون عبداً لشخص ما من أن يكون حراً ويتخذ قراراته بنفسه! وإن ظن أنه سيرضي أمريكا وأوروبا بقيادة أمريكا وفرنسا وسيرضي روسيا والصين وبريطانيا، فهو لا يدرك أن هذا الأمر مستحيل. ولكن عندما ترى كيف أن هذا النظام يلعب اللعبة القذرة لصالح الدول الاستعمارية ويسبب المعاناة لشعبه فإننا نغضب، لأن شعبنا المظلوم يتضرر في كل الأحوال.

أما عندما تكون سياساتنا الداخلية والخارجية قائمة على أساس الإسلام وتحل مشاكلنا وفق مبادئ الشريعة، عندها فقط تنال أمتنا الإسلامية العزة والقوة والكرامة، وعندها فقط ستنجو من الوقوع فريسة للألاعيب السياسية القذرة للدول الاستعمارية الكافرة. قال الله تعالى: ﴿وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيماً فَاتَّبِعُوهُ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إسلام أبو خليل – أوزبيكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست