هل سيتعلم حكام آسيا الوسطى، وخاصة أوزبيكستان، من انهيار نظام الأسد؟
هل سيتعلم حكام آسيا الوسطى، وخاصة أوزبيكستان، من انهيار نظام الأسد؟

دخلت قوات المعارضة بقيادة هيئة تحرير الشام إلى العاصمة السورية دمشق، وأعلنت الإطاحة بنظام رئيس البلاد بشار الأسد. (Qalampir.uz، 2024/12/08) 

0:00 0:00
Speed:
December 11, 2024

هل سيتعلم حكام آسيا الوسطى، وخاصة أوزبيكستان، من انهيار نظام الأسد؟

هل سيتعلم حكام آسيا الوسطى، وخاصة أوزبيكستان، من انهيار نظام الأسد؟

الخبر:

دخلت قوات المعارضة بقيادة هيئة تحرير الشام إلى العاصمة السورية دمشق، وأعلنت الإطاحة بنظام رئيس البلاد بشار الأسد. (Qalampir.uz، 2024/12/08)

التعليق:

الحمد لله أن نظام الطاغية بشار الأسد سقط بعون الله. كان جحر الفأر يساوي ألف دينار بالنسبة له اليوم. حقا، هذه نهاية كل ظالم، وسيكون الحساب أمام الله أشد وأخزى. ولم تستطع أمريكا ولا روسيا وغيرهما حمايته. وبسقوطه، لم يحتفل المسلمون في سوريا فحسب، بل في كل العالم. ونسأل الله أن يديم الفرحة في سوريا الطيبة، وأن يأذن بقيام دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة، التي ينتظرها جميع المسلمين بفارغ الصبر، والتي ستقوم بتحرير فلسطين من يهود لعنة الله عليهم، ثم كافة البلاد الإسلامية من سيطرة الأنظمة الخائنة وسطوة الدول الكافرة المستعمرة.

على خلفية الأحداث الأخيرة في سوريا، من الطبيعي طرح أسئلة حول كيفية تأثير هذه الأحداث على آسيا الوسطى، وخاصة أوزبيكستان. ولأن هذه المنطقة وأهلها جزء لا يتجزأ من البلاد الإسلامية والأمة الإسلامية، فلا يمكن استبعادهم عن تأثير مثل هذه الأحداث المهمة.

أما النظام الأوزبيكي فلا شك أنه يراقب التطورات في سوريا بقلق بالغ. ورغم عدم صدور أي بيان رسمي في هذا الشأن حتى الآن، إلا أنه يمكن فهم الكثير من الصمت. نعم، سوف يراقب النظام كيف ستسير الأمور بعد ذلك، لأن الوضع في الشرق الأوسط له تأثير كبير على المسلمين في بلادنا، ومن ناحية أخرى، فإن النظام الأوزبيكي يدير السياسة دون مراعاة الاحتياجات الدينية للمسلمين. وليس من المبالغة القول إن أحد العوامل المهمة الأخرى التي أقلقته كانت المشاركة النشطة للمجاهدين الناطقين بالأوزبيكية في الإطاحة بالنظام. وقام العديد منهم بتغطية معارك التحرير هذه بشكل نشط عبر قنواتهم وملفاتهم الشخصية على شبكات التواصل الإلكتروني، حتى انتهت العمليات الجهادية التي بدأت في 27 تشرين الثاني/نوفمبر لتحرير مدينة حلب في سوريا بسقوط نظام الأسد في 8 كانون الأول/ديسمبر. وبطبيعة الحال، لا شك أن مثل هذه الفيديوهات المليئة بالمشاعر الإسلامية، المليئة بالتكبير والتحليل، ستجعل كل مسلم في قلبه إيمان يذرف دموع الفرح وتؤثر بعمق في مشاعره. ومن المؤكد أن مثل هذا الوضع لن يرضي النظام الأوزبيكي. وعلى الرغم من أن هذا النظام لم يرتكب بعد مثل هذه الأعمال الشنيعة ضد المسلمين مثل نظام الأسد، إلا أنه لا يزال ينتهج سياسات ضد الإسلام والمسلمين، وبالتالي يثبت نفسه كنظام غير إسلامي مثل نظام الأسد. ولهذا السبب فإن الشعور بالتحرر من مثل هذه الأنظمة العنيفة سوف ينتشر بطريقة أو بأخرى إلى الشعب المسلم في أوزبيكستان. ولكن من المعلوم للجميع أن النظام الأوزبيكي يبقي بلادنا وشعبنا في حالة متخلفة وضعيفة في جميع النواحي وتجعلهم تابعين للدول الاستعمارية مثل روسيا ودول الغرب المستعمرة. ولذلك ليس غريباً على الإطلاق أن تسعى أمتنا إلى أن تتحرر منها.

إن الأحداث التي تشهدها سوريا، وفلسطين المباركة، سيكون لها تأثير إيجابي على مسلمي بلادنا وتسريع جهودهم للاستيقاظ، فضلا عن إيجاد الوعي السياسي وتنميته. كل هذا سيؤدي في نهاية المطاف إلى قيام دولة الخلافة بإذن الله. وإذا استمر النظام الأوزبيكي في وضع عقبات مختلفة أمام ذلك، فليس هناك ما يضمن أن مصير نظام الأسد لن يصيبه. وبدلاً من ذلك، يتعين عليه أن يتعلم من الأحداث الجارية في الشرق الأوسط. وبعون الله تسير الأمور بشكل متزايد لصالح المسلمين. ولا تزال أمام الدول الاستعمارية الكافرة أيام سوداء، وكذلك الكيان الغاصب. ولن ينقذهم شيء يوم يرتعدون أمام الخلافة؛ عندها ستصبح أمريكا والصين وروسيا وكل من حولها مهووسين بأنفسهم. وحينها، من اعتمد عليهم وتوقع المساعدة منهم، سيحصل على الجواب بأن "كل واحد على حاله" وسيترك للإجابة أمام الخليفة. نعم تتعزى الجبال التي آمنت في ذلك اليوم.

ولذلك، فإن هذه الأنظمة، بما فيها النظام الأوزبيكي، بحاجة إلى أن تعود إلى رشدها قبل فوات الأوان، في حين لا يزال هناك وقت للتحرك نحو الإسلام والمسلمين. وعليه أن يتخلى عن السياسة غير الإسلامية ويتخذ مساراً سياسياً يراعي عقيدة شعبه ومصالحه الأساسية. فلا عجب أن تكون هذه الأعمال مقبولة عند الله ويغفر لهم ما تقدم من ذنبهم. وقد بلّغناه على شهادة الله، وسيكون العاقل من يقبله، وينكره الجاهل.

﴿فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلاَ يَضِلُّ وَلاَ يَشْقَى * وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكاً وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إسلام أبو خليل – أوزبيكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست