هل تحل الصين محل أمريكا في أفغانستان؟
هل تحل الصين محل أمريكا في أفغانستان؟

  الخبر: كارثة أمريكا في أفغانستان وانسحابها في آب/أغسطس جعل الكثيرين يرون أن الصين هي الدولة التي ستملأ الفراغ. للصين مصالح اقتصادية واستراتيجية وأمنية كبيرة في آسيا الوسطى وأفغانستان. تعد روابط النقل التي تعبر ممر واخان جزءاً لا يتجزأ من مبادرة الحزام والطريق الصينية التي تعد ضرورية لقوة الصين المستقبلية. لكن الأسئلة التي تبقى قائمة: هل يمكن للصين أن تحل محل أمريكا حقاً ليس فقط في أفغانستان ولكن في أي مكان في العالم؟

0:00 0:00
Speed:
December 19, 2021

هل تحل الصين محل أمريكا في أفغانستان؟

هل تحل الصين محل أمريكا في أفغانستان؟

(مترجم)

الخبر:

كارثة أمريكا في أفغانستان وانسحابها في آب/أغسطس جعل الكثيرين يرون أن الصين هي الدولة التي ستملأ الفراغ. للصين مصالح اقتصادية واستراتيجية وأمنية كبيرة في آسيا الوسطى وأفغانستان. تعد روابط النقل التي تعبر ممر واخان جزءاً لا يتجزأ من مبادرة الحزام والطريق الصينية التي تعد ضرورية لقوة الصين المستقبلية. لكن الأسئلة التي تبقى قائمة: هل يمكن للصين أن تحل محل أمريكا حقاً ليس فقط في أفغانستان ولكن في أي مكان في العالم؟

التعليق:

على عكس الولايات المتحدة، لم تخض الصين حروباً وفازت بها منذ الحرب العالمية الثانية، الحرب الكورية عام 1951، والحرب مع فيتنام عام 1979، فقد امتنعت الصين عن نشر قواتها خارج حدودها. من منظور ثقافي، لا تقدم الصين الكثير للعالم، في حين إن الولايات المتحدة لديها قوة ناعمة هائلة وقد غزت صادراتها الثقافية جميع جوانب الحياة الحديثة. حتى داخل الصين، من الموضة إلى الموسيقى، تهيمن العلامات التجارية والأذواق الغربية على الشباب الصيني، ما يترك مجالاً صغيراً لتصدير ثقافي صيني مميز، وهذا يقلل من أية جوانب من القوة الناعمة التي يمكن للصين بناؤها. ولهذا السبب، حتى في أفغانستان، تتطلع النخبة الأفغانية إلى الغرب بحثاً عن الإلهام وليس إلى الشرق.

من الناحية السياسية، فإن النفوذ الصيني ضئيل بالقدر نفسه، في حين إن الولايات المتحدة، على الرغم من الازدواجية الكبيرة، تعرض مزايا نظامها السياسي الديمقراطي الليبرالي العلماني والرأسمالي. نظام الحكم الصيني ليس ما يريده أي شخص في العالم. العلاقات الصينية مع أفغانستان نموذجية مثل علاقاتها الأخرى حيث تخلو من أي تأثير ثقافي وسياسي، ويسود الاقتصاد في العلاقات الصينية الأفغانية.

تنعم أفغانستان بالثروة المعدنية الهائلة، والمعادن، والموارد الأرضية النادرة، والهيدروكربونات، والذهب، والفضة، والبلاتين، وخام الحديد، والنحاس، والبوكسيت، والزنك، والليثيوم، وموارد طبيعية أخرى بقيمة محتملة تصل إلى ثلاثة تريليونات دولار مدفونة داخل تضاريسها الوعرة. رواسب الليثيوم وحدها لديها القدرة على تحويل أفغانستان إلى السعودية في عالم الليثيوم.

حتى قبل مغادرة الولايات المتحدة، وباستثناء تكلفة احتلالها لأفغانستان، كانت الصين المصدر الرئيسي للاستثمار الأجنبي المباشر في أفغانستان. في عام 2019 وحده، قُدر الاستثمار الأجنبي المباشر الصيني في أفغانستان بأكثر من 400 مليون دولار. على العكس من ذلك، كان الأمن الذي وفره الوجود الأمريكي هو الذي سهل الاستثمارات الصينية.

مع رحيل الولايات المتحدة، فإن قدرة طالبان على توفير الأمن والاستقرار لأفغانستان والمنطقة الأوسع، وخاصة منطقة تركستان الشرقية المتاخمة لأفغانستان، ستملي الشريحة التالية من الاستثمارات الصينية، والتي قد تشمل استثمارات واسعة النطاق في البنية التحتية لأفغانستان وإدراجاً محتملاً في برامج الحزام والطريق الصينية.

يتآزر منظور طالبان مع منظور الصينيين، بالنسبة لطالبان كشريك اقتصادي غير شرعي.

عندما تحتل الولايات المتحدة شعبا من الشعوب، فإنها غالباً ما تفرض هيمنة كاملة عليهم. تصبح الحياة السياسية والثقافية والاقتصادية لهذه الشعوب تابعة لمصالحها. سوف تملي الولايات المتحدة كلاً من السياسات الداخلية والخارجية لتلك الدولة المحتلة على حساب مصالح تلك الدولة نفسها. علاوة على ذلك، يتم إضفاء الطابع المؤسسي على نفوذ الولايات المتحدة في العديد من المؤسسات الدولية، حيث تهيمن الولايات المتحدة على البنك الدولي وصندوق النقد الدولي والأمم المتحدة وحلف شمال الأطلسي ومجموعة من الهيئات السياسية والاقتصادية الأخرى، ما يعزز نفوذها ويضمن الالتزام بسياستها ومصالحها.

من ناحية أخرى، لا ترغب الصين في توسيع نفوذها إلى ما هو أبعد من الاقتصاد، وهي في الواقع غير قادرة على ذلك. حتى الضمانات الأمنية التي قد تسعى إليها لا تستند إلى قيم مشتركة أو أي نوع من التقارب الثقافي، بل هي نتيجة تقارب المصالح الاقتصادية في الغالب من الشك المتبادل في نية الدول الأخرى، وهذا ينطبق حتى على تلك الدول التي كانت حليفة سابقة للصين، مثل باكستان. إن النفوذ الصيني الناشئ لديه تمثيل مؤسسي دولي ضئيل، وحتى في المنتديات التي تمتلك فيها حق النقض، فإنها غالباً ما تمتنع عن التصويت، بدلاً من المواجهة.

لذا، على الرغم من خروج الولايات المتحدة من أفغانستان، لن يتوقف نفوذها لأن نفوذها السياسي والعسكري والاجتماعي والاقتصادي لا يزال قائماً، والصين لا تقدم شيئاً قد يحل محله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عدنان خان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست