هل تنجح أمريكا بتحويل مطالب أهل سوريا بخلع النظام السوري إلى تسول سياسي وأمني وإنساني!؟ فلسطين نموذجاً
هل تنجح أمريكا بتحويل مطالب أهل سوريا بخلع النظام السوري إلى تسول سياسي وأمني وإنساني!؟ فلسطين نموذجاً

 الخبر:   أعلنت "الهيئة العليا للمفاوضات"، المنبثقة عن المعارضة السورية، التزامها بـ"هدنة مؤقتة لمدة أسبوعين" بموجب الاتفاق الأمريكي الروسي الذي نص على وقف لإطلاق النار في سوريا يدخل ليلة الجمعة السبت حيز التنفيذ.

0:00 0:00
Speed:
February 25, 2016

هل تنجح أمريكا بتحويل مطالب أهل سوريا بخلع النظام السوري إلى تسول سياسي وأمني وإنساني!؟ فلسطين نموذجاً

هل تنجح أمريكا بتحويل مطالب أهل سوريا بخلع النظام السوري

إلى تسول سياسي وأمني وإنساني!؟ فلسطين نموذجاً

الخبر:

أعلنت "الهيئة العليا للمفاوضات"، المنبثقة عن المعارضة السورية، التزامها بـ"هدنة مؤقتة لمدة أسبوعين" بموجب الاتفاق الأمريكي الروسي الذي نص على وقف لإطلاق النار في سوريا يدخل ليلة الجمعة السبت حيز التنفيذ.

وجاء في بيان الهيئة بعد اجتماع عقدته في الرياض: "ترى الهيئة أن هدنة موقتة لمدة أسبوعين تشكل فرصة للتحقق من مدى جدية الطرف الآخر بالالتزام ببنود الاتفاقية"، مشيرة إلى أنها وضعت "جملة من الملاحظات لتأكيد ضمان نجاح الهدنة لأن تطبيق بنود النص المطروح مرهون بتنفيذ المتطلبات الجادة والفعالة لتحقيق الحماية اللازمة للمدنيين السوريين، وتهيئة الظروف المناسبة للسير في عملية سياسية".

التعليق:

لقد نجحت أمريكا بشكل خاص والغرب وروسيا بشكل عام في تحويل قضية فلسطين من قضية إزالة الاحتلال من كافة أرض فلسطين إلى تسول واستجداء للحلول السياسية التي تعطي السلطة الفلسطينية دويلة هزيلة على جزء يسير من فلسطين بعد أن تنازلت عن معظمها لليهود، وتسول للمال واستجداء للحماية من بطش الاحتلال، وكل تحركات وتصريحات ولقاءات رجالات السلطة منذ إنشائها تدل على هذا حتى وصل الحال بالسلطة لاستجداء الأموال من الاحتلال اليهودي كما حصل من وزير المالية الفلسطيني شكري بشارة ، ولن أطيل في الاستدلال على الحال التي وصلت إليه السلطة وقضية فلسطين، ولا ينكره إلا أعمى البصر والبصيرة وهذا لا يحتاج إلى إقناع واستدلال.

وأما على صعيد قضية أهل الشام فإن الثورة قامت ضد النظام الظالم المجرم لخلعه من جذوره، وتنامى الأمر ليطلب أهل الشام إقامة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة ورفعوا لواء رسول الله r الأبيض ورايته السوداء راية العقاب، وقالوا "هي لله"، و"قائدنا للأبد سيدنا محمد" وهذا كان محل إجماع تقريبا من معظم الثوار والفصائل المسلحة إلا قلة منها تسلحت من أمريكا مقابل قتال تنظيم الدولة على أن لا تقاتل النظام.

وأنشأت أمريكا معارضة الفنادق بأسماء وهيئات متعددة وأبدت لهم أنها مع تغيير النظام، ولكن أهل الشام والثوار لفظوهم، فلجأت أمريكا إلى سياسة العصا والجزرة، فهي من جانب استعملت العصا فجعلت النظام وإيران وحزبها في لبنان ثم روسيا يبطشون ويقتلون ويدمرون ويعيثون في الشام الفساد، ومن جانب آخر استعملت الجزرة فجعلت السعودية والأردن وقطر وتركيا يمولون ويسلحون بعض الفصائل ويمنونها بتغيير النظام، حتى انضمت بعض الفصائل إلى معارضة الفنادق العلمانية وشاركوا جميعا في مؤتمر الرياض ثم جنيف واستمر التنسيق بين هذه المعارضة وبين أمريكا حتى بدت ملامح التسول والاستجداء ظاهرة للعيان في تصريحات قادة المعارضة المفاوضة وهي كثيرة من مثل الذي ذكرناه أعلاه "جملة من الملاحظات لتأكيد ضمان نجاح الهدنة لأن تطبيق بنود النص المطروح مرهون بتنفيذ المتطلبات الجادة والفعالة لتحقيق الحماية اللازمة للمدنيين السوريين، وتهيئة الظروف المناسبة للسير في عملية سياسية". وقد أصبح تغيير النظام مغيباً وإن ذكر فيذكر مبهما وعلى استحياء.

لقد مكن انضمام بعض الفصائل المسلحة إلى معارضة الفنادق ومشاركتها في المفاوضات، مكن أمريكا من استعمال لغة التهديد المبطنة والمباشرة لفصائل الثوار وأهل الشام، فتارة تهدد باستمرار القتل والتهجير، وتارة تهدد بتقسيم سوريا كما حصل على لسان كيري مؤخرا بقوله "ربما يفوت الأوان لإبقاء سوريا موحدة إذا انتظرنا فترة أطول".

إن قرار وقف إطلاق النار أو "وقف الأعمال العدائية" المعلن مع استثناء الأعمال القتالية ضد ما أسموه بالجماعات "الإرهابية" كتنظيم الدولة وجبهة النصرة، قرار خطير جدا بل من أخطر القرارات على الثورة السورية لأن معناه الحقيقي أن تتوقف الفصائل المقاتلة عن قتال النظام السوري، بينما يستمر النظام وروسيا وأمريكا والتنظيمات الموالية لهم في قتال التنظيمين "الدولة والنصرة" وأي تنظيم يطالب بتغيير النظام السوري بحجة أنه تنظيم إرهابي، وبالتالي تجهض الثورة السورية ليحصل التغيير الشكلي كما حصل في مصر وتونس واليمن، بل ويزداد النظام بوجهه الحالي أو بوجه جديد بطشا بأهل الشام جميعا دون استثناء ويعاقبون على ثورتهم.

لذلك فإننا ننصح أهل الشام وجميع الفصائل وهو لا يزال هناك متسع من الوقت وقبل فوات الأوان، أن اقطعوا الحبال مع أمريكا والسعودية وقطر والأردن وتركيا ومثيلاتها وتخلوا عن معارضة الفنادق وارجعوا إلى الله الناصر المعز، ووحدوا كلمتكم وجهدكم بأسرع وقت وخوضوا معركة فاصلة مع النظام في دمشق، ولاحقوا فلوله وفلول الروس ليتحقق النصر المبين فيحصل التغيير المنشود وينتهي التدخل الروسي والأمريكي والغربي وأدواتهم في الشام، فتقيموا حكم الله فتحصلوا على عز الدنيا والآخرة، ويومئذ يفرح المؤمنون بنصر الله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

المهندس أحمد الخطيب

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في فلسطين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست