الخبر: في الخامس من آب/ أغسطس 2015م، ذكرت صحيفة فايننشال تايمز أن السعودية عادت إلى سوق السندات لجني 27 مليار دولار بحلول نهاية العام. وأشارت الصحيفة أيضًا إلى أن في هذه الخطوة دلالة واضحة على أن انخفاض أسعار النفط يشكل ضغطا على ميزانية أكبر دولة مصدرة للنفط في العالم. وفي شهر تموز/ يوليو قال فهد المبارك (محافظ مؤسسة النقد العربي السعودي) إن الرياض قد أصدرت بالفعل أول 4 مليارات دولار من السندات المحلية، وأول إصدار سيادي كان عام 2007م، وهذه أحدث الخطط التي تشكل توسعا كبيرا في هذا البرنامج، والذي يعتقد المصرفيون أنه قد يمتد إلى عام 2016م، وذلك نظرا لتوقعات سعر النفط. فهل تجد الرياض نفسها في مثل هذا المأزق في غضون فترة قصيرة؟ التعليق: منذ وقت ليس ببعيد، حينما كان سعر النفط مرتفعا كان الاقتصاد السعودي مزدهرا، ولكن كل ذلك تغير بشكل كبير في غضون 18 شهرا، حيث تواجه البلاد اليوم أزمة ضخمة في ميزانيتها؛ بسبب انهيار أسعار النفط والارتفاع الحاد في الإنفاق العسكري، ما دفع الرياض إلى اللجوء إلى اقتراض المال في محاولة متناقضة منها لسد العجز المالي المتزايد. وقد أحرقت السعودية ما يزيد عن 62 مليار دولار من احتياطاتها من العملة الأجنبية هذا العام، واقترضت 4 مليارات دولار من البنوك المحلية في تموز/ يوليو من هذا العام، حيث أصدرت السندات الأولى عام 2007. ويقدر صندوق النقد الدولي وصول العجز في الميزانية السعودية إلى 20٪ من الناتج المحلي الإجمالي في عام 2015م، وحصول عجز في الموازنة لغاية عام 2020م. وبالنسبة للبلد الذي اعتاد على الفائض المالي، فإن هذا التحول سيكون مؤلما. وتشير تقديرات كابيتال إيكونوميكس أن الإيرادات الحكومية ستنخفض 82 مليار دولار في عام 2015م، أي ما يعادل 8٪ من الناتج المحلي الإجمالي. والمسئول إلى حد كبير عن هذا الضغط هو انخفاض سعر النفط من 107 دولارا للبرميل في حزيران الماضي إلى 44 دولارا في الوقت الراهن، وهو ما يعادل نصف الناتج الاقتصادي للبلاد، و80٪ من الإيرادات الحكومية في صناعة النفط. لقد قررت السعودية في العام الماضي إغراق السوق بكميات زائدة من النفط مما أدى إلى خفض سعره، وقد أضر ذلك القرار بالرياض أكثر مما أضر بمنتجي النفط الصخري في الولايات المتحدة. وإن كان الهدف من القرار هو خنق صناعة الصخر الزيتي في الولايات المتحدة، فإن السعودية قد أساءت التقدير كثيرا، تماما كما أخطأت في الحكم على التهديد المتزايد للصخر الزيتي في كل مرحلة لمدة ثماني سنوات. وقال البنك المركزي السعودي في أحدث تقرير له: "لقد أصبح من الواضح أن المنتجين من خارج أوبك لم يستجيبوا لانخفاض أسعار النفط كما كان متوقعا، وعلى الأقل في المدى القصير"، وأضاف: "إن التأثير الرئيسي هو في تقليل الحفر التنموي لآبار النفط الجديدة، بدلا من تباطؤ تدفق النفط من الآبار الموجودة، وهذا يتطلب المزيد من الصبر". وكان أحد الخبراء السعوديين أشد فظاظة حيث قال: "لم تنجح هذه السياسة، ولن تنجح أبدا". لكن انخفاض أسعار النفط ليس السبب الوحيد لتضرر الاقتصاد السعودي، فقد بدأ المال يتسرب من السعودية بعد الربيع العربي، مع صافي تدفقات رأس المال، ليصل إلى 8% من الناتج المحلي الإجمالي سنويا، حتى قبل انهيار أسعار النفط. ومنذ ذلك الحين تسارعت وتيرة حرق الاحتياطيات الأجنبية، وبلغ ذروته في شهر آب من عام 2014م، حيث وصل حجم الإنفاق إلى 737 مليار دولار، فانخفضت الاحتياطيات إلى 672 مليار دولار في أيار/ مايو 2015م، أي بنسبة 12 مليار على الأقل في الشهر. من خلال دعم الأنظمة في العالم العربي، مثل مصر وتونس، لوقف صعود الإسلام السياسي، ومع التدخل العسكري في سوريا واليمن، فإن هذه المشاريع تستنزف الفائض بمعدل ينذر بالخطر، ثم هناك الإنفاق العسكري، الذي لا يظهر أية علامة على التراجع، وهذه العوامل مجتمعة لم تشكل ضغطا كبيرا على الميزانية المالية فقط، بل أيضا على صندوق احتياطي النقد الأجنبي. ومع ذلك، وعلى الرغم من هذه النظرة القاتمة، فإن الملك سلمان لا يزال ينفق المال بمعدل ينذر بالخطر، وقد بلغت تكلفة شراء الذمم في البلاد وثمن ولائهم 32 مليار دولار، وعطلته الفخمة في فرنسا التي ضمت أكثر من 1,000 من حاشيته كلفته كما هائلا من الأموال. وعلى هذا المعدل، فإن احتياطيات السعودية ربما تصل إلى 200 مليار دولار بحلول نهاية عام 2018م. منذ نشأة السعودية، والقوى الأجنبية والأسرة المالكة السعودية وأنصارها هم المستفيدون الوحيدون من الثروة النفطية، بينما يعيش عدد كبير من السعوديين في فقر مدقع، ونسبة ضئيلة من السكان البالغ تعدادهم 29 مليون نسمة هم فقط من يستفيدون من الأزمة المالية الحالية، فوفقا لمجلة الأغنياء (Wealth Insight)، فإنه بحلول عام 2020م، سوف يكون حوالي 55,245 سعودي من ذوي الملاءة الأكثر ثراء، بدخل يصل إلى مليون دولار، باستثناء إقامتهم الأساسية، ويبلغ عددهم الآن (أي في عام 2015م) 49,150 سعودي. فمثل هذا النظام في الحكم غير دائم، قال الله تعالى: ﴿فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ فِي زِينَتِهِ قَالَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا يَا لَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَا أُوتِيَ قَارُونُ إِنَّهُ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٍ * وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ لِمَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا وَلَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الصَّابِرُونَ * فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ فَمَا كَانَ لَهُ مِنْ فِئَةٍ يَنْصُرُونَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِينَ﴾. إن الأمل الوحيد لأهل الحجاز هو بالعمل لإعادة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، وعندها فقط سوف يتمتع الناس بالثروة التي حباها الله على البلاد. كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرعبد المجيد بهاتي - باكستان
هل تتجه السعودية نحو الإفلاس المالي؟
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست