هل تونس في حاجة إلى شرع الله العادل أم إلى دعم بريطانيا الاستعمارية؟
هل تونس في حاجة إلى شرع الله العادل أم إلى دعم بريطانيا الاستعمارية؟

الخبر: أكد رئيس مجلس نواب الشعب راشد الغنوشي يوم الاثنين 07 حزيران/يونيو 2021، لدى استقباله في قصر باردو، كاتب الدولة البريطاني للخارجية المكلّف بشؤون الشرق الأوسط وشمال أفريقيا، جايمس كليفرلي، "حاجة تونس إلى الدعم البريطاني والوقوف إلى جانبها، لا سيما في هذا الظرف الذي تستعد فيه لمفاوضات جديدة مع صندوق النقد الدولي".

0:00 0:00
Speed:
June 10, 2021

هل تونس في حاجة إلى شرع الله العادل أم إلى دعم بريطانيا الاستعمارية؟

هل تونس في حاجة إلى شرع الله العادل أم إلى دعم بريطانيا الاستعمارية؟


الخبر:


أكد رئيس مجلس نواب الشعب راشد الغنوشي يوم الاثنين 07 حزيران/يونيو 2021، لدى استقباله في قصر باردو، كاتب الدولة البريطاني للخارجية المكلّف بشؤون الشرق الأوسط وشمال أفريقيا، جايمس كليفرلي، "حاجة تونس إلى الدعم البريطاني والوقوف إلى جانبها، لا سيما في هذا الظرف الذي تستعد فيه لمفاوضات جديدة مع صندوق النقد الدولي".


وذكر بلاغ إعلامي للبرلمان، أن الغنوشي دعا إلى ضرورة تعزيز الاستثمار البريطاني في تونس، وتشجيع السياح البريطانيين على الإقبال على الوجهة التونسية، ودفع التعاون التجاري والاقتصادي بين البلدين، وفتح آفاق أمام الطلبة والشباب التونسي في إطار التعاون الجامعي والأكاديمي. وأكد الغنوشي أن تونس تعول، في هذا المجال، "على رصيدها البشري، وأيضا على دعم أصدقائها، وفي مقدّمتهم بريطانيا التي ساندت مختلف مراحل المسار الانتقالي في تونس".


من ناحيته، أكّد كاتب الدولة للخارجية البريطاني المكلف بشؤون الشرق الأوسط وشمال أفريقيا، حسب المصدر ذاته، تقديره لنجاح مسار الانتقال الديمقراطي في تونس، معتبرا أن تونس تعد "نموذجا لنجاح الديمقراطية في العالم العربي". وعبر، وفق نص البلاغ، عن استعداد بريطانيا لدعم تونس في المحافل الدولية ولدى المؤسسات النقدية، خاصة في ظل الوضع الاقتصادي الصعب الذي تمر به. (جريدة الشروق).

التعليق:


إنه لمن المحزن والمخجل أن تستمر بريطانيا في نهب ثروات تونس الطاقيّة وعلى رأسها حقل ميسكار للغاز الطبيعي الذي حصلت عليه بالكامل وبشكل مجاني منذ سنة 1992، ثم يأتي اليوم من يطلب دعمها ووساطتها في التمسح على أعتاب صندوق النهب الدولي للحصول على قرض جديد يغرق البلاد في مزيد من الدّيون ويحرق الناس بنار غلاء الأسعار، مع أن ثروتنا المنهوبة كفيلة بسداد ديوننا الخارجية وزيادة. وما يزيدنا لوعة وحسرة، أن يُطلب هذا الدعم من عدوّة الإسلام والمسلمين الأولى وهادمة دولة الخلافة وزارعة كيان يهود: بريطانيا.


إن بريطانيا التي يعتبرها بعضهم دولة صديقة وداعمة للديمقراطية ويستميت في تبييض جرائمها أو التطبيع معها أو تفضيل حضنها على حضن فرنسا وأمريكا، هي نفسها التي احتفلت بالأمس القريب بالذكرى المئوية لوعد بلفور المشؤوم، وهي من تمارس الوصاية المباشرة على قضية فلسطين كأحد أعضاء اللجنة الرباعية الراعية للسلام المزعوم مع كيان يهود، وهي نفسها من صرح مسؤولوها أكثر من مرّة بأنهم يفتخرون بدورهم في تأسيس كيان يهود، فكيف يُنتظر ممّن باشر تمزيق الأمة الإسلامية إلى أشلاء وشرّد أهل فلسطين، وارتكب أبشع الجرائم إلى جانب أمريكا في العراق وأفغانستان وغيرها، أن يصبح حملا وديعا أو حمامة سلام؟! بل كيف يُطلب دعمها وعونها ويستغاث بمسؤوليها والله سبحانه يقول: ﴿وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ﴾؟! ألم يستمع الغنوشي وأمثاله إلى قوله ﷺ: «لَا تَسْتَضِيئُوا بِنَارِ الْمُشْرِكِينَ»؟!


إن بريطانيا عدوّة محاربة للأمة الإسلامية تتفاخر بدعمها لكيان يهود ولا يلهث وراءها إلا خائن لأمّته، وهي طامعة أصيلة في بلادنا وثرواتنا وحالمة بتدمير ديننا وثقافتنا بل لا تدخر جهدا في تحقيق ذلك. وعليه، فالإجراء الشرعي معها هو اتخاذها عدوّة بدل طلب عونها ومددها، ومن لم يفعل ذلك، سواء تمسح بالديمقراطية أم بالإسلام، فقد أصبح في فسطاط الغرب المستعمر لبلادنا الناهب لخيراتنا المحتل لأرضنا في واقع السياسة. فهل بعد ذلك من خيانة لله ولرسوله وللمؤمنين؟ وهل أكبر من ذلك تفريطا في دماء الذين سقطوا في المعارك مع بريطانيا أو على يد من وعدهم بلفور بالأرض المباركة؟


إن ضباط وجيوش الأمة ممّن جعلتهم بريطانيا مجرد حرّاس لنهب حقول الغاز والنفط في البلاد الإسلامية ومنها تونس، مطالبون شرعا بالتحرك لردّ العدوان البريطاني الغربي الصليبي الحاقد على الأمة الإسلامية والداعم لكيان يهود، لا استجداء الأعداء وطلب عونهم والتمسح على أعتابهم وانتظار وساطتهم مع المؤسسات الربوّية الدولية وكأننا أمة بلا عقيدة ولا دين ولا تاريخ عريق في الحكم والإدارة ولا قدرة لنا على تسيير شؤوننا بمعزل عن تدخل الغرب! وإنه قد آن لرجال الأمة المخلصين أن يتحركوا لاقتلاع عروش الحكام الأقزام الذين جعلوا ثرواتنا وبلادنا وأدمغتنا مطمعا لكل طامع وكلأً مباحا لكل ناهب ولصّ دولي، وأن يقيموا الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة فتحرر الأرض المباركة وتحمل الإسلام رسالة نور وتحرك جيوشها نحو أوروبا العجوز الشمطاء وترفع رايات العقاب عالية على روما كما رفعتها على إسطنبول من قبل تحقيقا لبشارة المصطفى ﷺ... وما ذلك على الله بعزيز.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
المهندس وسام الأطرش – ولاية تونس

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست