هل يجب أن يتقبل المسلمون طبيعة الأزمة؟
هل يجب أن يتقبل المسلمون طبيعة الأزمة؟

الخبر:   تقطعت السبل بأكثر من 100 لاجئ من الروهينجا في آتشيه بإندونيسيا في الساعات الأولى من يوم الأحد 6 آذار/مارس 2022. وقد تقطعت السبل بـ114 من الروهينجا، هم 68 رجلاً و21 امرأة و35 طفلاً، في كوالا موارا راجا، منطقة كوالا، ريجنسي بيروين، آتشيه. وذكرت ريبابليكا في 18 آذار/مارس أن حالة اللاجئين الروهينجا في آتشيه تزداد سوءاً بسبب الإهمال. ...

0:00 0:00
Speed:
March 27, 2022

هل يجب أن يتقبل المسلمون طبيعة الأزمة؟

هل يجب أن يتقبل المسلمون طبيعة الأزمة؟

(مترجم)

الخبر:

تقطعت السبل بأكثر من 100 لاجئ من الروهينجا في آتشيه بإندونيسيا في الساعات الأولى من يوم الأحد 6 آذار/مارس 2022. وقد تقطعت السبل بـ114 من الروهينجا، هم 68 رجلاً و21 امرأة و35 طفلاً، في كوالا موارا راجا، منطقة كوالا، ريجنسي بيروين، آتشيه. وذكرت ريبابليكا في 18 آذار/مارس أن حالة اللاجئين الروهينجا في آتشيه تزداد سوءاً بسبب الإهمال.

التعليق:

مثل هذه المشاهد في القرن الحادي والعشرين هي أشياء شائعة يمكن رؤيتها. بالنسبة للمسلمين في إندونيسيا وماليزيا، فإن حادثة مسلمي الروهينجا الذين تقطعت بهم السبل ليست جديدة. وكالحلقة المفرغة، لم يتوقف دوران حلقة تلو الأخرى من القصة المأساوية لإخواننا وأخواتنا المسلمين، الذين تعرضوا للاضطهاد والطرد من بلادهم.

يا إخواني وأخواتي من مسلمي الروهينجا، اصبروا! وحده الإيمان في القلب والإيمان بالآخرة هما سلاح النجاة من هذا البؤس. يقول الله سبحانه وتعالى: ﴿فَالَّذِينَ هَاجَرُوا۟ وَأُخْرِجُوا۟ مِن دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا۟ فِي سَبِيلِي وَقَٰتَلُوا۟ وَقُتِلُوا۟ لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ثَوَاباً مِّنْ عِندِ اللَّهِ وَاللَّهُ عِندَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ﴾ [آل عمران: 195]

المغفرة والوعد يبقياننا قادرين على الصمود في وجه أية أزمات ومآسٍ. ولكن على مستوى أوسع، يأمرنا الله تعالى أيضاً أن نكافح من أجل التغيير، بدءاً من فهم جذور المشكلة. تنبع هذه الأزمة من ظلم منهجي هائل ومتجذر في الضرر الأساسي الذي أصيبت به الحضارة الإنسانية اليوم. بدأ الظلم من إهمال أحكام الله وتطبيق القوانين الوضعية الدنيوية في بلاد المسلمين.

إن العيش في عالم الرأسمالية يجعلنا نشهد أزمات ومآسيَ لا نهاية لها، تتتابع واحدة تلو الأخرى، في أجزاء مختلفة من الأرض وفي مختلف مجالات الحياة. مع مرور الوقت، أصبحت المأساة طبيعية، وأصبحت الكارثة شائعة! والشيء ذاته يحدث لمسلمي الروهينجا. فقد استمرت أزمة الروهينجا منذ ما يقرب من عقد من الزمان. وجذب مسلمو الروهينجا الانتباه الدولي بعد أعمال الشغب التي اندلعت في ولاية راخين عام 2012 قبل عشر سنوات. وحدثت ذروة مأساتهم في عام 2017 عندما مات ما يقرب من 7000 من مسلمي الروهينجا نتيجة الإبادة الجماعية التي نفذها النظام العسكري في ميانمار بالتواطؤ مع الحركة البوذية الراديكالية في البلاد. لم تنته أزمة الروهينجا بعد، مثل كارما، تشهد ميانمار حالياً أزمة داخلية مطولة بسبب الانقلاب السياسي الذي قام به المجلس العسكري على نتائج الانتخابات الأخيرة التي فازت بجانب أونغ سان سو كي. وقد أفادت جمعية مساعدة السجناء السياسيين أنه منذ الانقلاب في شباط/فبراير 2021، قُتل ما يقرب من 1600 متظاهر وموجود في المكان. وتقدر المفوضية السامية للأمم المتحدة لشؤون اللاجئين، أن 837 ألف شخص قد نزحوا من ميانمار.

لقد أجبرنا هذا النظام العالمي الفاسد على قبول الحالة الطبيعية للظلم والأزمات. هذه الأزمات جعلت المسلمين يعيشون دائماً في وضع محاولة البقاء، وكيف يحافظون على بقائهم على قيد الحياة وسط الأزمات، كجائحة كورونا التي أجبرتنا على العيش في وضع أزماتي طبيعي جديد. لكن نتيجة لذلك فقدت هذه الأمة الإحساس بالظلم واعتادت المأساة تدريجياً باعتبارها شيئا طبيعيا. نعوذ بالله من ذلك!

أدت حدود الدولة القومية أيضاً إلى عزل مسلمي الروهينجا عن إخوانهم المسلمين في بنغلادش وماليزيا وإندونيسيا، بالإضافة إلى مسلمي الإيغور الذين تركهم حكام المسلمين معزولين في ظل الاستبداد الصيني؛ لأنهم أعطوا الأولوية لمصالحهم الاقتصادية الوطنية، هذا غير مئات الآلاف من اللاجئين المسلمين فاقدي الجنسية المطرودين من سوريا والعراق وفلسطين. إنه بالفعل ثمن باهظ لتقسيم الأمة. لقد قسمتنا الرأسمالية والقومية وأضعفتا وجعلتنا كالأيتام على موائد اللئام.

أصبحت حياة المسلمين رخيصة للغاية. حيث قُتل حوالي 12.5 مليون مسلم في الحروب على مدار الـ25 عاماً الماضية، وفقاً لخبير التاريخ رفيق توران الذي تحدث في مؤتمر في إسطنبول عام 2018. ولا يشمل هذا الرقم الإحصائيات الخاصة بمسلمي الروهينجا والإيغور. علاوة على ذلك، مات ملايين المسلمين بسبب الجوع والمرض والهجرة والكوارث التي تسبب بها الإنسان وهي ليست مدرجة في هذه القائمة.

أيها المسلمون، انهضوا! دعونا نتصرف ونتحرك بشكل صحيح. لا تستمروا في الرد على القشور، على المدى القصير أو في الوضع الدفاعي! لا تقبلوا أبدا بجعل المأساة أمرا طبيعيا! عوضا عن ذلك، يجب علينا أن نحارب كل الظلم وأن نعيد نظام الحياة الإسلامي الذي يحمي أرواح وممتلكات وشرف أمة محمد ﷺ. يقول الله تعالى: ﴿إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوْا مَا بِأَنْفُسِهِمْ﴾ [الرعد: 11]

جملة ﴿مَا بِأَنْفُسِهِمْ﴾، لها معنى عميق. ويشمل معناها الأفكار والقيم وروح الإنسان في سياق نهضة الأمة. وهذا يعني أن التغيير لن يحدث أبداً إذا لم يغير الناس وجهة نظرهم وهدفهم من الحياة وفهمهم للمأساة والأزمات. لذلك، غالباً ما نواجه أشخاصاً لا يستطيعون الرد على الظلم لأنهم لا يفهمون ما حدث بالفعل. فهم أقل قدرة على الرد لعدم إدراكهم أن ما جرى ظلم بسبب قلة الثقافة وعمليات التفكير البطيئة.

كان رسول الله ﷺ خير مثال على الكفاح الذي ورّثه لنا؛ من النهضة بروح وفكر المسلمين، إلى النهضة السياسية، فازدهرت الأمة وامتلكت حساسية للظلم. كما أنه ﷺ أوجب على الأمة الاحتكام للشريعة ومنع الانقسام فيما بينها. كما أوجب على أمته العيش تحت قيادة سياسية واحدة (الخلافة). وحرم عليها أن تعيش مفككة تحت أكثر من قيادة سياسية، ناهيك عن الاضطهاد تحت طغيان الأغلبية الكافرة.

لذا فإن الأزمات والمآسي بالنسبة للمسلمين ستكون دائماً حالات شاذة، حتى نتيجة الاستبداد الذي يجتاحهم. يجب أن يتركز كفاح الأمة وتحركها على مهمة إعادة الدرع الضائع للأمة. الدرع الذي سيزيل ظلم الكافرين عن المسلمين ويحمي دماء وأعراض النساء والأطفال المسلمين في جميع أنحاء العالم. إن الخلاص الوحيد للأمة هو عودة الخلافة على منهاج النبوة. قال رسول الله: «إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ» صحيح مسلم.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. فيكا قمارة

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست