هل يقترب النظام الدولي الليبرالي الأمريكي من نهايته؟
هل يقترب النظام الدولي الليبرالي الأمريكي من نهايته؟

الخبر:   توقع صندوق النقد الدولي أسوأ انكماش اقتصادي له منذ الكساد الكبير في الثلاثينات، وقالت كريستينا جورجيفا، المديرة الإدارية لصندوق النقد الدولي "نتوقع أسوأ تداعيات اقتصادية منذ الكساد الكبير". كما ويشارك مفوضية الاتحاد الأوروبي التقييم نفسه حيث يواجه "صدمة لا سابقة لها منذ الكساد الكبير". وتثير مثل هذه التصريحات التحذيرية أسئلة مثيرة للاهتمام حول ما إذا كان الغرب يواجه أزمة اقتصادية هائلة أو ربما أسوأ بكثير مما يظن فيها.

0:00 0:00
Speed:
May 09, 2020

هل يقترب النظام الدولي الليبرالي الأمريكي من نهايته؟

هل يقترب النظام الدولي الليبرالي الأمريكي من نهايته؟

الخبر:

توقع صندوق النقد الدولي أسوأ انكماش اقتصادي له منذ الكساد الكبير في الثلاثينات، وقالت كريستينا جورجيفا، المديرة الإدارية لصندوق النقد الدولي "نتوقع أسوأ تداعيات اقتصادية منذ الكساد الكبير". كما ويشارك مفوضية الاتحاد الأوروبي التقييم نفسه حيث يواجه "صدمة لا سابقة لها منذ الكساد الكبير". وتثير مثل هذه التصريحات التحذيرية أسئلة مثيرة للاهتمام حول ما إذا كان الغرب يواجه أزمة اقتصادية هائلة أو ربما أسوأ بكثير مما يظن فيها.

التعليق:

يتواجه رأي الأغلبية بأن الغرب يواجه اضطراباً اقتصادياً يتراوح ما بين الركود الكبير إلى الكساد الكبير، ويتوقع عدد قليل فقط أنّ تداعيات اقتصادية ستصيب العالم ستتجاوز الكساد العظيم الذي حصل في الثلاثينات من القرن الماضي. ومع ذلك، فإن هناك مجموعة صغيرة، وهي في ازدياد، كانت تشاهد الحضارة الغربية وهي في طريقها إلى التدهور الاقتصادي، هي وهيمنتها في العالم، حتى قبل أزمة الفيروس التاجي.

وفي عام 1997، ذكر المؤرخان ويليام شتراوس ونيل هاو في كتابهما "التحول الرابع" نبوءة أمريكية قالوا إنه في حوالي عام 2008 ستدخل الولايات المتحدة في أزمة ستبلغ ذروتها في عشرينات القرن الواحد والعشرين. ووفقاً لبيتر تورتشين عالم الأنثروبولوجيا التطوري في جامعة كنيتيكت، فإن العالم يمر بنوبات من دورة علمانية كل مائتين إلى ثلاثمائة سنة، حيث يفوق فيه عرض العمالة الطلب ويزداد الفرق في الثراء بين الأغنياء وعامة الناس، وسيتبع ذلك الاقتتال الداخلي بين النخب في المجتمع، ويزداد عدد الفقراء بشكل كبير، وسيدخل المجتمع في مرحلة مدمرة، وسينهار في آخر المطاف. وتحدث تورتشين أيضاً عن دورة أقصر بكثير من 50 عاماً، وهي دورة مدمّرة بالقدر نفسه. وبناءً على دراسته لتاريخ أمريكا، تنبأ تورتشين في عام 2010 بأن الدورة القصيرة القادمة ستحل في عام 2020 ولكنها ستتزامن مع الدورة الأطول، مما سيتسبب في فوضى غير مسبوقة.

طوّر مالك صندوق التحوط الملياردير راي داليو نظرية شبيهة، والتي يفضّل تسميتها بدورة الديون الطويلة. ومن وجهة نظر داليو فقد تحدث بأن هذه الدورة تحصل كل 50 إلى 75 عاماً، وتعرض أربع ميزات بارزة وهي: صعود الابتكار، ونخبة سياسية شديدة الانقسام، والتعاون القليل جداً بين الدول في الخارج، وتحدٍّ صاعد. وقد انتهت دورة الديون الطويلة الأخيرة في عام 1945، بعد أن أثار الكساد الكبير ألمانيا لتحدي النظام العالمي البريطاني، وانتصرت بريطانيا في الحرب، ولكنها خسرت موقعها الدولي لصالح أمريكا، والتي أنشأت سياسة اقتصادية وسياسية جديدة تستند إلى اتفاقيات بريتون وودز. ووفقاً لداليو فإن عام 2020 هو نهاية دورة الديون الطويلة، وستؤدي إلى إعادة هيكلة جذرية للاقتصاد العالمي مع وجود الصين في المقدمة. وقبل وقت طويل من تنبؤ تورتشين وداليو تنبأ أوزوالد سبينجلر في عام 1922 بموت الحضارة الغربية، وأكد أن الغرب دخل موسمه الأخير، أي في الشتاء.

إنّ النظريات السابقة مثيرة للاهتمام، ويجب أن تثير بعض التفكير لدى الناس حول ما يمكن توقعه في ما بعد الفيروس التاجي قبل الوباء بوقت طويل، وكان بإمكان المراقب الذكي تحديد عدة اتجاهات أساسية تهدد النظام العالمي الأمريكي، مثل اتجاهات صعود القومية المفرطة، وتقليص سلاسل التوريد العالمية إلى الشواطئ المحلية، والأنانية محل العولمة، وتقديم العلاقات الثنائية على التعددية، والتفاوت العالمي الشديد في الثروة، خاصة في الاقتصادات المتقدمة، وفشل الأدوات الاقتصادية غير التقليدية مثل عدم الاهتمام بمعدلات الفائدة والبورصة إلى تحفيز النمو الاقتصادي، وارتفاع الديون العالمية، وعدم الثقة في المؤسسات الدولية، وأن القطار قد فات النظام الليبرالي في أمريكا.

قال الله تعالى: ﴿قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي ضَرّاً وَلَا نَفْعاً إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ إِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ فَلَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ﴾، بعض الحضارات ترتفع وتنخفض، بينما تُدمر أخرى بالكامل. وبالمثل، قد تصعد أمة ما لتصبح الدولة الرائدة بسبب ظرف دولي ما ولكن سرعان ما تسقط. والمسلم الواعي هو الذي يتابع الوضع الدولي بجدية، ويفهم الاتجاهات السياسية فيه، ويبحث عن فرص لإعادة الأمة الإسلامية إلى مكانها الصحيح قائدة للبشرية. قال الله تعالى: ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ﴾.

تعرض أزمة الفيروس التاجي فرصة ممتازة لأولئك الذين في السلطة لقلب ميزان القوى ضد القوى الاستعمارية الغربية ولإقامة دولة الخلافة على منهاج النبوة، قال الله تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد المجيد بهاتي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست