هل يستطيع أردوغان إعادة تركيا لعظمتها وقوتها؟
هل يستطيع أردوغان إعادة تركيا لعظمتها وقوتها؟

الخبر:   الجزيرة: كتب ديفد بارشارد - صحفي ومستشار وأستاذ جامعي سابق في تركيا - أن تنصيب رجب طيب أردوغان أول رئيس تنفيذي لتركيا يجعل الأتراك ينظرون بترقب لتغيير غير مسبوق في نظامهم الحكومي منذ نهاية الإمبراطورية العثمانية وإعلان الجمهورية في عام 1923م. تغيير هدفه هو إنشاء آلة إدارية سريعة التحرك يقود دفتها الرئيس شخصيا لضمان مكانة تركيا دولة عظيمة وقوية. وتساءل الكاتب في مقاله بموقع ميدل إيست آي عن إمكانية إعادة أردوغان تركيا لعظمتها وقوتها، وذكر سلسلة من الإجراءات الإدارية والتغييرات التي أحدثها بغية إجراء إصلاحات، وفصل سلطات الوزارات عن البرلمان، بحيث لا يعود ثمة من مساءلة للحكومة (الوزراء) أمام البرلمان.

0:00 0:00
Speed:
July 16, 2018

هل يستطيع أردوغان إعادة تركيا لعظمتها وقوتها؟

هل يستطيع أردوغان إعادة تركيا لعظمتها وقوتها؟

الخبر:

الجزيرة: كتب ديفد بارشارد - صحفي ومستشار وأستاذ جامعي سابق في تركيا - أن تنصيب رجب طيب أردوغان أول رئيس تنفيذي لتركيا يجعل الأتراك ينظرون بترقب لتغيير غير مسبوق في نظامهم الحكومي منذ نهاية الإمبراطورية العثمانية وإعلان الجمهورية في عام 1923م. تغيير هدفه هو إنشاء آلة إدارية سريعة التحرك يقود دفتها الرئيس شخصيا لضمان مكانة تركيا دولة عظيمة وقوية. وتساءل الكاتب في مقاله بموقع ميدل إيست آي عن إمكانية إعادة أردوغان تركيا لعظمتها وقوتها، وذكر سلسلة من الإجراءات الإدارية والتغييرات التي أحدثها بغية إجراء إصلاحات، وفصل سلطات الوزارات عن البرلمان، بحيث لا يعود ثمة من مساءلة للحكومة (الوزراء) أمام البرلمان.

التعليق:

الجواب على التساؤل هو بكل تأكيد، نعم يستطيع أردوغان أن يعيد تركيا لعظمتها وقوتها، والكاتب إذ يدرك أن تركيا كانت عظيمة وقوية، فإنه ولا شك يشير إلى نظام الخلافة الذي حكمت به تركيا وكانت الدولة الأولى في العالم حتى فترة ليست بالبعيدة، وأنها انحطت عن تلك العظمة وتلك القوة بتطبيقها النظام العلماني وهدمها للخلافة، وتفتيت أجزائها على صورة دويلات كرتونية.

نعم يستطيع، على شرط، أن يمد جسور الاتصال الحقيقي بين الدولة وبين الشعب، ويعمل على جسر الهوة بين معتقدات الناس التي استقرت في قلوبهم وعقولهم من أنهم مسلمون، يأمرهم دينهم بتطبيق أنظمة اقتصادية وقضائية وسياسية واجتماعية مبنية على الإسلام، وبين واقعهم الذي يعيشون فيه أنظمة علمانية تحصر الدين في زوايا المساجد، وتقف من الإسلام موقفا مساويا لموقفها من البوذية أو البراهمية أو النصرانية!

نعم يستطيع إنْ مد جسور الاتصال الحقيقي مع الله، فلم يحارب شريعته، ويزج بالعاملين لإقامة الخلافة وإعادة مجد تركيا وعظمتها وقوتها في السجون، فيحكم عليهم على مدار عقد ونصف ما مجموعه 1621 سنة من السجن (انظر: بيان صحفي العقوبات الثقيلة الصادرة بحق شباب حزب التحرير لن تزيدهم إلاَّ إيمانا وتسليما! الجمعة، 08 آذار/مارس 2013م). فكيف ستعود لتركيا عظمتها إن بارزت الله تعالى العداء وحاربت تطبيق شريعته بهذا الشكل المريع؟!

نعم يستطيع، إن استبدل بالنظام الاقتصادي الرأسمالي نظامَ الإسلام الاقتصادي، فليس المهم عند المسلم أن يعيش حياة رخاء في ظل أنظمة تقصي دينه وأحكامه عن حياته، فيكون رخاؤه نتاج اقتصاد قائم على الربا والديون الخارجية والداخلية والسماح بالبغاء وبيع الخمور، والتجارة اللامتناهية مع الكيان الغاصب لأرض الإسراء، وغير ذلك، نعم لا يعد هذا إنجازا، لأن السؤال الكبير وقتها: أين الإسلام؟ لا أين الدولار!

نعم يستطيع، إن قطع أواصر العلاقات مع كيان يهود، تلك العلاقات التي تم تطبيعها، وتوثيقها بتعاون اقتصادي، عسكري فاق فيه كل الحكومات التركية السابقة، مع ذرف كمية هائلة من دموع التماسيح على غزة، وعدوان يهود عليها!

نعم يستطيع، إن مد يد تركيا وأبصارها نحو العالم الإسلامي، ليكون نواة توحيده ووحدته، وإعادة الكيان الذي تم تفتيته، فتكون قوة تركيا مستمدة من امتدادها الإسلامي، ونظامها الرباني، وقوة الأمة الإسلامية الهائلة وثرواتها اللامحدودة، فيقطع بذلك على الغرب كل وسائل نهبهم للعالم الإسلامي وثرواته، ويعيد للأمة مجدها وسؤددها.

نعم يستطيع، إن قطع تآمره مع روسيا، وأمريكا وإيران، ونظام أسد، إذ يتآمرون على المسلمين ويذبحون رجالهم ونساءهم، ويبيدون خضراءهم، وهو يضع الخطوط الحمراء خطا وراء الآخر، ويشتري ذمم قادة فصائل الثورة في الشام ليمكن لنظام أسد، ويمنع التغيير.

ولكن بوصلته متجهة نحو الغرب، وإيمانه اللامتناهي بالعلمانية، والرأسمالية، والعلاقات الصهيو-أمريكية، كل هذا يجعلنا نرى مزيدا من الإغراق لتركيا في منظومة الضعف، والتبعية، لا العظمة والقوة، ولكن أهل تركيا، لن يلبثوا إلا قليلا حتى تنقشع الغمامة عن أعينهم، فينبذوا كل من يحارب دينهم، ولا يرتضون عن ذلك بديلا.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ثائر سلامة – أبو مالك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست