حلب كانت المحطة الأولى، فهل ستكون إدلب المحطة الثانية؟  ما الذي حققه درع الفرات؟
حلب كانت المحطة الأولى، فهل ستكون إدلب المحطة الثانية؟  ما الذي حققه درع الفرات؟

  الخبر: في إطار حقّنا المشروع في الدفاع عن النفس وفقاً للمادة 51 من اتفاقية الأمم المتحدة وهي عملية درع الفرات التي بدأت بالتنسيق مع قوات التحالف في 24 آب/أغسطس 2016، والتي تهدف إلى إسقاط الإرهابيين الموجودين في المنطقة وضمان أمن الحدود ولا سيما أعضاء التنظيم الإرهابي تنظيم الدولة الذي يهدّد أمن بلادنا وشعبنا وقت تمت هذه العملية بنجاح. في إطار حماية أمننا الوطني ووفقاً للخطط التي وضعت لذلك، فإننا نواصل عملياتنا لمنع أي أحداث غير مرغوب فيها مما يسمح للسوريين العودة إلى بلادهم وضمان الأمن والاستقرار في المنطقة، إننا نحترم الشعب. (موقع القوات المسلحة التركية)

0:00 0:00
Speed:
April 08, 2017

حلب كانت المحطة الأولى، فهل ستكون إدلب المحطة الثانية؟ ما الذي حققه درع الفرات؟

حلب كانت المحطة الأولى، فهل ستكون إدلب المحطة الثانية؟

ما الذي حققه درع الفرات؟

(مترجم)

الخبر:

في إطار حقّنا المشروع في الدفاع عن النفس وفقاً للمادة 51 من اتفاقية الأمم المتحدة وهي عملية درع الفرات التي بدأت بالتنسيق مع قوات التحالف في 24 آب/أغسطس 2016، والتي تهدف إلى إسقاط الإرهابيين الموجودين في المنطقة وضمان أمن الحدود ولا سيما أعضاء التنظيم الإرهابي تنظيم الدولة الذي يهدّد أمن بلادنا وشعبنا وقت تمت هذه العملية بنجاح.

في إطار حماية أمننا الوطني ووفقاً للخطط التي وضعت لذلك، فإننا نواصل عملياتنا لمنع أي أحداث غير مرغوب فيها مما يسمح للسوريين العودة إلى بلادهم وضمان الأمن والاستقرار في المنطقة، إننا نحترم الشعب. (موقع القوات المسلحة التركية)

التعليق:

درع الفرات التي بدأت بالتنسيق مع قوات التحالف بقيادة أمريكا في 24 آب/أغسطس 2016، تم الإعلان عن انتهائها في 31 آذار/مارس 2017، حيث أكدت هيئة الأركان العامة اكتمال العملية بنجاح في بيان لها. وبالطبع فإن السؤال القائم هو ما نوع الإنجازات التي حققتها درع الفرات استراتيجياً وعسكرياً وسياسياً؟ ومن ناحية أخرى فإنه وبحسب تصريحات رئيس الأركان العامة والرئيس أردوغان ورئيس الوزراء بن علي يلديرم علم أن العملية التي تمت تحت اسم "درع الفرات" انتهت. وأضاف الرئيس أردوغان: "في سوريا انتهينا من المرحلة الأولى وسنطلق اسماً جديداً على العمليات القادمة، وهناك مفاجأة جميلة جداً للإرهابيين في الربيع".

والسبب الظاهر لبداية عملية درع الفرات هو أعمال تنظيم الدولة في غازي عنتاب، مع ذلك فإنه قبل العمل الإرهابي كان قد تم اختيار جناح هيوبر في طرابيا للقيام بعملية، لذا حتى لو لم يكن هناك أي عمل إرهابي فإن العملية كانت ستبدأ. لذا بات مفهوما لماذا بعض الناس خففوا أعباء العمل على تركيا، مما ساعدها على بدء العملية.

عندما بدأت العملية تم توضيح سببين لها: أولاً لإزالة تنظيم الدولة من الحدود التركية، وثانياً لضمان خط عزيز جرابلس وهو القسم الوحيد الصغير الذي لا يسيطر عليه حزب الاتحاد الديمقراطي ووحدات حماية الشعب في تركيا، والاندماج مع الأقاليم الأخرى.

وكان أحد الهدفين السياسيين إزالة تنظيم الدولة من الحدود التركية لزيادة السيطرة على الحدود وقد تم تحقيق هذا الهدف، لذا احتفل تيلرسون بنجاح تركيا، وليس صحيحاً أن الهدف الثاني لم يتحقق حيث تم منع التجمع على الحدود في الوقت الراهن، مع ذلك تم تأسيس شبكة مونيبك عفرين على حلب.

هناك هدفان أعلن عنهما للناس في عملية درع الفرات، ولكن في الحقيقة فإن القوى التي سمحت لتركيا بدخول سوريا قد كلفتها بمهمة مختلفة. فتركيا دخلت سوريا بموافقة أمريكا وإيران والنظام السوري، كما وافقت روسيا على ذلك بعد تطبيع العلاقات بطريقة مذهلة. وعندما سقطت حلب قال بوتين: "هناك أمور في حلب نتفق عليها تماماً، وهي أنه لدينا اتفاق مع رئيس تركيا عندما زار سانت بيترسبورغ"، لذلك إن كان هناك شيء قد حدث مع عملية درع الفرات فهو أنه "مع سقوط حلب تم تخفيف أعمال النظام".

في هذه الحالة هل سيساعد الرئيس أردوغان في سقوط إدلب في المرحلة الثانية؟

ما كانت تأمله تركيا من أوباما ولم تحصل عليه، وهو ما ستنتظر وقتاً طويلاً للحصول عليه من ترامب هو وضع خطة لسوريا. والخطة التي ستأتي لن تتغير فسوف تكون عملية الرقة إلى جانب حزب الاتحاد الديمقراطي، كما طلب من تركيا المشاركة في هذه العملية. وعلى الرغم من أن أمريكا كانت تهين تركيا في الرأي العام، وعلى الرغم من أنها مستمرة في دعم الهياكل التي تعتبرها تركيا "منظمات إرهابية" إلا أن تركيا لم تعترض على ذلك أبداً.

عملية درع الفرات كانت عملية محدودة وبالتعاون مع القوات الدولية وانتهت عندما وصلت إلى الحد الذي رسمته لها القوات الدولية. وقد دعمت كل من روسيا وأمريكا عملية درع الفرات ولكن كلاً من النظام وحزب الاتحاد الديمقراطي لم يسمحا بوجود صراع. لذلك لم تكن درع الفرات انتصاراً بل هي إعداد ضد حلب وثوار سوريا المخلصين.

لذلك لا يمكن ذكر أي نجاح سياسي أو استراتيجي حققته تركيا من عملية درع الفرات. ولم تعد تركيا بحاجة إلى إخفاء وجهها الحقيقي بأن تقول ما قالته سابقاً وتظهر عكسه اليوم.

الآن ستدعم إما عملية الرقة التي ستقوم بها أمريكا مع حزب الاتحاد الديمقراطي، أو عملية إدلب التي ستنفذها روسيا مع حزب الاتحاد الديمقراطي أو ستواصل التعاون مع القوات الدولية بتقديم الدعم أو بالبقاء صامتةً. سوف تستخدم أمريكا القوة الناعمة لتركيا ضد الثوار للعلب لعبة شبيهة بحلب ولكن في إدلب. لذلك يجب على الشعب السوري أن يبقى متيقظاً للدولة التركية التي يرونها بأنفسهم لأن خطرها عليهم أكبر من خطر العدو...

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عثمان يلديز

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست