حلب لم تسقط ولكن أقنعتكم هي التي سقطت بحمد لله (مترجم)
حلب لم تسقط ولكن أقنعتكم هي التي سقطت بحمد لله (مترجم)

الخبر: تحدث الرئيس أردوغان مع الرئيس الروسي فلاديمير بوتين عبر الهاتف. وتناولا موضوع وقف إطلاق النار الذي سيتم طرحه للتأثير هذه الليلة، وعملية أستانا. في البيان المحرز في هذا الموضوع قال المتحدث باسم الرئاسة، كالين: "إن وقف إطلاق النار، بطبيعة الحال، لا يشمل المجموعات التي ينظر مجلس الأمن إليها في الأمم المتحدة كمنظمات إرهابية. هذا النظام يهدف إلى نشر وقف إطلاق النار المحافظ عليه في حلب إلى مناطق أخرى، لتأمين حركة الناس ولإحياء العملية السياسية".

0:00 0:00
Speed:
January 04, 2017

حلب لم تسقط ولكن أقنعتكم هي التي سقطت بحمد لله (مترجم)

حلب لم تسقط ولكن أقنعتكم هي التي سقطت بحمد لله

(مترجم)

الخبر:

تحدث الرئيس أردوغان مع الرئيس الروسي فلاديمير بوتين عبر الهاتف. وتناولا موضوع وقف إطلاق النار الذي سيتم طرحه للتأثير هذه الليلة، وعملية أستانا. في البيان المحرز في هذا الموضوع قال المتحدث باسم الرئاسة، كالين: "إن وقف إطلاق النار، بطبيعة الحال، لا يشمل المجموعات التي ينظر مجلس الأمن إليها في الأمم المتحدة كمنظمات إرهابية. هذا النظام يهدف إلى نشر وقف إطلاق النار المحافظ عليه في حلب إلى مناطق أخرى، لتأمين حركة الناس ولإحياء العملية السياسية".

التعليق:

لن أستعرض خيانة ورياء قادة تركيا لحلب، ولن أتناول الجبن والتردد من الجيش التركي. ولكنني سأستعرض وسائل الإعلام التركية المنزوعة الحساسية وغير المبدئية التي لا يوجد لديها أساس. وسوف أستعرض قصر نظر وتقلب المنظمات غير الحكومية والقادة أصحاب القرار في حلب. فللإعلام والمنظمات غير الحكومية وأصحاب القرار مسؤولية كبيرة لتقديم المسؤولين للمساءلة.

وسائل الإعلام في تركيا تروج للجمهور أخبارا كالتي ذكرتها للتو أعلاه ومشتقاتها لتحقيق أردوغان نصرا دبلوماسيا. وليس فقط وكالات الأنباء المملوكة للدولة أو الإعلامية المقربة من حكومة حزب العدالة والتنمية ورجب طيب أردوغان. فأيضا وسائل الإعلام اليسارية والعلمانية الكمالية مدحت أردوغان على الدبلوماسية التركية-الروسية في سوريا. وهو مشهد في الواقع نادر جدا في تركيا وهو توافق وكالات الأنباء المملوكة للدولة والإعلامية المقربة من الحكومة، مع وسائل الإعلام الكمالية العلمانية اليسارية. الآن وسائل الإعلام الكمالية العلمانية اليسارية ووسائل الإعلام المحافظة تستخدم اللغة نفسها بخصوص حلب وسوريا. هدفهم هو عدم الحصول على الأخبار ووصول الحقيقة إلى الناس. بل غرضهم الوحيد هو المشاركة بالاستمتاع ببطولة أردوغان الوهمية.

فهذا الإعلام أظهر أردوغان بطلا عندما أطلق النار على مقاتلة روسية فى تشرين الثاني/ نوفمبر عام 2015، وعندما قال "ما هو شأن روسيا في سوريا"، والآن، يعلنونه بطلا أولا لأنه ترك حلب للنظام، والآن لأنه يدير العملية الدبلوماسية للتخلي عن كل سوريا للنظام. أعلن عن أردوغان بطلا عندما قال بأنه لن يسمح بمجزرة حماة أخرى، وقيل عنه أيضا بأنه بطل عندما صمت أذناه وعميت عيناه عن نداءات الاستغاثة من أهل حلب وسوريا. كما أنه كان بطلا عندما بدأت عملية درع الفرات وقال "لقد دخلنا جرابلس لأن الشعب المظلوم دعانا"، ولكن عندما دعاه أهل حلب، لم يتحرك بوصة واحدة، وأصبح بطلا مرة أخرى عندما دعا أهل حلب للمغادرة. في حين إن أردوغان لم يعط الأمر بإسقاط المقاتلة الروسية ولا هو يسيطر على الحركة الدبلوماسية السورية المشتركة بين روسيا وتركيا. ولا حتى قرار دخول جرابلس وإخلاء حلب ينتمي إلى أردوغان...

الآن دعونا نلقي نظرة على دور المنظمات غير الحكومية وقادة الرأي في صناعة البطل. لقد حذر الرئيس أردوغان فتح الله غولن، عندما علق على قول أمريكا بأنه "كان ينبغي أخذ إذن من السلطات"، مبينة بأنه كان ينبغي أخذ الإذن من كيان يهود، بعد وقوع حادث مافي مرمرة وقال: "إذا كان هناك سلطة فهي نحن واتخذ الإذن منا". والآن، اسمح لي بأن أذكرك أيها الغاضب أردوغان، والكلمات التي تهدد بصراحة الـ IHH (مؤسسة حقوق الإنسان والحريات والإغاثة الإنسانية) والمنظمات غير الحكومية بعد بدء المفاوضات مع كيان يهود. قال لـ IHH التي اعترضت على شروط حادث مافي مرمرة في الاتفاق بين تركيا وكيان يهود، وإن كان ذلك بمهارة: "هل تنتظر حتى نسأل رئيس الوزراء في ذلك الوقت لشحن هذه الإغاثة الإنسانية؟" لاحظ، بأن كلا التصريحات تنتمي إلى أردوغان، لكنه تمت الإشادة به من قبل المنظمات غير الحكومية وقادة الرأي بعد كل من تصريحاته على أي حال. لو تم جلب كلمات أردوغان هذه للحساب ذلك اليوم من قبل جميع قادة الرأي العام الإسلامي والمنظمات غير الحكومية، لما تركت دماء المسلمين على الأرض للعلاقات الدبلوماسية ولما سقطت حلب من خلال خيانة تركيا. أقول بأن حلب لم تكن لتسقط لولا المنظمات غير الحكومية وقادة الرأي الذين لديهم دور في سلوك أردوغان المرتخي تجاه سوريا وحلب، وجلوسه على طاولة المفاوضات مع روسيا وإيران لخدمة خطة الولايات المتحدة في حل المشكلة وحتى ابتداؤه بلقاء النظام من خلال المؤسسات الحكومية. لأنها لم تأت لحساب أردوغان والحكم عليه. بقوا صامتين بقولهم بأن الرجل يعرف ما هو الأفضل. للأسف فهم لا يعرفون بأنه ليس هناك شهرة وسلطة وقدرة أكبر وأوسع من قوة الله وحكمته ورحمته.

دماء شهداء مافي مرمرة تركت على الأرض وعملهم الذي يعتبر من فعل الرجال أصبح شيئا من الماضي. فالأقنعة تتساقط والمسلمون الآن يرون الوجوه الحقيقية.

ربما سقطت حلب ولكن الحمد لله أقنعة القادة سقطت أيضا. فالمسلمون في البلاد الإسلامية من الآن فصاعدا، لن يذكروا أردوغان، إلا وسوف يتذكرون خيانته لحلب. فهم لن يتذكروا غضب أردوغان ضد بوتين. بل سيتذكرون غضبه ضد ضابط الشرطة مولود الذي أجج قلوب المسلمين.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمود كار

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية تركيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست