حملات تطعيم الأطفال هي حملات إبادة وتشويه منظمة ضد الأمة الإسلامية
حملات تطعيم الأطفال هي حملات إبادة وتشويه منظمة ضد الأمة الإسلامية

الخبر: وزارة الصحة السودانية تقر بوفاة أطفال نتيجة خطأ في تحضير جرعة لقاح "الحصبة" (سودان تربيون، 2025/8/14م).

0:00 0:00
Speed:
August 19, 2025

حملات تطعيم الأطفال هي حملات إبادة وتشويه منظمة ضد الأمة الإسلامية

حملات تطعيم الأطفال هي حملات إبادة وتشويه منظمة ضد الأمة الإسلامية

الخبر:

وزارة الصحة السودانية تقر بوفاة أطفال نتيجة خطأ في تحضير جرعة لقاح "الحصبة" (سودان تربيون، 2025/8/14م).

التعليق:

لقد تواترت أخبار الآثار الكارثية لما يسمى بتطعيم الأطفال حيث القتل والتشويه ثم تخرج وزارات الصحة في بلاد المسلمين مبررة ذلك بأنه كان بسبب خطأ في التخزين أو خطأ فرديا قام به بعض الكوادر المنفذة لهذه الحملات!

ولكن في حقيقة الأمر تشير الإحصاءات إلى أن الأمر أخطر من ذلك، فهي كارثة حقيقية تقف وراءها جهات تتربص بأمة الإسلام.

فقد نشرت صحيفة الشرق الأوسط بتاريخ 2017/6/2م: (لقي 15 طفلاً حتفهم في جنوب السودان نتيجة تلقيهم تطعيمات فاسدة ضد الحصبة (رويترز).. حسبما أعلنت وزارة الصحة ومنظمة الصحة العالمية وصندوق الأمم المتحدة للطفولة (يونيسيف) اليوم (الجمعة).. ووقعت الوفيات في قرية ناتشودوكوبل النائية حيث جرى تطعيم نحو 300 شخص.. ووجد تحقيق دعمته الصحة العالمية ومنظمة يونيسيف أن الأطفال توفوا جراء تسمم حاد ناتج عن إعطاء لقاح ملوث، بحسب بيان).

ونشرت الجزيرة نت بتاريخ 2024/5/20م نقلا عن مجلة لوفيغارو الفرنسية تفاصيل مثيرة بشأن إصابة آلاف الأطفال بالإيدز في باكستان.. (قالت مجلة لوفيغارو الفرنسية إن تحقيقا في منطقة راتوديرو الباكستانية أظهر أن مرض نقص المناعة البشرية المكتسب (الإيدز) ينتشر بشكل غامض منذ بداية عام 2019، حيث أصيب آلاف الأطفال بالعدوى.. وبدأ كل شيء - حسب المجلة - في بداية عام 2019، عندما قام طبيب المسالك البولية عمران أرباني بفحص أطفال تشير أعراضهم إلى إصابتهم بفيروس الإيدز، لتؤكد الاختبارات إصابة عديد ممن تقل أعمارهم عن 5 سنوات ولم يكن آباؤهم مصابين بفيروس نقص المناعة البشرية، ما حير الطبيب...).

وقد تابع كل العالم افتضاح وانكشاف الجريمة القذرة التي سميت بقضية أطفال الإيدز التي شغلت الرأي العام في ليبيا وفي كل العالم منذ نهاية عام 1998 عندما أوقفت 5 ممرضات بلغاريات، واستجوبن للاشتباه بتورطهن في حقن 393 طفلا ليبيا بفيروس الإيدز في مستشفى الفاتح في بنغازي.. وفي العام التالي، وُجّه لهن، اتهام بتعمد حقن الأطفال بفيروس الإيدز لزعزعة استقرار الجماهيرية، ليصدر بعدها بأربعة أعوام حكم قضائي بإعدامهن رميا بالرصاص، تم تأكيده مجددا عام 2006م. إلا أن الوساطة الأوروبية تدخلت مطلع عام 2007م مع انتخاب نيكولا ساركوزي لرئاسة فرنسا، وتصويت البرلمان الأوروبي بأغلبية ساحقة على دعم قضية الممرضات. وأثمرت المفاوضات التي قادتها المفوضة الأوروبية بينيتا فيريرو فالدنر، والتي أسهمت فيها فرنسا وقطر بفعالية، اتفاقا يوم 24 حزيران/يونيو 2007م على إقفال الملف بإطلاق سراح الممرضات اللواتي خفف القضاء الليبي عقوبتهن إلى السجن المؤبد، وكذا الطبيب الفلسطيني الذي منحت له الجنسية البلغارية، على أن يقضوا باقي العقوبة في سجون بلغاريا!

هكذا ترتكب الجرائم في بلادنا في حق أطفالنا وأعراضنا.. وهكذا يتواطأ حكامنا القابضون الرشاوى القذرة من منظمات الصحة والطفولة ذات النفوذ للدول الاستعمارية الحاقدة على ديننا وهويتنا، وإعدام أطفالنا أمام أعيننا.. وهكذا يفلت المجرمون من العقاب!

هذه الأحداث على سبيل المثال لا الحصر، وما خفي أعظم.. فقد التقيت بمدير قسم الشريعة الإسلامية في جامعة أحمد بيلو في نيجيريا عام 2014م ومعه عدد من العلماء المسلمين في نيجيريا وأساتذة جامعات وأئمة مساجد وقد دشنوا حملة لمناهضة تطعيم الأطفال المسلمين في نيجيريا خاصة ما يسمى بشلل الأطفال. وكان مما قاله لي في مكتبه أنهم قاموا بدراسة وافية لحملات التطعيم وجدوا أنها إما تستخدم الأطفال كفئران تجارب لتجربة العقاقير الطبية الجديدة، وإما لحقنهم بفيروس الإيدز أو بهرمون الإنجاب، وخطورة الحقن بهرمون الإنجاب حتى يعتبره الجسم منذ الصغر أنه عدو يجب مهاجمته ما يعني أن مناعة الجسم ستهاجم الهرمون عند إنتاجه طبيعيا عند البلوغ ما يجعل هذا الشخص عقيما. وكان مما قاله إنهم أرسلوا عينتين من مثل شلل الأطفال إلى معملين مختلفين أحدهما في لندن والآخر في الهند وجاءت النتائج أن أحد المصابين فيه هرمون الإنجاب ضعيف، والثاني فيه فيروس الإيدز.

العجيب أن هؤلاء العلماء جزاهم الله خيرا تحدوا الدولة أيام الرئيس جودلاك جوناثان ولم تستطع الدولة تكذيب حججهم!

هذه الجرائم ترتكب بكل سهولة في بلادنا بل وبمعاونة حكامنا المتواطئين لأننا أصبحنا بعد هدم الخلافة بلا راع ولا حام يدافع عنا، قال النبي ﷺ «الْإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»، وأكد هذه الحماية للمسلمين بوجود دولة الإسلام بقوله ﷺ: «الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ».

لن تتوقف جرائم الدول الاستعمارية ومنظماتها في بلادنا إلا بإقامة الدولة التي تقهر الأعداء وتردع المجرمين؛ دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، فبها وحدها المخرج والخلاص فأقيموها أيها المسلمون تنالوا بذلك شرف الدنيا والآخرة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد جامع (أبو أيمن)

مساعد الناطق الرسمي لحزب التحرير في ولاية السودان

More from null

غزہ میں جنگ بندی، خون اور ملبے سے ایک نئی حقیقت کی تیاری کا پردہ

غزہ میں جنگ بندی، خون اور ملبے سے ایک نئی حقیقت کی تیاری کا پردہ

خبر:

الجزیرہ کی ایک تحقیق جس میں مصنوعی سیاروں کی تصاویر کے تجزیے پر انحصار کیا گیا ہے، سے پتہ چلتا ہے کہ 10 سے 30 اکتوبر کے درمیان غزہ میں قابض فوج نے تباہی کے منظم نمونوں پر عمل کیا۔

الجزیرہ نیٹ ورک کی خبروں کی تصدیق کرنے والی ایجنسی "سند" نے جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد سے سیکٹر کے اندر قابض فوج کے ذریعے کی جانے والی انجینئرنگ کے ذریعے تباہی، مسماری اور بھاری فضائی بمباری کی کارروائیوں کی نگرانی کی ہے۔ (الجزیرہ نیٹ)

تبصرہ:

ٹرمپ کی سرپرستی میں اور بعض عرب ممالک کے ساتھ معاہدے کے تحت غزہ کی پٹی پر بارودی سرنگوں سے بھری جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد، یہ واضح تھا کہ یہ معاہدہ یہود کے مفاد میں کیا گیا تھا۔ اور یہ بات مصنوعی سیاروں کی تصاویر کے تجزیوں اور جدید خبروں کی رپورٹوں کے مطابق ثابت ہوئی ہے کہ یہودی فوج نے غزہ میں ہزاروں عمارتوں کو مسمار کر دیا ہے، خاص طور پر شجاعیہ، خان یونس اور رفح میں، ان علاقوں میں جو اس کے زیر کنٹرول تھے اور مشرقی علاقوں میں جہاں بڑے پیمانے پر اراضی کو ہموار کرنے کی کارروائیاں کی گئیں۔

غزہ میں مکمل تباہی اتفاقی نہیں ہے، بلکہ اس کے دور رس اسٹریٹجک مقاصد ہیں، جیسے مزاحمت کے گڑھ کو تباہ کرنا، غزہ کو اس کے بنیادی ڈھانچے، اسکولوں اور رہائش گاہوں سے خالی کرنا، مزاحمت کے لیے خود کو دوبارہ منظم کرنا یا اپنی صلاحیتوں کو دوبارہ تعمیر کرنا مشکل بناتا ہے۔ یہ امکانات کو تباہ کرکے اور ایک نئی حقیقت کو مسلط کرکے ایک طویل مدتی رکاوٹ ہے جو غزہ کو ختم کردیتی ہے اور اسے معاشی طور پر مفلوج اور رہنے کے لیے ناقابل بنادیتی ہے، اس طرح کسی بھی سیاسی یا سیکورٹی حل کو قبول کرنے کی راہ ہموار ہوتی ہے یا یہاں تک کہ ہجرت کے خیال کو بھی قبول کرنے کی، کیونکہ غزہ کو ملبہ چھوڑنا، اس کی تعمیر نو کو اس کے باشندوں کے ہاتھوں میں اکیلے کرنا مشکل بناتا ہے، بلکہ ممالک اور تنظیمیں سیاسی شرائط کے ساتھ مداخلت کریں گی، اور قابض جانتا ہے کہ جو تعمیر نو کرتا ہے وہ فیصلہ کن ہوتا ہے۔ آج کی تباہی کل کے سیاسی کنٹرول کے بدلے ہے!

درحقیقت، غزہ پر جنگ بندی کے معاہدے کو "بارودی سرنگوں سے بھرا ہوا" قرار دینا فضول نہیں تھا، کیونکہ یہ جزوی تھا، اور اس سے قیاس شدہ فوجی مقاصد مستثنیٰ تھے، جس سے یہود کو سیکیورٹی کے بہانے حملے اور تباہی جاری رکھنے کی اجازت ملتی ہے۔ نیز، یہ معاہدہ ریاست کی سب سے بڑی حامی ریاست نے مضبوط بین الاقوامی ضمانتوں کے بغیر کیا تھا، جو اسے کمزور اور خلاف ورزی کے قابل بناتا ہے، خاص طور پر بین الاقوامی احتساب کی عدم موجودگی میں جو یہودی ریاست کو احتساب سے بالاتر بناتی ہے۔

ہم کب تک ایک عاجز، محکوم اور کمزور، تھکے ہوئے، کھوئے ہوئے اور بھوکے لوگوں کو دیکھنے والے تماشائی بنے رہیں گے؟! اور اس سب کے اوپر، ہر وقت اجازت دی جاتی ہے؟! آئیے ہم سب صلاح الدین ایوبی بنیں، غزہ آج امت کو یاد دلاتا ہے کہ صلاح الدین صرف ایک بہادر شخص نہیں تھے، بلکہ ایک ایسی ریاست میں ایک رہنما تھے جو ایک منصوبہ رکھتی تھی، ایک فوج رکھتی تھی اور اس کے پیچھے ایک امت تھی۔ اس لیے صلاح الدین بننے کی دعوت کا مطلب انفرادی بہادری نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی ریاست کے قیام کے لیے کام کرنا ہے جو امت کے تمام بیٹوں کو ایک جھنڈے تلے ایک صف میں سپاہی بنائے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے نہیں لڑتے﴾۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

منال ام عبیدہ

عبد الملک الحوثی اپنے مال اور اپنے باپ کے مال سے عطیہ نہیں کرتے!

عبد الملک الحوثی اپنے مال اور اپنے باپ کے مال سے عطیہ نہیں کرتے!

خبر:

یمن صنعاء چینل نے بدھ کی شام 2025/11/12 کو انسانی پروگرام "میرا وطن" نشر کیا۔ "ہم آپ کے ساتھ ہیں" کے حصے میں، پروگرام میں ایک ایسی خاتون کی حالت کا جائزہ لیا گیا جو ایک نادر بیماری میں مبتلا ہوگئی تھی اور اسے 80 ہزار ڈالر کی لاگت سے ہندوستان جانے کی ضرورت تھی، جہاں انجمنوں اور فلاحی کارکنوں کی طرف سے 70 ہزار ڈالر جمع کیے گئے، تاہم پروگرام کے میزبان نے دس ہزار ڈالر کے آخری عطیہ دہندہ کی تعریف میں بہت زیادہ وقت صرف کیا تو پتہ چلا کہ وہ عبد الملک الحوثی ہیں، اور انہوں نے پروگرام میں نظر آنے والے انسانی حالات کی حمایت میں ان کے بار بار کردار کو سراہا۔

تبصرہ:

اسلام میں حکمران کی ذمہ داری بہت عظیم ہے، اور وہ لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال کرنا ہے، اس طرح کہ ان کے مفادات پر خرچ کیا جائے اور ان کے آرام کے لیے سب کچھ مہیا کیا جائے، لہذا وہ اصل میں ان کا خادم ہے، اور جب تک وہ ان کے حالات سے مطمئن نہیں ہو جاتا، اسے آرام نہیں ملتا، اور یہ کام کوئی احسان یا فضل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک شرعی فریضہ ہے جو اسلام نے اس پر لازم کیا ہے، اور اگر وہ اس میں غفلت برتے تو اسے کوتاہی کرنے والا سمجھا جائے گا، اور اسلام نے امت پر لازم کیا ہے کہ وہ کوتاہی کی صورت میں اس کا محاسبہ کرے، جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فَالْإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»، اس لیے یہ سطحی سوچ ہے کہ ہم حکمرانوں یا ریاست کی طرف سے بعض ضروریات کی طرف توجہ دینے پر خوش ہوں اور اسے انسانی عمل قرار دیں، جب کہ یہ اصل میں ایک رعایتی عمل ہے جو واجب ہے۔

سب سے خطرناک تصورات میں سے ایک جو سرمایہ داری اور دنیا میں اس کی حکمرانی نے راسخ کیے ہیں وہ یہ ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہو جائے اور لوگوں کی دیکھ بھال ان فلاحی اداروں اور انجمنوں پر چھوڑ دے جن کی سربراہی افراد یا گروہ کرتے ہیں اور لوگ عام طور پر ان کی مدد کرنے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ان کی طرف رجوع کرتے ہیں، انجمنوں کا خیال سب سے پہلے یورپ میں عالمی جنگوں کے دوران سامنے آیا، جہاں بہت سے خاندان اپنے کفیل کھو بیٹھے اور انہیں کسی سرپرست کی ضرورت تھی، اور جمہوری سرمایہ دارانہ نظام کے مطابق ریاست معاملات کی دیکھ بھال کرنے والی نہیں ہے، بلکہ صرف آزادیوں کی محافظ ہے، اس لیے امیروں کو غریبوں کی طرف سے بغاوت کا خوف تھا، اس لیے انہوں نے یہ انجمنیں بنائیں۔

اسلام نے حکمران کے وجود کو امت کے معاملات کی دیکھ بھال کے لیے واجب قرار دیا ہے تاکہ وہ اس کے شرعی حقوق کی حفاظت کرے اور اس کی چھ بنیادی ضروریات کو پورا کرے جنہیں افراد اور گروہوں کے لیے پورا کرنا ضروری ہے؛ چنانچہ کھانا، لباس اور رہائش ریاست کو رعایا کے تمام افراد کے لیے فرداً فرداً فراہم کرنا چاہیے، خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم، اور سلامتی، علاج اور تعلیم ریاست تمام لوگوں کو مفت فراہم کرتی ہے، ایک شخص مسلمانوں کے خلیفہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس کے ساتھ اس کی بیوی اور چھ بیٹیاں تھیں، تو اس نے کہا: (اے عمر، یہ میری چھ بیٹیاں اور ان کی ماں ہیں، انہیں کھلاؤ، انہیں پہناؤ اور ان کے لیے زمانے سے ڈھال بنو)، عمر نے کہا: (اور اگر میں نہ کروں تو کیا ہوگا؟!)، اعرابی نے کہا: (میں چلا جاؤں گا)، عمر نے کہا: (اور اگر تم چلے جاؤ تو کیا ہوگا؟)، اس نے کہا: (قیامت کے دن ان کے حال کے بارے میں تم سے پوچھا جائے گا، اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر یا تو آگ میں یا جنت میں)، عمر نے کہا: (یہ امت اس وقت تک ضائع نہیں ہوگی جب تک اس میں ان جیسے لوگ موجود ہیں)۔

اے مسلمانو: یہ کوئی افسانہ نہیں ہے، بلکہ یہ اسلام ہے جس نے رعایا کے ہر فرد کے لیے دیکھ بھال کو مسلمانوں کے خلیفہ پر واجب قرار دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فَالْإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»، اس لیے ہم پر لازم ہے کہ ان احکام کو دوبارہ نافذ کریں اور انہیں عمل میں لائیں، اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ﴾ تو جو چیز ہمارے حال کو عدل اور خوشحالی میں بدلے گی وہ اسلام ہے۔

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا

صادق الصراری