حملة التخويف ضد الروهينجا تدمر التضامن الإسلامي (مترجم)
حملة التخويف ضد الروهينجا تدمر التضامن الإسلامي (مترجم)

الخبر:   حدثت موجة من رفض اللاجئين المسلمين الروهينجا في مناطق عدة في أتشيه. لقد جاء هذا الرفض نتيجة لتدفق اللاجئين الروهينجا إلى المقاطعة ابتداءً من منتصف تشرين الثاني/نوفمبر بسبب تفاقم الوضع الأمني في مخيم كوكس بازار للاجئين في بنغلادش. وقد أثار هذا الرفض جدلاً عاماً على وسائل التواصل الإلكتروني. فالمجتمع منقسم إلى قسمين؛ بين من يؤيد رفض وصول اللاجئين من ميانمار، وبين من يدعم استقبالهم. ...

0:00 0:00
Speed:
December 24, 2023

حملة التخويف ضد الروهينجا تدمر التضامن الإسلامي (مترجم)

حملة التخويف ضد الروهينجا تدمر التضامن الإسلامي

(مترجم)

الخبر:

حدثت موجة من رفض اللاجئين المسلمين الروهينجا في مناطق عدة في أتشيه. لقد جاء هذا الرفض نتيجة لتدفق اللاجئين الروهينجا إلى المقاطعة ابتداءً من منتصف تشرين الثاني/نوفمبر بسبب تفاقم الوضع الأمني في مخيم كوكس بازار للاجئين في بنغلادش. وقد أثار هذا الرفض جدلاً عاماً على وسائل التواصل الإلكتروني. فالمجتمع منقسم إلى قسمين؛ بين من يؤيد رفض وصول اللاجئين من ميانمار، وبين من يدعم استقبالهم.

موقف أهالي أتشيه ليس بدون أساس؛ حيث اشتكى مؤخراً سكان أتشيه من سلوك اللاجئين الروهينجا في المنطقة. وقد تم التبليغ عن رؤية العديد من الروهينجا يقومون برمي المساعدات الغذائية في البحر، وكذلك هروب بعضهم من مخيمات اللاجئين، أو عدم الامتثال للحكمة المحلية الموجودة.

ومع ذلك، بغض النظر عن الأحداث التي وقعت في الميدان، هناك تأثيرات سلبية وانتشار للمعلومات الخاطئة والشائعات وحتى خطابات الكراهية على عدة منصات تواصل فيما يتعلق بلاجئي الروهينجا في إندونيسيا، وتمتلك تأثيراً كبيراً. وفقاً لتقرير حصلت عليه سي إن إن إندونيسيا من مصدر في الأمم المتحدة، فإن رواية الكراهية بشأن اللاجئين الروهينجا بدأت في 21 تشرين الثاني/نوفمبر. وقد أظهر تحليل شبكة التواصل "درون إمبريت" أن المعلومات الخاطئة ورواية الكراهية ضد الروهينجا على وسائل التواصل تم نشرها عمداً عبر حسابات مشجعين أو منتديات غالباً ما تكون مجهولة الهوية وغير واضحة المرسل. ووفقاً لمؤسس "درون إمبريت"، إسماعيل فهمي، هذه الطريقة لها تأثير كبير في زيادة حجم الحوارات، ما يجعلها تجذب بسهولة الاهتمام الوطني.

التعليق:

الصراع الأفقي مثل هذا لم يحدث من قبل. في السنوات السابقة، كانت الأخبار التي نسمعها غالباً هي أن أهالي أتشيه، خاصة الصيادين، كانوا معروفين بصدقهم واستعدادهم لمساعدة الروهينجا المسلمين، حتى وإن كانت لديهم مرافق متواضعة. لذا يجب أن نعترف بأن الوضع هذا العام غريب إلى حد ما والمشاعر السلبية التي تظهر تبدو غريبة. وعلاوة على ذلك، حدث هذا في وسط تيار قوي من الرأي الداعم لفلسطين.

هناك تأكيد بأن هناك أطرافا تقوم بنشر المعلومات الخاطئة عن طريق حسابات مزيفة تنتمي لمفوضية الأمم المتحدة لشؤون اللاجئين، والعديد من الحسابات التي تفتقر لوضوح هويتها تنشر سرديات الكراهية ضد الروهينجا؛ ما يعزز الشكوك في وجود محاولة متعمدة لإضعاف تضامن المسلمين وتشتيت انتباه الأمة المتوحدة تجاه القضية الفلسطينية. من يستفيد من هذا الفوضى بين أهالي أتشيه والروهينجا؟ بالطبع، أولئك الذين لا يحبون تماسك ووحدة المسلمين، بما في ذلك أولئك الذين يكرهون دعم المسلمين الإندونيسيين لفلسطين.

فيما يتعلق بأزمة الروهينجا، يجب ألا يتحملها فقط شعب أتشيه، بل يجب أن يكون هناك دور للبلاد الإسلامية في منحهم حق اللجوء الكامل، أي حقوق الجنسية، وليس مجرد مساعدة مستهجنة من خلال وضعهم في مخيمات للاجئين من دون حقوق للتعليم والصحة والأمان. هذا هو جذر مشكلة الروهينجا، حيث لم تكن أي من البلاد الإسلامية؛ بنغلادش، وماليزيا، ولا إندونيسيا، على استعداد لمنحهم وضعية مواطنة واضحة، لمدة تقارب عقدين من الزمان. لذلك الآن نحن نتعامل مع جيل ثانٍ من الروهينجا الذين وُلِدوا في مخيمات للاجئين غير صالحة للسكن، بلا تعليم، ومعلمين، وبدون مستقبل لائق. إذاً، ما الذي يمكننا توقعه من أخلاقهم، ومستوى القراءة والسلوك؟

الفوضى الأخيرة المتعلقة بالروهينجا هذه المرة ترتبط بشكل كبير بالوضع الهش في كوكس بازار في بنغلادش، وهو أحد الأسباب المتصلة التي تجب معالجتها. وهذا يجب أن يكون واحداً من النقاط التي يجب النظر فيها، بدلاً من قبول الرواية الوحشية التي تزيد من الصراع الأفقي بين أهالي أتشيه الصادقين والروهينجا المسلمين.

في ضوء أوضاع كوكس بازار، يستغل المهرِّبون أيضاً هذا الوضع عبر تقديم خدمات سفر إلى إندونيسيا أو ماليزيا. صرَّح مدير مشروع أراكان، كريس ليوا، بأن العديد من اللاجئين يشعرون باليأس إزاء الوضع الأمني في هذه المخيمات الموجودة في منطقة الحدود بين بنغلادش وميانمار، والذي يزداد سوءاً. وقد جعل تزايد اتجاهات الجريمة في شكل عصابات تهريب البشر والمخدرات والصراعات بين العصابات، جعل حوالي 1.2 مليون شخص من الروهينجا الذين يعيشون في 34 مخيماً في كوكس بازار في وضعٍ يجعلهم عُرضة للتهديدات الأمنية الفردية والجماعية بشكل كبير. كما استغل المهرِّبون هذا الوضع لتقديم خدمات العبور إلى إندونيسيا أو ماليزيا، حيث قيل إن اللاجئين دفعوا مبلغ 1100 دولار (حوالي 17.1 مليون روبية إندونيسية) للشخص الواحد مقابل هذه الرحلة.

الحالة الضعيفة لهذه المخيمات اللاجئين هي بطاقة يمكن استخدامها من جانب بعض القوى السياسية لمصلحتهم الجيوسياسية من خلال تنفيذ حملات تخويف ضد الروهينجا المسلمين. خلصت دراسة أجرتها جامعة هارفارد بعنوان "الاستراتيجيات الجيوسياسية لمخيمات اللاجئين"، إلى أن "الدول النامية التي تستضيف اللاجئين إلى جانب الدول المتقدمة، إما تركز اللاجئين في مخيمات سيئة الأوضاع بالقرب من الحدود أو تنتشر بهم في أماكن متعددة في بلد الأصل، اعتماداً على اختلافات في مصالحهم الجيوسياسية. في معظم الحالات، استخدموا الظروف المعيشية الفقيرة المعروفة في هذه المخيمات المزدحمة البائسة لتحريض الحروب الأهلية (أو الصراعات الأفقية) في المنطقة لصالحهم.

نتيجة لذلك، من المهم أن يفهم المسلمون أولا جذور مشكلة الروهينجا والمآسي المختلفة التي حلت بالمسلمين في أنحاء أخرى من العالم.

علاوة على ذلك، يجب على المسلمين أن يكونوا أكثر حذراً في استهلاك الأخبار ونشرها، لأن الله تعالى يقول: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْماً بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ﴾.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. فيكا قمارة

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست