حملة لتحريض المسلمين ضد الظلم والعنف
حملة لتحريض المسلمين ضد الظلم والعنف

في 4 تموز/يوليو من هذا العام، تم صدور أحكام على 23 سجيناً سياسياً سابقاً في طشقند. فقد حكم على 15 منهم بالسجن من 7 إلى 14 سنة وقضاء العقوبة في معتقل نظامي خاص. وحُكم على الباقين بإقامة جبرية لمدة تصل إلى 5 سنوات. الأحكام الصادرة بحق هؤلاء الشباب الخمسة عشر هي كما يلي: محمودوف ديلمورود، وتولاغانوف ميرذاهد، وأخونجانوف أميد لمدة 7 سنوات، ورحماتوف أنور، وميرزاحمدوف أوتابك، وعلي محمودوف عزيز، ونظاموف مراد، وماموروف ديلمورود، إلى 12 سنة، وعبد الله ذبيح الله،

0:00 0:00
Speed:
July 11, 2024

حملة لتحريض المسلمين ضد الظلم والعنف

حملة لتحريض المسلمين ضد الظلم والعنف

الخبر:

في 4 تموز/يوليو من هذا العام، تم صدور أحكام على 23 سجيناً سياسياً سابقاً في طشقند. فقد حكم على 15 منهم بالسجن من 7 إلى 14 سنة وقضاء العقوبة في معتقل نظامي خاص. وحُكم على الباقين بإقامة جبرية لمدة تصل إلى 5 سنوات. الأحكام الصادرة بحق هؤلاء الشباب الخمسة عشر هي كما يلي: محمودوف ديلمورود، وتولاغانوف ميرذاهد، وأخونجانوف أميد لمدة 7 سنوات، ورحماتوف أنور، وميرزاحمدوف أوتابك، وعلي محمودوف عزيز، ونظاموف مراد، وماموروف ديلمورود، إلى 12 سنة، وعبد الله ذبيح الله، وحكماتوف فخر الدين، ويولداشيف أنورجون وميرضاأحمدوف مشرب وأشرابوف صدر الدين وشامسييف عالم، 13 عاماً وفاضلبيكوف دافرونبيك، 14 عاماً. بالإضافة إلى ذلك، كما تم القبض على 19 سجيناً سياسياً سابقاً من مناطق مختلفة من البلاد ونقلهم إلى العاصمة طشقند، وتجري حالياً التحقيقات معهم.

التعليق:

أولئك الذين تم الحكم عليهم بالسجن هذه السنوات الطويلة وكذلك الذين يستمر التحقيق معهم هم ضحايا الآلة القمعية لنظام الطاغية كريموف. إن كريموف المتعطش للدماء، والذي كان معروفا بعدائه الشديد للمسلمين، وأسياده الأمريكيين في ذلك الوقت، لم يعجبهم حمل هؤلاء الشباب الدعوة الإسلامية في بلادنا. ففي عام 1999، وبعد التفجيرات التي نظمها نظام كريموف في طشقند، تم اعتقال الآلاف من شباب وشابات حزب التحرير وحكم عليهم بالسجن لسنوات طويلة. ومنهم الشباب المذكورون أعلاه. فعلى سبيل المثال، سبق لفاضلبيكوف دافرونبيك، الذي حكم عليه أمس بالسجن لمدة 14 عاماً، أن أمضى 21 عاماً من حياته في السجون ذات الظروف القاسية. كما أمضى شامسييف عالم 19 عاماً، وحكماتوف فخر الدين 19 عاماً، وميرضاحمدوف أوتابك 20 عاماً، ومحمودوف ديلمورود 19 عاماً، ومأموروف ديلمورود 22 عاماً في سجون مختلفة ذات ظروف قاسية... وكانت قد أضيفت إليهم في السجن مدد جديدة عدة مرات على مر السنين...

وقد تعرض الآلاف من الشباب الذين تم اعتقالهم في عهد كريموف لتعذيب نفسي وجسدي لا يمكن تصوره أثناء التحقيق وفي معتقل العقوبة التنفيذية. ومن بين ذلك الضرب الجماعي، وإيلاج العصا في الدبر، وغرز الإبرة تحت الأظافر، وقطع رأس الحلمة بمقص الأظافر، وسكب الماء المغلي على الجسد، والربط بسرير حديدي دون التحرك لساعات... إن مثل هذا التعذيب الوحشي واللاإنساني لم يطبق على أشد المجرمين، ولا حتى على القتلة آنذاك، وهناك قضية أخرى كبيرة لا بد من الانتباه إليها وهي أن المسلمين المضطهدين كانوا يُحرمون باستمرار من العبادات كالصلاة والصيام. وكان الغرض من ذلك منع العمل الواجب لإعلاء كلمة الله، وإبعاد الشباب عن حزب التحرير واستنكاره، بل وإكراههم على خيانته. وكان عليهم بهذا أن يثبتوا أنهم اتبعوا "الطريق المستقيم" وخرجوا من تأثير "الأفكار الأجنبية"!

كما تجدر الإشارة إلى أن الأئمة المرتزقة الذين خدموا نظام كريموف لعبوا أيضاً دوراً خاصاً في هذه القضية. فقد أجرت المجموعات المكونة من هؤلاء الأئمة محادثات فردية مع أعضاء الحزب في سجون أوزبيكستان، وسولوا لهم العودة عن "الطريق الخاطئ"، وأعدوا تقارير مفصلة عن الذين لديهم الميل إلى العودة منهم ومن هو مستمر في "عناده"، وقدموها إلى الخدمات المختصة. وبعد مثل تلك التقارير، فإن عددا من الشباب الثابتين استشهدوا تحت التعذيب، وتم تسليم جثثهم وعليها آثار التعذيب، إلى ذويهم وأجبروا على دفنها على الفور، حتى يخفي نظام كريموف المجرم جرائمه. وبسبب القمع والعنف الذي يمارسه هذا النظام المجرم، انكسرت العديد من العائلات، وتم التشهير بالآلاف من المسلمين الأتقياء باعتبارهم خونة، وأعداء للشعب، ومتطرفين، وإرهابيين!

إن الغرض من التذكير الآن بمثل هذا القمع والعنف غير المسبوقين هو أن نظام ميرزياييف بدأ مؤخراً في اتباع السياسة نفسها. وليس هناك شك في أن السبب وراء قيام حكومة أوزبيكستان بمثل هذا العمل الدنيء هو إرضاء "أسيادهم الكبار"، الدول المستعمرة مثل روسيا وأمريكا. ولكن حزب التحرير سيبقى غصة في حلوقهم. ولذلك هم يطالبون الحكام العملاء في البلاد الإسلامية باستمرار محاربة الحزب، لأن الحزب يدعو الأمة الإسلامية إلى استئناف الحياة الإسلامية بإقامة دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة. ولا شك أن ظهور هذه الدولة المبدئية القوية سوف يضرب جذور النظام الدولي الحالي، وسيقطع شرايين الدول الكافرة المستعمرة المتشبثة بالأراضي الإسلامية المليئة بالثروات. وستقتلع كيان يهود من أرض فلسطين المباركة وتحرر المسجد الأقصى وغزة العزة.

ولذلك، لا يمكن السكوت على آلة القمع التي مارسها النظام السابق والتي تظهر من جديد في أوزبيكستان. هذا يكفي! في الواقع، يجب على شعبنا المسلم والأمة الإسلامية برمتها أن يقولوا: "كفى!!!" للقمع والعنف الذي نشهده اليوم. حان الوقت للإجابة! ارفعوا أصواتكم ضد كاسر الأُسر التي تتمزق مرة أخرى والأشخاص الأبرياء والأتقياء المحاصرين منذ سنوات بالتهم الملفقة!

لقد أطلق المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير حملة عالمية بعنوان: "وا أمتاه... صرخة يطلقها سجناء الرأي في أوزبيكستان!"، فانضموا أيها المسلمون إلى هذه الحملة العالمية! ادعموهم وابذلوا قصارى جهدكم لنصرة المظلومين!

ونذكّر مرة أخرى النظام الأوزبيكي وجميع أصحاب المناصب الرفيعة والصغيرة في الإدارة الدينية والجهاز القضائي والأجهزة الأمنية التابعة له في البلاد، نذكرهم بأن عواقب الأذى لهؤلاء المظلومين ستؤدي إلى الخزي والبؤس في الدارين! وكما قال نبينا محمد ﷺ: «الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» فكفوا عنه! وتدبروا قوله تعالى: ﴿وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُون﴾، ولا تنسوا أبدا أن الحق سينتصر ولو بعد حين، والطغيان والعنف سينتهيان بهزيمة مخزية! ﴿كَتَبَ اللهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللهَ قَوِيٌّ عَزِيز﴾.

#صرخة_من_أوزبيكستان

#PleaFromUzbekistan

#ЎЗБЕКИСТОНДАН_ФАРЁД

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إسلام أبو خليل – أوزبيكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست