حملة تطهير المجتمع الأوزبيكي من مجرمي "الشارع"
حملة تطهير المجتمع الأوزبيكي من مجرمي "الشارع"

الخبر:   بحسب موقع Kun.uz وقنوات رسمية أخرى؛ فإنه في نهاية تشرين الثاني/نوفمبر 2023، بدأت، على حد تعبير مسؤولين حكوميين "إجراءات وقائية سريعة لتحسين الوضع الإجرامي"، وانتشرت الأخبار تحت عناوين "في مدينة طشقند وفي مناطق فرغانة ونامنكان وأنديجان وخوارزم وسمرقند، تم اتخاذ إجراءات للقبض على المجرمين". كما تم ذكر أسماء عدد من الأفراد المعروفين في عالم الجريمة، وتم التأكيد على أن الاعتقالات تمت بهدف تقديمهم للمسؤولية الجنائية.

0:00 0:00
Speed:
December 12, 2023

حملة تطهير المجتمع الأوزبيكي من مجرمي "الشارع"

حملة تطهير المجتمع الأوزبيكي من مجرمي "الشارع"

الخبر:

بحسب موقع Kun.uz وقنوات رسمية أخرى؛ فإنه في نهاية تشرين الثاني/نوفمبر 2023، بدأت، على حد تعبير مسؤولين حكوميين "إجراءات وقائية سريعة لتحسين الوضع الإجرامي"، وانتشرت الأخبار تحت عناوين "في مدينة طشقند وفي مناطق فرغانة ونامنكان وأنديجان وخوارزم وسمرقند، تم اتخاذ إجراءات للقبض على المجرمين". كما تم ذكر أسماء عدد من الأفراد المعروفين في عالم الجريمة، وتم التأكيد على أن الاعتقالات تمت بهدف تقديمهم للمسؤولية الجنائية.

التعليق:

يمكن أن نقول إن الخبر الأكثر انتشارا هذا الأسبوع في بلدنا على الأصح كان إجراء عملية ملاحقة جماعية للأشخاص المشهورين في عالم الجريمة والمرتبطين بهم، حيث لم يوجد مصدر واحد - رسمي أو غير رسمي - لم يتطرق إلى هذا الموضوع. والمقالات تحت عناوين "عملية التطهير الكبرى في فرغانة"، "التطهير في نامانجان"... لم تغادر الصحف الرسمية منذ عشرة أيام تقريباً. وهنا يطرح سؤال طبيعي، ما هي العوامل التي دفعت الحكومة إلى القيام بهذه العملية وإثارة هذه الضجة؟ هل هي عوامل داخلية أم خارجية؟ وكذلك، ما هو الغرض من عملية التطهير هذه؟ بالتأكيد، لا بد أن تكون هناك عوامل دفعت الحكومة إلى القيام بها.

وإذا فكرنا في الوضع الدولي اليوم، وخاصة الحرب الجارية بين المسلمين والكفار، بين كتائب المقاومة في غزة وقوات الاحتلال الغاشمة في الأرض المباركة فلسطين وغزة العزة، والتدهور الاجتماعي والاقتصادي داخل بلدنا... يتبين لنا أن هناك عوامل داخلية وخارجية.

أما العامل الخارجي فهو أن الوضع في العالم اليوم أصبح أكثر إرهاقا من أي وقت مضى. وعلى وجه الخصوص، فإن المجازر الجماعية بحق المسلمين في غزة؛ الأطفال والنساء والمسنين الأبرياء، على أيدي الصهاينة الأنجاس، لا تترك أي مسلم في قلبه ذرة من الإيمان بغير غم وهمّ. وهذا ما جعل حكومات العملاء في بلاد المسلمين في حيرة شديدة.

إن استغاثات الأمهات المملوءة قلوبهن بالدماء في غزة، وصيحات الأطفال المرتجفين من الخوف، وصرخات الآباء الذين يركضون وفي أيديهم أجساد وأشلاء أولادهم الملونة بالدماء، تهز العالم كله. لكن هؤلاء الحكام العملاء الجاثمين على صدور المسلمين، بمن فيهم رئيس أوزبيكستان، وخاصة حكام دول منطقة الشرق الأوسط، بدلا من نصرة أهل غزة المظلومين والعاجزين، من خلال تعبئة الجيوش للقضاء على كيان يهود المتعطش لدماء الأبرياء، وتحرير الأقصى من رجس يهود، بدلا من ذلك فإنهم لا يتجاوزون الثرثرة الفارغة التي لا جدوى منها وطلبات تنفيذ مشروع "حل الدولتين"، الذي هو مشروع رأس الكفر أمريكا، وهو في الحقيقة اعتراف بكيان يهود الغاشم، وخيانة لدماء الآلاف من الأبرياء خاصة، وللأمة الإسلامية برمتها، لأنهم يعلمون يقيناً أنه إذا هُزم كيان يهود وتم القضاء عليه فإن عروشهم ستنهار فورا في اللحظة نفسها. ولذلك، فإن مهمة الحكام العملاء الآن ليست هي الوقوف لنصرة المضطهدين في غزة، بل الحفاظ على كيان يهود الجبان والمتعطش للدماء. ولهذا السبب قامت الحكومة الأوزبيكية بحظر ذكر أحداث غزة في مساجد بلادنا حتى لا يشعر شعبنا المسلم بشكل أعمق بالحاجة إلى توحيد الأمة الإسلامية في دولة واحدة؛ دولة الخلافة، ولمنع نمو الروح الجهادية بين الشباب.

أما بالنسبة للعامل الداخلي، فإن أمل الناس في أوزبيكستان في سلطات الدولة يختفي تدريجيا، ومؤخرا، أصبحت الرغبة عندهم في أخذ الحل بشكل رئيسي من الإسلام أكثر وضوحا، وفي بعض الحالات، بدأ الناس يتجهون إلى مجرمي "الشوارع" الذين هم منفذو "قوانين اللصوص" لأنهم لم يجدوا من يستمع لآلامهم. وبالطبع، هذه الأمور تجبر الدولة، التي تفقد مكانتها وسلطتها بشكل متزايد، على توخي الحذر. ولهذا بدأت الحكومة بتنفيذ هذه العمليات لإظهار سيطرتها وأنها لن تتسامح أبداً مع عالم الجريمة أياً كان. إلا أن الحكومة ليست لديها خطة للقضاء عليها بشكل كامل ولا تستطيع ذلك حتى لو أرادت. وفوق ذلك، فإن الذين يمسكون بالسلطة قد أصبحوا حلفاء لهؤلاء المجرمين وهم بالفعل أكبر فريق للصوص والمجرمين. إن ما يقف وراء الملاحقات القضائية الجماعية ضد عالم الجريمة، وحتى اعتقال بعضهم، هو بشكل رئيسي من أجل زرع الخوف في نفوس الناس، وإيقاع السلطات بعالم الجريمة في "إطارها" من خلال تحذيرها من "الخطوط الحمراء" المتعلقة بالدولة وإظهار أن لديها القدرة على تدمير مثل هؤلاء المخالفين غير الرسميين متى أرادت ذلك. وهنا من المناسب أن نقول إن الحكومة تكذب؛ لأن تطهير المجتمع من هذه العناصر الإجرامية هو في الواقع عمل نبيل، ولكنه يتطلب برنامجا مناسبا وأشخاصاً شرفاء يقودون ويطبقونه بالقدوة، وهذا البرنامج الصحيح موجود فقط في الإسلام.

وبناء على ذلك، يمكن القول إن المجرم الرئيسي هم هؤلاء الحكام العملاء الذين يطبقون النظام الغربي الغريب تماما عن الإسلام. ومهما اتخذوا من إجراءات للحفاظ على عروشهم الفاسدة، فإن كل ذلك لن يكون إلا حافزاً كبيراً لرغبة شعبنا المتزايدة، الذي بدأ ينهض يوماً بعد يوم ويسعى أكثر فأكثر نحو دينه، ويزداد شعوره بالحاجة الماسة لدولة الخلافة، التي ستطهر أراضينا بالكامل من أمثال هؤلاء الخبثاء؛ لأن الخلافة كما وصفها رسول الله ﷺ هي حامية أرواح الناس وأموالهم وأعراضهم؛ قال رسول الله ﷺ: «إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ».

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إسلام أبو خليل

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في أوزبيكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست