حقائق وأضواء على مقال أشهر مراسلي الجزيرة في صحيفة هآرتس
حقائق وأضواء على مقال أشهر مراسلي الجزيرة في صحيفة هآرتس

الخبر:   "ﻗﺘﻞ ﺣﺎﻣﻞ ﺍﻟﺮﺳﺎﻟﺔ"... ﺗﺤﺖ ﻫﺬﺍ ﺍﻟﻌﻨﻮﺍﻥ ﻧﺸﺮ ﻣﺪﻳﺮ ﻓﻀﺎﺋﺒﺔ ﺍﻟﺠﺰﻳﺮﺓ ﺍﻟﻘﻄﺮﻳﺔ ﻓﻲ ﺍﻟﻘﺪﺱ ﺍﻟﻤﺤﺘﻠﺔ ﻭﻟﻴﺪ ﺍﻟﻌﻤﺮﻱ، ﻣﻘﺎﻻ ﻓﻲ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﻫﺂﺭﺗﺲ ﺍﻟﻌﺒﺮﻳﺔ ﻭﺫﻟﻚ ﺩﻓﺎﻋﺎ ﻋﻦ ﺍﻟﻘﻨﺎﺓ ﻓﻲ ﻭﺟﻪ ﺘﻬﺪﻳﺪﺍﺕ كيان يهود ﺑﺈﻏﻼﻗﻬﺎ. (أحوال البلد "بتصرف طفيف")

0:00 0:00
Speed:
August 21, 2017

حقائق وأضواء على مقال أشهر مراسلي الجزيرة في صحيفة هآرتس

حقائق وأضواء على مقال أشهر مراسلي الجزيرة في صحيفة هآرتس

الخبر:

"ﻗﺘﻞ ﺣﺎﻣﻞ ﺍﻟﺮﺳﺎﻟﺔ"... ﺗﺤﺖ ﻫﺬﺍ ﺍﻟﻌﻨﻮﺍﻥ ﻧﺸﺮ ﻣﺪﻳﺮ فضائية ﺍﻟﺠﺰﻳﺮﺓ ﺍﻟﻘﻄﺮﻳﺔ ﻓﻲ ﺍﻟﻘﺪﺱ ﺍﻟﻤﺤﺘﻠﺔ ﻭﻟﻴﺪ ﺍﻟﻌﻤﺮﻱ، ﻣﻘﺎﻻ ﻓﻲ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﻫﺂﺭﺗﺲ ﺍﻟﻌﺒﺮﻳﺔ ﻭﺫﻟﻚ ﺩﻓﺎﻋﺎ ﻋﻦ ﺍﻟﻘﻨﺎﺓ ﻓﻲ ﻭﺟﻪ ﺘﻬﺪﻳﺪﺍﺕ كيان يهود ﺑﺈﻏﻼﻗﻬﺎ. (أحوال البلد "بتصرف طفيف")

التعليق:

إنّ الخبر أو المقال المثير للجدل الذي نشره كبير مراسلي الجزيرة وليد العمري في فلسطين يؤكد على الحقائق التالية.

أولا: الجزيرة قناة غير محايدة، وإن ما تدعيه من حيادية هو كذب، وما كان لوليد العمري أن يتبجح على صفحات إعلام كيان يهود بخدمة قناته لكيان يهود المسخ إلا لما لها من يد فضل على يهود في هذه الخدمة التي تصب في اختراق الشعوب العربية وتمرير سياسات التطبيع الرامية لتقبلهم شعبيا.

 ثانيا: سقوط القول بحيادية أي إعلام، وأنه من أكبر الكذب وأساس لتمرير الخداع الإعلامي والسياسات الخبيثة. وهذه الحقيقة تؤكد حاجة الأمة لإعلام ينحاز لها... وهذا يقتضي وجود دولة تمثلها في زمان خلا من هذه الدولة!

ثالثا: تأكيد على كون قناة الجزيرة عبارة عن بوق إعلامي لممولها ومطلقها... وهي دولة قطر التي ترتبط بعلاقات مشبوهة بكيان يهود، والتي تسدي خدمات علنية لأعداء الأمة من أمريكان وإنجليز... فأمريكا لها أكبر قاعدة عسكرية بالشرق الأوسط في قطر (قاعدة العديد)، والإنجليز صناع النظام القطري ورعاته، تُغدق عليهم الأموال الطائلة من قطر لتخفيف أعباء تبعات الأزمة الاقتصادية العالمية وخروجها (بريطانيا) من الاتحاد الأوروبي... وبالتالي في ظل هذه الحقيقة يصبح جليا أنها قناة تخدم أجندات أعداء الأمة... وكل من تغطى بها فهو إما مطية لأعداء الأمة أو عدو للأمة وإن تلحّى ونطق بآيات الله!

رابعا: قطر وكيان يهود وإن حصل هذا التوتر بينهما ظاهريا على قناة الجزيرة، إلا أن الحقيقة أن كل منظومة الدول القائمة في الشرق الأوسط هي عبارة عن دول رأسمالية تابعة للمستعمر الرأسمالي، وأي خلاف بينها هو انعكاس لخلاف بين الأسياد في الغرب، وهي خلافات في نطاق التنافس على المصالح والنفوذ ولا ترقى لأن تكون خلافات مبدئية على الوجود!!

خامسا: الخلاف مع قناة الجزيرة وقرار إغلاق مكاتبها في كيان يهود المسخ، قد يخدم القناة وأصحابها في هذه المرحلة التي اشتدت فيها الخلافات بين عملاء أمريكا (السعودية ومصر) وعملاء بريطانيا في الخليج والمنطقة!

سادسا: وزيادة في التفصيل، لا بد من التذكير بحزمة الأفكار والسياسات وحتى الجماعات التي أخذت قناة الجزيرة بتمريرها وتزيينها والترويج لها. فلا بد من التحذير منها وتنبيه من انطلت عليهم من وخامة ما جاءتنا به من مكر وظلم وبلاء...

وعليه نذكّر ببعض تجليات الجزيرة الخادمة لأعداء أمتنا، فمن برنامجها " الشريعة والحياة" الذي تصدر فتاوى إباحة الربا وتسويق الديمقراطية والتدرج والمشاركة في الحكم بأنظمة لا تحكم بالإسلام، ودعوة مسلمي العراق للمشاركة في الانتخابات والشرطة والجيش تحت حكم بريمر ومن قام مقامه، والترحّم على بابا الفاتيكان، ونزع الحجاب للفتيات المسلمات في أوروبا خوفا من خسارة المدارس! والجزيرة هي أيضا التي سوقت قبل هبّة الثورات في المنطقة للقذافي وبن علي وعلي عبد الله صالح وحتى بشار الأسد عن طريق مشايخها، وهي التي سوقت بل صنعت مشايخ ونجوم دعاة الدولة المدنية لتعيد إحياء العلمانية كفكرة بعد أن كفرت بها الشعوب ولكن بثوب إسلامي!! هذا غيض من فيض وقليل من كثير وقائمة المخازي تطول...

سابعا: نقول لقناة الجزيرة وصاحب المقال وكل من جعل من نفسه بوقا لأعداء أمته: إن لم تستح فاكتب ما شئت.

إن مراهنة تلك الفضائيات على محاولة تزييف الحقائق واستباحة عقول المتابعين تأخذ منحنى أكبر بمنهجية مدروسة لحرف الناس عن فهم وقائعهم الفهم السليم.

إن هذه المنهجية تتصادم مع سدّ منيع حصين من الوعي الذي يتنامى باضطراد بين المسلمين فيما يتعلق بقضاياهم العامة وبما يتعلق بعمالة الأنظمة التي تحاول وسائل الإعلام تلك الترويج لها وإخفاء عمالتها.

فالمعركة مستعرة بين الوعي وبين الاستغباء والكذب.

ولا بدّ أن يتم فضح تلك السياسات الإعلامية حتى يميز الله الخبيث من الطيب.

وختاما نختصر كل ما سبق بقوله سبحانه وتعالى: ﴿وَقَدْ مَكَرُوا مَكْرَهُمْ وَعِندَ اللَّهِ مَكْرُهُمْ وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ‏﴾.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رولا إبراهيم – بلاد الشام

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست