حقيقة الأزمة الاقتصادية في تركيا
حقيقة الأزمة الاقتصادية في تركيا

الخبر:   اعتبر الرئيس التركي التدهور المفاجئ لسعر صرف الليرة التركية أمام الدولار بالحرب الاقتصادية ضد بلاده، حيث فقدت الليرة نحو 40% من قيمتها منذ بداية العام الحالي، لتهوي إلى أدنى مستوى فوق سبع ليرات للدولار، وهدد أمريكا بقطع علاقات الشراكة الاستراتيجية معها على خلفية قضايا عدة، وبأن بلاده سترد بالتحول إلى أسواق جديدة.

0:00 0:00
Speed:
August 20, 2018

حقيقة الأزمة الاقتصادية في تركيا

حقيقة الأزمة الاقتصادية في تركيا

الخبر:

اعتبر الرئيس التركي التدهور المفاجئ لسعر صرف الليرة التركية أمام الدولار بالحرب الاقتصادية ضد بلاده، حيث فقدت الليرة نحو 40% من قيمتها منذ بداية العام الحالي، لتهوي إلى أدنى مستوى فوق سبع ليرات للدولار، وهدد أمريكا بقطع علاقات الشراكة الاستراتيجية معها على خلفية قضايا عدة، وبأن بلاده سترد بالتحول إلى أسواق جديدة.

التعليق:

أولاً: إن حقيقة الأزمة في تركيا هي أزمة النظام الرأسمالي الربوي، مثل أزمة فيض الإنتاج التي تفضي إلى الكساد والركود، وانهيار صناعات وشركات وبنوك، وأزمات جديدة نشأت عن التشكل الجديد للرأسمال، وتحوّل كتلة هائلة منه إلى النشاط المضارب، وبالتالي اختلال العلاقة بين الرأسمال المُنتج والمال البنكي لمصلحة الأخير، وهو الأمر الذي فرض نشوء أزمات جديدة أكثر تعقيداً من الأزمات الدورية التي كانت تمرّ بها الرأسمالية.

ومنذ أن طغت الرأسمالية وأحكمت سيطرتها على البشرية وعلى الأسواق العالمية والأمور تتراكم وتتفاقم يوماً بعد يوم إلى أن بلغت في تخمتها الذروة، لتتفجر لنا على صورة أزمة مالية عالمية ربما تجر بعد إفلاس وتضخم وركود وكساد إلى حرب عالمية قذرة، قد لا تبقي ولا تذر.

ما تواجهه الرأسمالية العالمية اليوم ما هو إلا محق إلهي لكل ما هو ربا؛ بل إنها الحرب الإلهية على كل من أكلها وأطعمها، ولكن أكثر الناس لا يعلمون.

من هنا يجيء تصدع الرأسمالية العالمية، وعليه تبنى حتمية انهيارها ولو بعد حين، قال تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ * فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ﴾.

بخلاف منهج الإسلام الذي يقوم على توزيع المال بين الناس، وتداوله وحركته بينهم، ولذلك جعل علّة توزيع الفيء - كأحد مصادر المال في الإسلام - على المستحقّين منع تركيز المال في أيدي الأغنياء فقط، بل يتداول بين الناس، لقوله تعالى: ﴿مَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾.

 يقول الدكتور شاخت الألماني والمدير السّابق لبنك الرّايخ الألماني "إنّه بعمليّة غير متناهية يتّضح أن جميع مال الأرض صائر إلى عددٍ قليل جداً من المرابين، ذلك لأنّ المرابي يربح دائماً في كل عمليّة، بينما المدين معرّض للرّبح والخسارة، ومن ثمّ فإنّ المال كلّه في النّهاية لا بدّ بالحساب الرّياضيّ أن يصير إلى الّذي يربح دائماً".

ثانياً: إن تدهور الليرة التركية نتيجة منطقية للسياسات الاقتصادية التركية، حيث سجل الميزان التجاري التركي عجزا  بحوالي 85 مليار دولار سنويا، كما ارتفع عجز ميزان الحساب الجاري (الحساب الجاري هو محصلة تجارة السلع والخدمات والتحويلات) من 3،8% من الناتج المحلي الإجمالي التركي الذي بلغ نحو 863،7 مليار دولار عام 2016، إلى نحو 5،5% من الناتج عام 2017، وسوف يبلغ نحو 5،4% من الناتج نهاية عام 2018، وتفاقمت الديون الخارجية حيث فاقت 400 مليار دولار، وانخفاض الليرة سيجعل من مهمة تسديدها وفوائدها مسألة في قمة الصعوبة في ظل تواصل تراجع قيمة الليرة التركية، ومنها نحو 102 مليار دولار ديون قصيرة الأجل التي خدمتها تشكل عبئاً ثقيلاً إضافة لضَعف الطلب الفعال في الداخل نتيجة سوء توزيع الدخل حيث تعد تركيا بين أسوأ دول العالم في هذا الصدد.

وتشير بيانات تقرير الثروات العالمي إلى أن أغنى 10% من السكان في تركيا يستحوذون على 77،7% من الثروة التركية، وهي تصنف ضمن أسوأ دول العالم في توزيع الدخل. وتشير بيانات البنك الدولي المأخوذة من بيانات رسمية تركية إلى أن نصيب أفقر 10% من سكان تركيا من الدخل بلغ 2،2% فقط، وبلغ نصيب أفقر 40% من الأتراك نحو 16،3% من الدخل.

وفي ظل التعويم الكامل لليرة التركية فإنها أصبحت تحت رحمة المضاربين، وفي ظل الظروف المالية والتي تشكل ضغطاً هائلًا عليها وتفتح باب المضاربات، وقد كان واضحاً أن كل عناصر انفجار الأزمة المالية في تركيا موجودة وأنها قادمة وكان أردوغان يدرك هذا بلا شك، فأقدم على تقديم الانتخابات التركية لمعرفته بما هو قادم وكان هذا هو السبب الحقيقي لتقديم الانتخابات.

ثالثا: إن انهيار الليرة التركية سيكون له آثار كبيرة على أوروبا نتيجة الارتباط الكبير وخاصة ألمانيا بالذات، وهذا مقصد تبعي في حرب ترامب التجارية ضد أوروبا، حيث قالت المستشارة الألمانية أنجيلا ميركل يوم الاثنين 2018/08/13م إن عدم استقرار الاقتصاد التركي لن يفيد أحدا، مبينة أنها ترغب في رؤية الاقتصاد التركي مزدهراً.

وأوضح الناطق باسم الحكومة الألمانية ستيفن سيبرت، أن استقرار الاقتصاد التركي يصب في صالح ألمانيا، وأن بلاده تتابع الوضع في تركيا عن قرب. واعتبر وزير الاقتصاد والطاقة الألماني بيتر ألتماير أن الرسوم التي فرضها الرئيس الأمريكي دونالد ترامب على الواردات التركية والصينية يمكنها أن تضر بالاقتصاد العالمي.

وأضاف ألتماير لصحيفة "بيلت أم زونتاغ" مساء الأحد 2018/08/12 أن تركيا بالنسبة لأوروبا تعني "الأمن والموثوقية"، فضلا عن مصالح أكثر من 7 آلاف شركة ألمانية تعمل في تركيا والبنوك الخمسة الأوروبية وحجم الدين الكبير على القطاع الخاص الذي سيجعل أوروبا تحت رحمة التقلبات في تركيا.

والحديث يطول في هذه المسألة وبيان حقيقة الأسباب الموضوعية بعيداً عن الخطب الرنانة والحماسية حيث يجب أن تكون قراءة الواقع كما هو لا كما نحب ونشتهي، وأنه لا خلاص لتركيا إلا بالإسلام نظاما  وكيانا دولة راشدة على منهاج النبوة، تقتعد المكانة الدولية بلا منازع في ظل انهيار المبدأ الرأسمالي وكياناته وأزماته لتركل دولة الإسلام بقايا الظلم والاستعباد والرذيلة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

حسن حمدان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست