حراك نسوي مأزوم يطالب باتفاقية سيداو لعلمنة النظام الاجتماعي
حراك نسوي مأزوم يطالب باتفاقية سيداو لعلمنة النظام الاجتماعي

الخبر: طالب بيان نسوي سبقته مظاهرة نسوية جابت شوارع الخرطوم طالبن بعدة مطالب في مضمونها هي كل ما تنص عليه اتفاقية سيداو، فقد طالب البيان بمشاركة النساء في كافة مستويات الحكم بالمناصفة على الأقل وتعديل قانون الانتخابات للسماح للنساء بالترشح بالإنابة عن مجتمعاتهن وليس فقط ضمن القوائم النسوية.

0:00 0:00
Speed:
April 16, 2021

حراك نسوي مأزوم يطالب باتفاقية سيداو لعلمنة النظام الاجتماعي

حراك نسوي مأزوم يطالب باتفاقية سيداو لعلمنة النظام الاجتماعي


الخبر:


طالب بيان نسوي سبقته مظاهرة نسوية جابت شوارع الخرطوم طالبن بعدة مطالب في مضمونها هي كل ما تنص عليه اتفاقية سيداو، فقد طالب البيان بمشاركة النساء في كافة مستويات الحكم بالمناصفة على الأقل وتعديل قانون الانتخابات للسماح للنساء بالترشح بالإنابة عن مجتمعاتهن وليس فقط ضمن القوائم النسوية. ودعا البيان لإلغاء كافة القوانين والسياسات التمييزية بما في ذلك القانون الجنائي وقانون العمل وسن تشريعات تجرم التمييز القائم على النوع بما في ذلك إلغاء سلطة ولاية الذكور ومساواة النساء أمام المحاكم والاعتراف بالشهادة الكاملة في القضايا الجنائية. وأكد البيان على ضرورة منح النساء الحق في استخراج الأوراق الثبوتية لأطفالهن وبالأخص منح الأمهات حق منح أسمائهن لأبنائهن في حالة الأب مجهول الهوية أو فشل إثبات النسب.


كما طلب منح النساء الحق في التبني وامتلاك الأراضي وامتهان كل الحرف وتغيير تعريف الزواج ومنح النساء الحق في الطلاق والمساواة في الميراث. وفي مجال التشريعات طالب البيان أيضا بتجريم زواج القاصرات والزواج القسري والعنف المنزلي والاغتصاب الزوجي وتجريم حرمان الفتيات من التعليم وحرية الحركة فضلا عن التوقيع على اتفاقية القضاء على كافة أشكال التمييز ضد المرأة (سيداو).

التعليق:


في خضمّ انشغال الشارع بالمعاناة اليومية والشلل الاقتصادي العام وفشل الحكومة في تحقيق أي تقدم يذكر هناك فريق سياسي يستغل هذه الظروف الصعبة فيكثف ضغوطه وتحركاته لإقرار اتفاقية سيداو بالكامل على أهل السودان. والضغوطات تتمثل في مثل هذا الحراك النسوي المأزوم الذي حضر له بليل كما تقول الأخبار حيث إن منظمته جمعت النساء بدعوى تعبئة كيس الصائم ثم أخرجتهن في هذه المظاهرة وهذا يثبت خبث ولعب وتلاعب العلمانية وهم يتشدقون بأنهم أصدق لهجة من غيرهم.


ولا شك في كون هذه التحركات المأجورة تصب في مصلحة الموافقة على اتفاقية سيداو وهي أحد شروط التفاهمات مع المؤسسات الاقتصادية العالمية والتي لم تفصح الحكومة لليوم عن تفاصيل هذه التفاهمات برغم شعارات الشفافية والحوكمة وغيرها من المصطلحات الرنانة.


اتفاقية سيداو التي تتعلق بشؤون الأسرة والحياة الاجتماعية تبدو للكثيرين بأنها اتفاقية جميلة، فالذي يعلن للناس في وسائل الإعلام والمؤتمرات وورش العمل هو كلمات جميلة وبراقة على غرار: تقدم، عدالة، مساواة، مشاركة، حق، رفع الظلم، رفع التمييز، لكن حقيقتها مختلفة.

فإن اتفاقية سيداو ما هي إلا رؤية علمانية تتصادم جملة وتفصيلا مع الشريعة الإسلامية، وهم يلجأون لإخفاء هذا التصادم تحت عبارات ومصطلحات براقة. ولكن ليس هذا هو جوهر وحقيقة سيداو التي تخفيها هذه الطبقات من الخداع اللفظي، ونطالب المؤيدين لسيداو بإعلان موقفهم مما يلي:


1- المادة (2) من الاتفاقية تجعل مرجعية المواثيق الدولية فوق مرجعية الإسلام في الأحوال الشخصية.


2- المادة (3) تدعو لرفض تفريق الشريعة بين دور الرجل والمرأة بالعدل وإعطاء كلٍ منهما حقه، والمطالبة بالمساواة المطلقة، والمطالبة برفض أحكام الشريعة في الزواج كإعطاء المرأة مهراً، وجعل الطلاق بيد الرجل، ووضع عدة للمرأة، وتقسيم الميراث.


3- المادة (6) تبين عدم معارضة عمل النساء في الدعارة لحساب أنفسهن! ولكن المشكلة عندهم أن يستغلهن أحد.


4- المادة (10) تحث السيداويين على نشر الثقافة الجنسية بين الأطفال - الطفل عندهم ما دون 18 سنة - بحجة حقهم في المعرفة. وهذا نشر للفساد والتحلل كما نشاهد من حال الأطفال في المجتمعات الغربية حتى إنه يتعذر اللقاء بشباب أطهار لم يتنجسوا بجريمة وفاحشة الزنا والشذوذ.


5- المادة (11) تستبطن احتقار دور الأم في تربية أولادها وتجعل العمل خارج المنزل هو التقدم والإنجاز.


6- المادة (12) تدعو للانحلال وشرعنة العلاقات الجنسية المحرمة من خلال التعهد بتقديم الخدمات الصحية للنساء دون اعتبار لكونها متزوجة أو غير متزوجة.


7- المادة (15) تدعو المرأة للتمرد على أسرتها وتدعوها للسفر والسكن حيثما شاءت بغضّ النظر عن موافقة وليّها من أب أو أخ أو زوج، وهذا يفتح الباب واسعاً للفساد والتحلل الأخلاقي على غرار ما يروج له في الأفلام الأجنبية والروايات الغربية حيث تسكن الفتاة مع من شاءت وتُسكن من شاءت.


8- المادة (16) وهي أم الخبائث في الاتفاقية، فهي تدعو لاعتماد الزواج المدني العلماني، فتسمح بزواج غير المسلم من المسلمة، وتمنع تعدد الزوجات، وتلغي عدة المرأة، وترفض قوامة الرجل على زوجته، وترفض موافقة الولي على زواج وليته، وتمنع الزواج تحت سن 18 سنة.


إن الاتفاقية تمنع الزواج تحت سن 18، وتعتبره عنفاً ضد المرأة، ولا تقبل بموافقة الفتاة على الزواج، لكنها تشرّع وتشجّع العلاقات الجنسية المحرمة كالزنا والشذوذ لمن هم تحت سن 18 من باب أنه من حق الفتاة أن تستمتع بجسدها الذي تمتلكه!! ولذلك تدعو الاتفاقية الدول إلى تقديم المعلومات الجنسية للأطفال في مناهج التعليم، وتدعو إلى تقديم الخدمات الصحية للفتيات غير المتزوجات من إجهاض أو رعاية للحمل والرضيع، ولذلك أصبح العالم يعرف ظواهر (الأمهات العازبات/ الأمهات المراهقات).


الخلاصة: الاتفاقية تريد أن يعيش الناس بطريقة منحلّة عن الدين والأخلاق على غرار مجتمع الغرب.


هذه هي حقيقة سيداو والتي يضغط السيداويون والسيداويات لفرضها مستعينين بقوى من الخارج، لكن لن يتحقق حلمهم فدولة الخلافة ستقلب الطاولة عليهم جميعا وتطبق النظام الاجتماعي في الإسلام بمجرد قيامها قريباً إن شاء الله. ﴿وَيَقُولُونَ مَتَى هُوَ قُلْ عَسَى أَنْ يَكُونَ قَرِيباً﴾.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
غادة عبد الجبار (أم أواب) – ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست