حرب التِّقان المستعرة
حرب التِّقان المستعرة

الخبر:   حذرت الصين كندا من "عواقب وخيمة" إذا لم تطلق على الفور سراح منغ وانزو المديرة المالية لشركة هواوي، واصفة احتجازها بأنه "واقعة مشينة"، كما استدعت بكين السفير الكندي على خلفية احتجاز وانزو بمدينة فانكوفر الكندية. وكانت الشرطة الكندية قد ألقت القبض على وانزو (46 عاما) المديرة المالية لهواوي وابنة مؤسسها مطلع كانون الأول/ديسمبر الجاري بناء على طلب واشنطن. وقالت مصادر مطلعة إن احتجازها جاء في إطار تحقيق أمريكي بشأن مزاعم بالتخطيط لاستخدام النظام المصرفي العالمي للالتفاف على العقوبات الأمريكية على إيران.

0:00 0:00
Speed:
December 12, 2018

حرب التِّقان المستعرة

حرب التِّقان المستعرة

الخبر:

حذرت الصين كندا من "عواقب وخيمة" إذا لم تطلق على الفور سراح منغ وانزو المديرة المالية لشركة هواوي، واصفة احتجازها بأنه "واقعة مشينة"، كما استدعت بكين السفير الكندي على خلفية احتجاز وانزو بمدينة فانكوفر الكندية.

وكانت الشرطة الكندية قد ألقت القبض على وانزو (46 عاما) المديرة المالية لهواوي وابنة مؤسسها مطلع كانون الأول/ديسمبر الجاري بناء على طلب واشنطن.

وقالت مصادر مطلعة إن احتجازها جاء في إطار تحقيق أمريكي بشأن مزاعم بالتخطيط لاستخدام النظام المصرفي العالمي للالتفاف على العقوبات الأمريكية على إيران.

التعليق:

كانت رويترز قد نقلت سابقا عن مصادر أن اليابان تخطط لحظر شراء الحكومة معدات من "هواوي تكنولوجيز" و"زد تي إي" الصينيتين في مواجهة تسرب المعلومات والهجمات الإلكترونية، وسط قلق صيني رسمي.

وكان مسؤولون أمنيون أمريكيون زاروا أوروبا مؤخرا قد حذروا نظراءهم البريطانيين والألمان من مخاطر استخدام تكنولوجيا الشركة الصينية في بناء شبكات الجيل الخامس لهذه الدول.

وقد حث الأمريكيون بريطانيا على تأمين شبكاتها، في حين يضغطون لمنع هواوي من الحصول على عروض إنشاء شبكات في أوروبا، وبريطانيا التي تسعى لاستقبال طلبات بناء شبكات الجيل الخامس من شركات عدة.

وقد حدث اعتقال وانزو بعد يومين على الاتفاق بين الرئيسين الصيني والأمريكي لتطبيق هدنة لمدة ٩٠ يوما تتوقف فيها العقوبات المتبادلة بشأن التجارة بين بلديهما والتفاوض وصولا إلى تسويات مرضية للطرفين.

ومع أن خبر الاعتقال ظهر وكأنه ذو طابع قانوني إلا أن الأمر يتعدى ذلك. فالعالم يتجه بسرعة نحو تقنيات الذكاء الاصطناعي وينافس الصينيون فيه بجدارة فائقة ما يهدد سيطرة أمريكا على سوق "المعلومات والبيانات الكبيرة" والتي هي عمدة الذكاء الاصطناعي.

وحجة التجسس واستغلال البيانات وانتهاك الخصوصية للأفراد التي تستخدمها أمريكا هي شغل شركاتها الشاغل (مثل فيس بوك وغوغل وميكروسوفت...) ولئن كانت الشركات الصينية تفعل ذلك فهي ليست الأولى.

يقول د. حسن أبو طالب في "الأهرام الدولية": "إن أي مراجعة تقنية بسيطة لما تحمله الهواتف الذكية الحديثة والمصنعة في خلال الأعوام الثلاثة الماضية وأيا كانت الشركة الصانعة أمريكية أو كورية أو صينية، سيجد أن تطبيقاتها الآن بما فيها التطبيقات الأساسية كالاتصال أو إرسال الرسائل أو الكاميرا لا تعمل إلا بعد الحصول على إذن من المستخدم بالولوج إلى كل بياناته المحملة على هذا الهاتف، ولا توجد سوى عبارات عامة وغامضة بشأن الحفاظ على سرية هذه البيانات، ولا يوجد أي توضيح عن الطريقة التي تستفيد بها الشركة من هذه البيانات ذات الطابع الشخصي. وحين يرفض المستخدم إعطاء الإذن يتوقف التطبيق عن العمل، وغالبا ما يوافق المستخدم على سرقة بياناته فقط لأنه يريد العمل بالتطبيق وتشغيل الهاتف الذي دفع فيه عدة آلاف من الجنيهات. فالجميع يتجسس والجميع ينتهك الخصوصية والجميع يجمع البيانات والمعلومات وأصحابها لا يدركون ما وراء ذلك".

ومثل هذه البيانات هي الأساس الذي يبنى عليها ما يعرف بالذكاء الاصطناعي، الذي يوصف بأنه: "سلوك وخصائص معينة تتسم بها البرامج الحاسوبية تجعلها تحاكي القدرات الذهنية البشرية وأنماط عملها. من أهم هذه الخاصيات القدرة على التعلم والاستنتاج ورد الفعل على أوضاع لم تبرمج في الآلة".

ويضاف إلى ذلك التطور الحادث فيما يسمى "إنترنت الأشياء" والتحكم بها والذي يحتاج بدوره لاتصال مع شبكة الإنترنت (وبالتالي إمكانية التجسس وجمع المعلومات المتواصلة) فالمسألة ليست التحكم بالمصباح الكهربائي في غرفة المعيشة وتتخطى السيارة ذاتية القيادة والطب لتصل إلى الاستعمالات العسكرية التدميرية.

فتلك الأجهزة والمعدات باتت لها استخدامات عسكرية من شأنها أن تؤثر على مفهوم القوة العسكرية وإدارة الحروب، وفي مجالات مدنية وسلمية لا حصر لها. ولهذا نجد واشنطن تحاول بوسائل شتى ابتزاز الصين وشركاتها كي تبقى الأخيرة تحت مظلتها بل تحت سيطرتها.

وعلى كل حال فإن جبهات هذه الحرب متعددة وخباياها كثيرة والمسألة تتعدى مجرد تجارة إلى ما هو أبعد بكثير وآثارها ستصيب كل الناس في ظل تغول الرأسمالية وجشع دولها.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

م. حسام الدين مصطفى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست