"حساب المواطن" محاولة لاستغفال أبناء بلاد الحرمين
"حساب المواطن" محاولة لاستغفال أبناء بلاد الحرمين

الخبر:   "حساب المواطن" يوضح الفرق بين الأهلية والاستحقاق وآلية الاعتراض والشكوى (وكالة الأنباء السعودية 2018/01/22)

0:00 0:00
Speed:
January 24, 2018

"حساب المواطن" محاولة لاستغفال أبناء بلاد الحرمين

"حساب المواطن" محاولة لاستغفال أبناء بلاد الحرمين

الخبر:

"حساب المواطن" يوضح الفرق بين الأهلية والاستحقاق وآلية الاعتراض والشكوى (وكالة الأنباء السعودية 2018/01/22)

التعليق:

كعادة الأنظمة الرأسمالية، فعندما تصدر قانونا جائرا لا يرعى شؤون العباد ولا يراعي مصالحهم وتبدأ معالم الغضب والضرر تظهر عليهم، تسارع هذه الأنظمة لإصدار قوانين ترقيعية في محاولة منها للالتفاف على ذلك ورتق الخلل، ولكن أنى ذلك والقوانين من وضع البشر؟! فالترقيع نفسه سيبقى دائما بحاجة إلى ترقيع ما لم يتم تغييره كاملا بنظام من رب البشر..

هذا عينه هو ما تفعله الحكومة السعودية، فبعد أن تبنت السياسة الرأسمالية المطلقة في الحكم والاقتصاد، بل الرأسمالية بأبشع صورها "رأسمالية ترامب الجشعة"، وبدأت نتيجة لذلك معالم الغضب والتململ تظهر بين أبناء البلاد، بدأت تحاول ترقيع ما سنّته من قوانين جائرة، ولكن الترقيعات تكون بحاجة لترقيعات أخرى كما أسلفنا.. ومن أمثلة ذلك (حساب المواطن)، فبعد أن بدأت الحكومة برفع الأسعار وفرض الضرائب بشكل أنهك أهلَ هذه البلاد المنهكين أصلا، حاولت استغفالهم بما أسمته (حساب المواطن)، وهو برنامج للتعويض النقدي عن هذا الارتفاع المتصاعد، ولكن ملامح الاستغفال سرعان ما بدأت تتكشف مع بداية تطبيق هذا البرنامج، فعدا عن التعقيدات التي وُضعت للحصول على هذا الدعم أو التعويض والتي تتجلى في الخبر المذكور، حيث هناك شروط أهلية وشروط استحقاق ولا بد من فهم الفرق بينهما وانطباقهما، كما أن هناك شروطا حتى للشكوى أو الاعتراض عدا عن التسجيل والطلب! عدا عن ذلك ولو اجتزت كل الشروط والمواصفات لاستحقاق الدعم بنجاح، فإن متوسط الدعم للأسر حسب الإعلان الرسمي 835 ريالا للأسرة (الاقتصادية 2017/12/21) أو 188.68 ريالا للمستفيد (صحيفة مكة 2017/12/21)، وهو مبلغ لا يذكر مقارنة بالارتفاع الحاد الحاصل على الأرض، بل لا يكاد يكفي لتعويض الفرق في سعر البنزين وحده والذي ارتفع أكثر من ثلاثة أضعاف خلال عامين، فالذي كان يملأ مركبته بحوالي 30 ريالا حتى نهاية عام 2015 أصبح بحاجة إلى حوالي 90 ريالا لملئها في الوقت الحالي أي بفارق 60 ريالا، أي أنه يحتاج إلى مبلغ الـ180 ريالا كلها إذا ملأها 3 مرات في الشهر الواحد، وسيدفع فوقها من جيبه إن احتاج أن يملأها مرة رابعة، وهذه حسبة سريعة لفرق البنزين وحده ومقارنته مع مبلغ تعويض (حساب المواطن)، فماذا عن تعويض التضاعف الهائل في تكاليف الماء والكهرباء ومستلزمات الحياة كلها بما فيها المستلزمات الأساسية، والتي يزعم (حساب المواطن) أن هدفه تعويضها؟! حيث جاء في تعريفه على صفحته الرسمية "يكون الدعم المقدم هو لتخفيف الآثار الاقتصادية على الأسر، الناتجة عن تعديل أسعار منتجات الطاقة والمياه، وتطبيق ضريبة القيمة المضافة على مجموعة الأغذية والمشروبات، وتطبيق المقابل المالي على الوافدين"، فأين هو هذا التخفيف في ظل هذه الأرقام! وعلاوة على ذلك فإن العديد من الأسر لم تتمكن من الحصول على هذا الدعم أصلا لعدم استيفائهم الشروط، ومن هذه الشروط أن لا تقيم خارج البلاد لأكثر من 90 يوما كما ذكر خبرنا هذا! كما أن الدعم لا يشمل من تزيد رواتبهم عن 20160 ريالا شهريا (العربية 2017/10/31)، هكذا بغض النظر عن عدد الأفراد الذين يعيلونهم!.. إضافةً إلى ذلك كله فإن الكثير من أبناء البلاد لم يسجلوا أصلا في البرنامج وذلك لعدم ثقتهم بالحكومة وظنا منهم أن هذا التسجيل ليس إلا وسيلة تجسسية لمعرفة مستوى مدخولاتهم، ومن يدري ربما يكون مقدمة لضريبة دخل مستقبلية...

إن الحديث عن تفاصيل هذا النظام (حساب المواطن) مقارنة بالارتفاع الهائل للأسعار وبما يتم فرضه من ضرائب ورسوم قد يحتاج إلى صفحات عديدة، ولكننا نكتفي بهذه الإشارة التي توضح مدى الجوْر الذي وصل له حال حكومة هذه البلاد، وتسلطها على جيوب الناس وسطوها على أموالهم، بدل أن تؤمن هي لهم احتياجاتهم، ولبيان الفجوة الهائلة بين الحكومة والشعب كغيرها من حكومات الدول العربية، مما يؤشر إلى أن زمن التلاحم المزعوم بين أبناء البلاد وحكومتهم قد ولى، بعد أن كشرت الحكومة عن أنيابها، وأصبح نهبها لأبناء البلاد وخروجها عن شرع الله علنيا صارخا دون اهتمام بمشاعر الناس أو ردود أفعالهم..

وبعد، فهذه هي السياسة التي تريدها الحكومة السعودية لبلاد الحرمين، وأما الإسلام فيريد دولة تؤمن هي الحاجات الأساسية وكل ما يمكنها تأمينه من حاجات كمالية لكافة رعاياها دون شروط ودون تمييز بين رعاياها، دولة تراعي توزيع الملكيات العامة كما أمر الله، دولة يضمن نظامها الذي شرعه الله عدم الحاجة لفرض ضرائب ولكنها لو اضطرت تحت وطأة أزمة اقتصادية مؤقتة لفرض الضرائب فستفرضها لمرة واحدة على أغنياء المسلمين فقط وعلى بعض الأمور التي أوجبها الله على المسلمين وليس على كل شيء ولا على كل فرد ولا بشكل دائم، دولة تمنع الغش والاحتكار والفساد والغبن الفاحش وغيرها مما يسهل على الناس حياتهم ويخفض عليهم الأسعار.. وما هذه إلا أمثلة بسيطة والقائمة تطول، ﴿لِمِثْلِ هَٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ﴾..

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد بن إبراهيم – بلاد الحرمين الشريفين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست