حسينة تثبت بأنها شريك فاعل في المؤامرة الغربية لمنع إقامة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة
حسينة تثبت بأنها شريك فاعل في المؤامرة الغربية لمنع إقامة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة

الخبر: شاركت رئيسة وزراء بنغلاديش (الشيخة حسينة) في "القمة العربية - (الإسلامية) - الأمريكية"، في مركز الملك عبد العزيز الدولي للمؤتمرات، في العاصمة السعودية (الرياض)، وذلك يوم الأحد 21 من أيار/مايو 2017م، بمشاركة أكثر من 50 من قادة البلدان الإسلامية مع الرئيس الأمريكي دونالد ترامب، وهذه "القمة" هي الأولى من نوعها في التاريخ، وهي لمناقشة سبل مكافحة "الإرهاب والتطرف"، وقد أُعلن أن الهدف الرئيسي منها هو إقامة شراكة جديدة لمواجهة تحديات "الإرهاب والتطرف" العالمي وترسيخ قيم التسامح والتعايش وتعزيز الجهود الرامية إلى ضمان السلام والاستقرار.

0:00 0:00
Speed:
May 27, 2017

حسينة تثبت بأنها شريك فاعل في المؤامرة الغربية لمنع إقامة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة

حسينة تثبت بأنها شريك فاعل في المؤامرة الغربية

لمنع إقامة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة

الخبر:

شاركت رئيسة وزراء بنغلاديش (الشيخة حسينة) في "القمة العربية - (الإسلامية) - الأمريكية"، في مركز الملك عبد العزيز الدولي للمؤتمرات، في العاصمة السعودية (الرياض)، وذلك يوم الأحد 21 من أيار/مايو 2017م، بمشاركة أكثر من 50 من قادة البلدان الإسلامية مع الرئيس الأمريكي دونالد ترامب، وهذه "القمة" هي الأولى من نوعها في التاريخ، وهي لمناقشة سبل مكافحة "الإرهاب والتطرف"، وقد أُعلن أن الهدف الرئيسي منها هو إقامة شراكة جديدة لمواجهة تحديات "الإرهاب والتطرف" العالمي وترسيخ قيم التسامح والتعايش وتعزيز الجهود الرامية إلى ضمان السلام والاستقرار.

التعليق:

إن تحالف البلدان الإسلامية ليس شيئًا جديدًا، فقد كانت هناك تحالفات بين هذه الدول الخائنة منذ تشكيلها تاريخيًا على يد بريطانيا وفرنسا، وورثت أمريكا الدور نفسه لتحقيق مصالحها الخاصة، ومثل هذه التحالفات لم تكن ناجحة أبدًا، ولم توجد حلًا شاملًا للمشاكل والقضايا التي يواجهها المسلمون.

السؤال المتبادر في ذهن المسلمين عمومًا هو: ما السبب الذي جعل السعودية وأمريكا تشكّلان مثل هذا التحالف بين البلدان الإسلامية؟ تعتبر أمريكا (الدولة العلمانية الرأسمالية الرائدة) الإسلامَ التهديد الوحيد لهيمنتها، وقد أعلنت الحرب على الإسلام تحت ذريعة "الحرب على الإرهاب"، وقد أشغلت العالم الإسلامي في الصراعات من خلال شنّ الحروب على العراق وأفغانستان وترك سوريا في حالة من الفوضى من خلال الحفاظ على نظام بشار الأسد وإبقائه رئيسًا لمكافحة النهوض الإيديولوجي الإسلامي؛ وأمريكا الآن تستنزف قدراتها المادية والعسكرية لمواصلة هذه الحروب التي لا تنتهي أبدًا، كما أن قيادتها الفكرية - أي مفاهيم الديمقراطية والحرية والمساواة - قد بان زيفها للمسلمين، وأفلست لأنها هي نفسها تعاني من هذه المفاهيم التي أدخلت البؤس على شعبها باسم تحرير الإنسان.

بعد أن شهد الرئيس الاستعماري ترامب الانهيار الشامل للسيادة الأمريكية، تبنّى في حملته الانتخابية شعار "أمريكا أولًا"، والتي تواجه التحديات التالية: إيجاد وسيلة فعّالة للحفاظ على الهيمنة العالمية غير المرغوب فيها والمناهضة لأمريكا، ووضع الموالين لها من الحكام في بلاد المسلمين في الخط الأمامي لمحاربة بزوغ فجر الإسلام كنظام حكم. وهكذا تهدف أمريكا الآن إلى أن تخوض جيوش المسلمين حربها نيابة عنها، وتتمثل استراتيجيتها في إشراك جيوش المسلمين في حرب ضد المسلمين لإبادة الحركات الإسلامية تحت ذريعة محاربة تنظيم "الدولة الإسلامية".

لقد اختارت أمريكا أكثر عملائها ولاء (حكام السعودية) لتنظيم هذا التحالف، لأن لدى المسلمين في جميع أنحاء العالم ارتباطاً روحياً بالأماكن المقدسة في مكة المكرمة والمدينة المنورة، ولكن بان للمسلمين قبح وجه السعودية، خصوصًا وأن المسلمين لم يروا السعودية وهي تحشد جيشها لتحرير المسجد الأقصى وكشمير المحتلة وإنقاذ المسلمين المضطهدين في ميانمار والعراق وأفغانستان وسوريا، ولم يعد المسلمون يعتبرون حكام السعودية خدمًا للحرمين الشريفين، فهم كباقي حكام المسلمين حماة للمصالح الأمريكية في الشرق الأوسط.

من خلال حضور هذه القمة الاستعمارية، أثبتت الشيخة حسينة أيضًا عدم ولائها لله سبحانه وتعالى وبراءتها من الكفر وأهله، وتكشّف غدرها وكراهيتها للإسلام والمسلمين مثل بقية الحكام المنافقين الآخرين في العالم الإسلامي، فهي تريد أن تشرك بنغلادش في الحرب الأمريكية على "الإرهاب" من خلال التعاون مع أسيادها الاستعماريين. ومن المثير للاهتمام أن حسينة نفسها تتعامل مع شعبها من خلال مشاعرهم وعواطفهم الإسلامية، فقد صرح وزير خارجية حكومة حسينة في وقت سابق في مؤتمر صحفي بأنه: "إذا دعت الضرورة، سترسل بنغلادش قواتها إلى السعودية لحماية الحرمين الشريفين فيها"، لكن أهل بنغلادش يعلمون أن هذا ليس إلا مجرد كلام أجوف، فهم لم يروا حسينة تحرك قواتها لإنقاذ الأطفال والنساء المضطهدين في البلاد المجاورة في ميانمار أو كشمير، بل وشهد العالم كله كيف كان نظامها الفاشي يعيد المسلمين الروهينجا إلى التعذيب والاضطهاد القاتل في ميانمار، وكيف عقدت صفقات التعاون العسكري مع النظام الفاشي الهندي، وكيف اضطهدت المسلمين العاملين المخلصين حتى لا يصلوا إلى السلطة.

قد لا يكون لدى حسينة أي اعتبار لما قاله النبي محمد r، ولكن المسلمين لن ينسوا أبدًا قوله rوهو يطوف بالكعبة المشرفة: «مَا أَطْيَبَكِ وَأَطْيَبَ رِيحَكِ، مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ حُرْمَةً مِنْكِ».

إن حسينة مثل باقي المنافقين من حكام المسلمين الذين أخطأوا في قراءة نبض هذه الأمة، فالمسلمون يتوقون للتوحد تحت راية "لا إله إلا الله محمد رسول الله" وتحت قيادة خليفة راشد، وبالتأكيد ليسوا مهتمين بالحلف الذي تقوده الولايات المتحدة الأمريكية التي قتلت الملايين من الرجال والنساء والأطفال الأبرياء في العالم الإسلامي. إنها الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة القائمة قريبًا بإذن الله التي ستحمي دماء المسلمين وأموالهم وأعراضهم، وسوف تعبئ جيوش المسلمين موحدة لتحرير فلسطين والمسجد الأقصى وإنقاذ المسلمين المضطهدين في جميع أنحاء العالم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد كمال

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية بنغلادش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست