حسينة وأتباعها لن ينتصروا على عباد الله المؤمنين
حسينة وأتباعها لن ينتصروا على عباد الله المؤمنين

في الثلاثين من آب/أغسطس 2015م، ألقت مباحث حكومة حسينة القبض على اثنتين من أعضاء حزب التحرير في بنغلادش، ثم عُرضتا على المحكمة لتمديد حبسهن الاحتياطي عشرة أيام إضافية. وكانتا قد تعرضتا أثناء وجودهما في الحبس الاحتياطي للتعذيب بقسوة لمدة يومين متتاليين.

0:00 0:00
Speed:
October 04, 2015

حسينة وأتباعها لن ينتصروا على عباد الله المؤمنين

خبر وتعليق

حسينة وأتباعها لن ينتصروا على عباد الله المؤمنين
والاعتقال المشين لشابات حزب التحرير لن يوقف أو يؤخر من إقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة في بنغلادش قريبًا إن شاء الله


الخبر:


في الثلاثين من آب/أغسطس 2015م، ألقت مباحث حكومة حسينة القبض على اثنتين من أعضاء حزب التحرير في بنغلادش، ثم عُرضتا على المحكمة لتمديد حبسهن الاحتياطي عشرة أيام إضافية. وكانتا قد تعرضتا أثناء وجودهما في الحبس الاحتياطي للتعذيب بقسوة لمدة يومين متتاليين. وحدث ذلك في سياق الحملة الدعائية الضخمة التي قام بها حزب التحرير للمؤتمر السياسي على الإنترنت الذي عُقد في الرابع من أيلول/سبتمبر في بنغلادش، تحت عنوان: "إقامة الخلافة على منهاج النبوة... والتحول الحتمي في السياسة والاقتصاد البنغالي."


التعليق:


إنّ اعتقال حكومة حسينة الفرعونية التعسفي للنساء الفاضلات من أعضاء حزب التحرير وتعذيبهن بوحشية لا يدل إلا على رجعيتها، بل يبدو واضحًا أن هذه الممارسات هي حيلة مدروسة جيدًا ومصممة وفقًا لتعليمات سادة حسينة الغربيين، من أجل إسكات الصوت المخلص لحزب التحرير، لكن هذه الاستراتيجية الشيطانية ستفشل مثل كل سابقاتها. وزيادة على الإيذاء الجسدي واللفظي للأخوات في الحبس الاحتياطي من قبل بعض أعداء الإسلام، الكارهين له، من البلطجية في الأجهزة القمعية، فقد تم في الآونة الأخيرة نشر بعض المقاطع من التعذيب لتخويف المعتقلين الآخرين من حزب التحرير من قبل أولئك المرضى النفسيين التابعين لحسينة، ظانين أن أفعالهم المخزية، من الاعتقال والتعذيب لأعضاء الحزب، رجالًا ونساءً، سيجبر الحزب على التوقف عن عقد المؤتمرات الفريدة من نوعها، لكن المؤتمر الذي عقده الحزب في الرابع من أيلول/ سبتمبر على الإنترنت كان الأول من نوعه في تاريخ بنغلادش، وتحدى مختلف أشكال القمع التي تمارسها الحكومة ضده. وكانت الحكومة قد شعرت بالتوتر قبل عقد المؤتمر، عندما قام الحزب بحملة اتصال بالجماهير، إلى جانب نشر الإعلانات وتعليق اليافطات الدعائية، ووضع إعلانات على مواقع الإنترنت، مما زاد من وعي الجمهور وإيجاد الرأي العام على نظام الخلافة الإسلامية الراشدة، بشكل أكبر مما كان عليه من قبل. ولما رأى النظام فشل استراتيجيات التخويف خاصته، ونجاح المؤتمر ووصوله إلى عدة آلاف من الجمهور، جن جنونه وفقد صوابه تمامًا، فقام على الفور بسبب الإحباط الذي مُني به باعتقال ثمانية أعضاء من حزب التحرير، ومنهم أب لأحد الأعضاء، الذي تم اعتقاله لأنه رفض التعاون مع بلطجية الشرطة، ولم يسلّم ابنه لهم.


وعلاوة على ذلك، فإنه من الواضح الآن أن حسينة قد حسمت أمرها في الالتزام بحرب الولايات المتحدة الأمريكية ضد الإسلام للحفاظ على عرشها، وما اعتقالها للنساء المسلمات المخلصات من حزب التحرير وتعذيبهن بناء على طلب من أمريكا إلا إحدى الخطوات اليائسة لإخماد نداء الحزب، بعد أن فشلت من الحد من نشاط شبابه. وسبحان الله! فهي إرادته سبحانه وتعالى أن يتم فضح الكفار وعملائهم من المنافقين، ففي الوقت الذي ترتكب فيه الطاغية حسينة انتهاكات جسيمة لحقوق الإنسان، ومنها اعتداؤها على النساء من حاملات الدعوة، يقوم سيدها باراك أوباما بمنحها "شرف" المشاركة في قمة معه في 28 من أيلول/ سبتمبر في مقر الأمم المتحدة، حيث وصفت القمة بأنها لوضع حد لجميع أشكال العنف ضد النساء والفتيات! وفي حين حولت البلد كله إلى دولة بوليسية باستخدام عنف الدولة على نطاق واسع ضد المعارضة، فإن حسينة قد طلبت المشاركة في رئاسة هذه القمة "رفيعة المستوى" التي تناولت مختلف القضايا التي تتراوح بين حقوق الإنسان والديمقراطية والحكم! وفي الواقع لا غرابة في ذلك، فهذا هو الوجه الحقيقي للديمقراطية، ولعملاء الولايات المتحدة الأمريكية في بلاد المسلمين. فمن جهة، ينهب الحكام الطغاة في بلادنا ثرواتنا، وتُراق دماء المسلمين بأيديهم، ومن جهة أخرى، يكافئهم سادتهم الصليبيون الغربيون لدورهم في هذه الحرب على الإسلام.


لقد أصبح حزب التحرير هو الحزب الوحيد الذي يعاني النظام في بنغلادش من نجاحه الواضح وصموده ضد طغيان الحكومة لضمان حصول الأمة على حقها. ومنذ مهزلة حظر الحزب في عام 2009م، والحزب يتغلب على العقبات والمؤامرات الواحدة تلو الأخرى بعون الله سبحانه وتعالى، وقد اكتسب ثقة الناس ومحبتهم. والحمد لله، فقد بدأ الناس بالفعل ينفضون عن الديمقراطية، واتضح لهم خبث المخططات الغربية للقضاء على الحركة المخلصة الداعية لعودة الخلافة على منهاج النبوة. وبعد أن فشلت في إبعاد حزب التحرير المبارك عن الأمة، خرجت حسينة بهذا المشروع الجديد (اعتقال النساء من الحزب وتعذيبهن) لسحق الحزب، ولكنها إرادة الله عز وجل أن العديد من الطغاة أمثال حسينة قد جاءوا وانتهوا، ولكن هذا الحزب السياسي، حزب التحرير، لا يزال قائمًا ثابتًا بين الأمة النبيلة بالرغم من كيد الكفار وعملائهم الأوفياء لهم.


﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ * الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ * لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
عماد الدين الأمين
عضو المكتب الإعلامي حزب التحرير في ولاية بنغلادش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست