حتى مع الأعاصير القياسية أمريكا ترفض مواجهة تغير المناخ (مترجم)
حتى مع الأعاصير القياسية أمريكا ترفض مواجهة تغير المناخ (مترجم)

الخبر:    تواجه أمريكا أعاصير قياسية الحجم تكثفت بسبب تغير المناخ. فوفقا لـ NPR: إعصار إيرما يقع في الموقع بين الإعصارين الثاني والأكثر قوة في المحيط الأطلسي. حيث يتبع هارفي، الذي ألقى تريليونات من غالونات المياه على جنوب تكساس. والآن، إعصار خوسيه يتراجع في خطوة وراء إيرما. ... العلماء يسارعون للإشارة إلى أن هارفي وإيرما كانتا عواصف كبيرة بسبب احتباس الغلاف الجوي والمحيطات الحراري والتي بدأت بالاحترار بشكل كبير قبل نحو 75 عاما. ولكن العواصف الآن هي عرضة للنمو أكثر. وذلك لأن المحيطات والغلاف الجوي، في المتوسط، أكثر دفئا الآن مما كانت عليه. والحرارة هي الوقود الذي يأخذ العواصف للتنوع وتشحنها.

0:00 0:00
Speed:
September 13, 2017

حتى مع الأعاصير القياسية أمريكا ترفض مواجهة تغير المناخ (مترجم)

حتى مع الأعاصير القياسية

أمريكا ترفض مواجهة تغير المناخ

(مترجم)

الخبر:

 تواجه أمريكا أعاصير قياسية الحجم تكثفت بسبب تغير المناخ. فوفقا لـ NPR:

إعصار إيرما يقع في الموقع بين الإعصارين الثاني والأكثر قوة في المحيط الأطلسي. حيث يتبع هارفي، الذي ألقى تريليونات من غالونات المياه على جنوب تكساس. والآن، إعصار خوسيه يتراجع في خطوة وراء إيرما.

... العلماء يسارعون للإشارة إلى أن هارفي وإيرما كانتا عواصف كبيرة بسبب احتباس الغلاف الجوي والمحيطات الحراري والتي بدأت بالاحترار بشكل كبير قبل نحو 75 عاما. ولكن العواصف الآن هي عرضة للنمو أكثر. وذلك لأن المحيطات والغلاف الجوي، في المتوسط، أكثر دفئا الآن مما كانت عليه. والحرارة هي الوقود الذي يأخذ العواصف للتنوع وتشحنها.

وفي الوقت نفسه، يرفض السياسيون، وخاصة في الحزب الجمهوري الحاكم، القبول يأن تغير المناخ سببه الإنسان، أو حتى القبول بأن هناك تغيراً للمناخ موجودا. وفي الوقت نفسه، وفقا لشبكة سي إن إن: قال مدير وكالة حماية البيئة سكوت برويت لشبكة سي إن إن في مقابلة حول إعصار إيرما يوم الخميس بأن الوقت للحديث عن تغير المناخ ليس الآن.

التعليق:

لا يقتصر الأمر على أن تغير المناخ يحدث بالفعل، كما يقر العلماء الغربيون، بل يجب أيضا القبول بأن النظام الاقتصادي الغربي الرأسمالي هو المسؤول الكامل عن تغير المناخ، من خلال التصنيع غير المنضبط الذي يغذي الاستغلال غير المستدام للموارد الطبيعية، وانبعاث مستويات لم يسبق لها مثيل من التلوث في الهواء والمياه والأرض، وتدمير كلٍّ من الصحة والبيئة.

وحتى قبل تغير المناخ، فقد ثبت أن النظام الاقتصادي الرأسمالي هو قوة مدمرة فريدة جلبت البؤس لمئات الملايين من خلال الاستغلال الاستعماري العالمي للعمالة والموارد؛ فإن الاستعمار الاقتصادي لا يزال قائما على الرغم من الجلاء الشكلي للإمبراطوريات الغربية. فالثروات الواسعة من هذا الاستغلال لا تعود إلا على النخبة الغربية؛ فإن الفقراء في الغرب يعملون لساعات طويلة، ولكنهم لا يزالون تحت عبء الديون الشخصية الثقيلة على الرغم من مستوى المعيشة الذي هو متدن للغاية بالمقارنة مع النخبة الغربية. فهي حياة مادية لزيف مضلل حيث كل شيء يبدو لطيفا في الظاهر ولكن مرارة طعمه مؤلمة.

الإسلام لا يعارض نظام السوق. وبالفعل، فقد ناقشت المنحة الإسلامية آثار العرض والطلب منذ أكثر من ألف عام، حيث يحظر الإسلام تدخّل الحكومة في التسعير، ويترك ذلك لتقدير السوق وحده. ومع ذلك، فإن خطأ الرأسمالية هو الخلط بين مبادئ السوق والحرية الاقتصادية، وهو ما يعارضه الإسلام تماما. يجب على الإنسان أن يعيش حياته ليس وفقا لمبدأ الحرية وإنما وفقا لمبدأ المسؤولية. يقول الله تعالى في سورة البقرة: ﴿وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلاَئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الأَرْضِ خَلِيفَةً﴾. فالخليفة مسؤول عما تُرك له، سواء أكان هذا المصطلح يستخدم لرئيس الدولة، أم لفرد رجلاً كان أو امرأة. كما يقول عز وجل: ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾.

فالإنسان ليس حرا يفعل ما يشاء في هذا العالم. فيجب على الإنسان أن يتحمل المسؤولية تجاه كل ما أعطي له، سواء في البيئة، أو فيما يتعلق بنفسه، فسوف يحاسب عن كل هذا.

وعلى النقيض من ذلك، فإن المفهوم الغربي للحرية يطلق العنان لجميع رغبات الإنسان دون تحفيز ضبط النفس. جشع الأقوياء، وواسعي الحيلة، والأذكياء أثبت أنه من الصعب جدا على النظم الغربية الاحتواء؛ بل إن هذه الأنظمة التي صنعها الإنسان تصبح مستعبَدة للنخبة، وقوانينها توضع وفقا لمصالح النخبة.

ومن بين الدول الغربية، تشعر أمريكا بالانزعاج بشكل خاص من مناقشة تغير المناخ، كما يمكن أن يُرى في رفض الرئيس الأمريكي دونالد ترامب لاتفاقية باريس للمناخ. والسبب في ذلك هو الاعتماد الشديد للنخبة الرأسمالية الأمريكية على الثروة النفطية، وخوفهم من أن مناقشة تغير المناخ تهدد ذلك. فالقوة الاقتصادية ليست مجرد نتيجة للإنتاجية المحلية؛ فهي ترتبط ارتباطا وثيقا بالسيطرة على الموارد الطبيعية. فانقطاع صناعة النفط يضرب أساس القوة الاقتصادية الأمريكية. وجاء الالتزام السابق باتفاقية باريس بشأن المناخ في حكم أوباما فقط بعد أن أعاد تشكيل المناقشات الجارية للدعوة إلى بذل جهود طوعية فقط، مع تقاسم عبء حل مشكلة تغير المناخ على نطاق أوسع بين بلدان العالم الأخرى. ومع ذلك، رُفض حتى هذا الاتفاق المخفَّف كثيرا من قبل ترامب.

لقد هيمنت الرأسمالية والغرب الليبرالي العلماني على العالم على مدى ما يقرب القرنين الأخيرين. ولذلك، نجحت هذه الأيديولوجية في نشر الفساد بكل شكل يمكن تخيله في كل ركن من أركان العالم، في حين إن دعايتهم تجعلك تعتقد بأن الإنسان لم يحقق أبدا مستوى التقدم القائم اليوم!

بإذن الله، فإن إقامة دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة أصبحت وشيكة، والتي بموجبها سوف يكون الإنسان مرة أخرى مندفعا للعمل مع ضبط النفس والمسؤولية تجاه نفسه، وبني الإنسان، وبيئته الطبيعية، موظِّفةً التقدم في التكنولوجيا لتحقيق الرخاء على نطاق واسع للجميع كما حدث في ظل دولة الخلافة في الماضي.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فائق نجاح

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست