هذا أوان رجال السياسة
هذا أوان رجال السياسة

الخبر:   سقط نظام بشار الأسد وبدأت مرحلة تكوين حكومة مؤقتة في ظل فراغ سياسي كبير وتصريحات مبهمة لقيادة الثوار بشأن شكل نظام الحكم القادم، ترافقها تصريحات أمريكية وغربية عن تربصهم الحثيث ومراقبتهم لأداء الحكام الجدد للنظر في مدى تنفيذهم لما يتوافق مع القيم الغربية المتعلقة بالحكم والسياسة.

0:00 0:00
Speed:
December 14, 2024

هذا أوان رجال السياسة

هذا أوان رجال السياسة

الخبر:

سقط نظام بشار الأسد وبدأت مرحلة تكوين حكومة مؤقتة في ظل فراغ سياسي كبير وتصريحات مبهمة لقيادة الثوار بشأن شكل نظام الحكم القادم، ترافقها تصريحات أمريكية وغربية عن تربصهم الحثيث ومراقبتهم لأداء الحكام الجدد للنظر في مدى تنفيذهم لما يتوافق مع القيم الغربية المتعلقة بالحكم والسياسة.

التعليق:

لقد تفاجأ الجميع من سرعة انهيار جيش النظام ومليشيات إيران أمام تدفق الثوار والمجاهدين الكبير من مناطق الشمال، فوجدت فصائل الثورة نفسها أمام واقع لم تستعد له بعد، وهو ما أسفر عن تخبط في الإجراءات والتصريحات وعن مواقف ارتجالية في الملفات السياسية والأمنية حتى الساعة، ما أثار موجة من الاستياء الشعبي في ملف ما عرف بـ(الطلقاء) على سبيل المثال، وأثار مخاوف حقيقية عند حملة الدعوة من تدخل تركي ومن ورائه أمريكا في صياغة نظام الحكم الجديد على الطراز الغربي والمقاييس الغربية، فتعود الثورة بخفي حنين لا سمح الله.

هذا الواقع دفع كثيرا من المخلصين من مختلف التوجهات الإسلامية في الداخل والخارج إلى حملات واسعة من النصائح والتحذيرات من ضياع دماء الشهداء الزكية في دهاليز المرحلية والتوازنات والتبريرات، واستبدال نظام ملتحٍ بنظام علماني سافر، فكانت الرسائل الإعلامية على مواقع التواصل الإلكتروني خاصة، متفاوتة في وتيرتها بين كلام ليّن ناصح أو تقريع حاد صارم، وبات الشارع السوري المصدوم من الواقع الجديد والمتخوف من المستقبل المجهول، والمهدد بشبح حرب داخلية محتملة، وعدو مسعور قريب هو جيش يهود الذي يستبيح سماءه متى شاء ويقضم من أرضه ما يشاء، بات على أعتاب حيرة كبيرة في المطلوب فعله، ما سيجره قريبا إلى عاصفة من الجدل والتنازع الداخلي حول المناهج والتصورات المطروحة لمقتضيات المرحلة القادمة.

ولأن الحاضنة الشعبية هي خزان الأمة وذخيرتها كان على حملة المشروع الإسلامي أن يكسبوا ثقتها وقيادتها الفكرية والسياسية بسرعة، ليكونوا محل ثقة تامة يحملون الناس إلى بر الأمان على بصيرة ووعي عام، وهذا لا يكون إلا إذا وثق الناس بأن الكتلة تتصف بصفات تصلح للقيادة وهي صفة الإخلاص الخالص، والوعي الكامل، والقوة والقدرة، فقد عانت الأمة من نماذج لا وعي لها رغم إخلاصها، فخدعها أعداؤها فضاعت وأضاعت، أو فئات لا قوة لها ولا قدرة عندها على الحكم والإدارة، فأتاها الكافر من كل صوب وهي ذاهلة، فأفشلها وأسقطها من أعين الناس، ولذلك أرى أن تكون أولويات حملة الدعوة في المرحلة الحالية هو التالي:

1- التركيز وبكل قوة على تقديم أنفسهم رجال سياسة عمليين، لا نظريين أكاديميين، أي أصحاب مشروع كامل جاهز للتطبيق بيد أصحاب كفاية متمكنين، ولا يكفي أن يكون الحديث عن وجود دستور ونظام اقتصادي ونحوه، بل يكون خطاب العوام والخواص بما يفهمونه ويستطيعون لمسه، بحيث تقدم الحلول للمشاكل الحالية السياسية والاقتصادية والأمنية وغيرها على صورة خطط واضحة المعالم جاهزة للتنفيذ ولو بالقوالب العامة، فتقدم هذه الخطط في كتاب مفتوح للناس وللحكام على حد سواء.

2- تجنب أن تظهر صورة حامل الدعوة أمام الناس على غير حقيقتها، أنه مجرد ناقد متشائم لا يعرف سوى إظهار العيوب ولا يرى أحدا صالحا غيره، فلا يكفي أن يكون حامل الدعوة صادقا في تحذيره وعلى حق فيما يقول، بل يجب أن يستعمل من الأساليب ما يفتح جهاز الاستقبال الذهني والنفسي عند الناس البسطاء منهم والمثقفين على حد سواء، فكل الناس يحسنون النقد وتوجيه الأصابع نحو الخطأ ولكن ليس كلهم يحسن القيام بالصواب، فلكي لا يختلط على الناس أمر الحريص الناصح من الحاقد الفتّان، على حملة الدعوة مراعاة حال المخاطبين ومشاعرهم وعواطفهم أثناء التحذير والنذير، فلا تكون الثمرة تنفير الناس من حامل الدعوة وتصديق الشبهات التي يثيرها خصومه حوله، فتنقلب الآية ويعود الكلام على صاحبه بعكس مقصده، فيحذره الناس هو وينصرفوا عنه.

3- أن يتنبهوا إلى أن كنوز الفكر الإسلامي عند الكتلة تكفي لمئات آلاف المواد الدعوية مما يحتاجه الناس اليوم، والتي يمكن اقتطاعها بمقاطع صغيرة مكتوبة أو مرئية فتكون سهلة الوصول والتناول بيد الناس ليتاح لهم مقارنة ما يجب أن يكون بما هو كائن، فلا يستطيع غالبية الناس العكوف على الكتب والمطولات، وحامل الدعوة يغشى الناس ولا ينتظر منهم البحث عنه أو عما يحوزه، وما لم نقدِّم ما عندنا هينا سائغا واضحا بين الناس فلن يفلح الحديث، وإن طال، عن وجود مشروع جاهز عظيم.. وقديما قيل في الأمثال: "لا تحدثني عن طول نخلتك، ولكن أطعمني بعضا من تمرها".

4- على حملة الدعوة أن لا يحمّلوا الناس فوق طاقتهم الفكرية ويأخذوا بأيدي الجماهير برفق مرحلة مرحلة ليكون الجميع على بصيرة، وعليه فلا بد من دراسة مستوى الوعي عند الناس على التفاصيل المطلوبة، والتنبه لاختلاف الأفهام ومعاني المصطلحات، فكم من موافق لك في المعنى مخالف لك بالمصطلح والعكس، وعليه فلا بد من عدم حرق المراحل والتركيز على الوعي العام الفكري بعد الرأي العام المشاعري، ولو اقتضى ذلك مزيدا من الوقت فالعبرة بالخواتيم.

5- وأخيرا يجب أن يتذكر العاملون أنهم لا يعملون على الأرض وحدهم، وأن هناك من الدول والجهات من يمكر بالثور الأبيض والأسود والأحمر، وأن الرأي دائما قبل شجاعة الشجعان، وأن المرحلة تحتاج إلى وعي حركي بجانب الوعي السياسي، فنتقدم بالدعوة مع الناس إلى الأمام سريعا إن أمكن، وبطيئا إن لم يمكن الإسراع، ولكن لا نتوقف ولا نرجع ولا نستعجل قطف الثمرة، فقطاف الثمر يكون حين نضوجه ليس غير، وهذا ما يدركه رجال السياسة، ويبرعون في تحقيقه ويستحقون به القيادة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الشيخ عدنان مزيان

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست