هذه الراية التي أزيلت من المسجد سوف ترفرف يوما من الأيام على المباني العامة
هذه الراية التي أزيلت من المسجد سوف ترفرف يوما من الأيام على المباني العامة

الخبر:   أزيلت راية الخلافة التي رفعها عامل على بناء مسجد كافاكليك الذي تقوم بإنشائه مديرية الشؤون الدينية في منطقة كوزلو في زونغولداك بقرار من الحاكم. وقال محافظ إسطنبول مصطفى توتولماز، الذي وصف رفع راية الخلافة بعبارة "إنه ليس عملاً ذكياً"، وقيل إنه قد فتح تحقيق في الحادث. وأشار الحاكم توتولماز في البيان الذي أدلى به إلى أنهم لن يقبلوا أبداً عدم احترام العلم التركي، وقال: "عندما سمعت عن ذلك لأول مرة، تدخلت. بدأت محافظة كوزلو لدينا تحقيقاً. لا يمكن قبول أي علم آخر غير علم جمهورية تركيا. العلم هو مقدس لدينا. ليس هناك من طريقة لقبول ذلك، فهو ليس عملاً ذكياً. والتحقيق جار".

0:00 0:00
Speed:
September 12, 2021

هذه الراية التي أزيلت من المسجد سوف ترفرف يوما من الأيام على المباني العامة

هذه الراية التي أزيلت من المسجد سوف ترفرف يوما من الأيام على المباني العامة

(مترجم)

الخبر:

أزيلت راية الخلافة التي رفعها عامل على بناء مسجد كافاكليك الذي تقوم بإنشائه مديرية الشؤون الدينية في منطقة كوزلو في زونغولداك بقرار من الحاكم. وقال محافظ إسطنبول مصطفى توتولماز، الذي وصف رفع راية الخلافة بعبارة "إنه ليس عملاً ذكياً"، وقيل إنه قد فتح تحقيق في الحادث. وأشار الحاكم توتولماز في البيان الذي أدلى به إلى أنهم لن يقبلوا أبداً عدم احترام العلم التركي، وقال: "عندما سمعت عن ذلك لأول مرة، تدخلت. بدأت محافظة كوزلو لدينا تحقيقاً. لا يمكن قبول أي علم آخر غير علم جمهورية تركيا. العلم هو مقدس لدينا. ليس هناك من طريقة لقبول ذلك، فهو ليس عملاً ذكياً. والتحقيق جار".

التعليق:

هذا الموقف تجاه راية التوحيد من حكومة حزب أردوغان ليس هو الأول. فمنذ حوالي عام، عندما فتح آيا صوفيا للعبادة ونوقشت قضية الخلافة على جدول الأعمال التركي بشأن آيا صوفيا، نشر ضابط شرطة يُدعى إسماعيل بلندر على حسابه على وسائل التواصل شيئا مع هاشتاغ #Caliphate. وحينها بدأت محافظة بورصة تحقيقا مع الضابط بعد أن اشتكى بعض العلمانيين وردوا على مشاركة ضابط الشرطة هذا. وعندما رد أعضاء حزب التحرير في ولاية تركيا على قرار الحاكم وأعلنوا القضية على الملأ سحب الحاكم البيان واضطر إلى إدلاء بيان ثان قال فيه إن سبب التحقيق مع ضابط الشرطة إسماعيل بلندر لم يكن بسب راية التوحيد، بل لأنه نشر هذا المنشور بعلامة (الخلافة) #Caliphate. ففي تلك الأيام التي فتح فيها آيا صوفيا واشتدت فيها مشاعر المسلمين، تراجعت حكومة بورصة بسبب ردود الفعل، لكن اليوم حاكم زنغولداك أظهر عدم التسامح مع راية التوحيد التي عرضت على بناء مسجد وليس على مبنى عام.

لا بد من تهنئة كل من إسماعيل بلندر، الذي شارك راية التوحيد وفكرة الخلافة، وأخينا الذي رفعه على بناء مسجد؛ لأن كليهما قد ساهم في إعلاء كلمة "لا إله إلا الله محمد رسول الله" فقدمت في جدول الأعمال. غفر الله لهم ذنوبهم بصدق أعمالهم وتمجيدهم لراية التوحيد. على الرغم من أن الحكام يقولون إنه ليس عملاً ذكياً بالإشارة إلى هذه الأعمال الصالحة التي تمجد راية التوحيد، فإن وضع راية التوحيد على بناء مسجد وربطه بالخلافة، هو فعل حسن ومن عمل الأذكياء.

ما الذي يشجع المحافظين والسلطات المحلية كثيرا على الإسلام وقيمه، وما الذي يغضبهم من راية التوحيد التي تمجد كلمة الله؟ إنها الأيديولوجية الرأسمالية العلمانية في تركيا. يفتتح حزب أردوغان آيا صوفيا كمسجد، والذي حولته الرأسمالية إلى متحف، لكن من جهة أخرى يضطهد المسلمون الذين يسعدون بأن آيا صوفيا عاد مسجداً بتعبيرهم عن مشاعرهم وتوقعاتهم، وربطه بالإسلام والخلافة وراية التوحيد. إن هدف الحكومة من هذا هو اضطهاد المسلمين الذين يحملون خلفية إسلامية.

يعرف حزب العدالة والتنمية وأردوغان جيداً ما تعنيه كلمة "لا إله إلا الله" على راية التوحيد. وعلى الرغم من أنهم يعرفون ذلك، إلا أنهم لا يحضرون المحافظين والسلطات المحلية، الذين لا يطيقون رفع كلمة الله في السماء، للحجز بسبب أعمالهم. ليس هذا فقط، ولكن خلال الاحتفالات بالذكرى السنوية للهجوم الكبير في 30 آب/أغسطس، اعتبروا الهجرة إلى الدولة الإسلامية في المدينة المنورة حيث ارتفعت راية التوحيد لأول مرة باعتبارها رمزا للدولة، مساوية للجمهورية التي قامت على أنقاض الخلافة. إنهم يفعلون ذلك تحت ضغط العلمانيين.

ويفعلون ذلك لحماية مقاعدهم في انتخابات 2023. إنهم لا يعرفون أنهم مهما ضغطوا، ومهما كانوا غير متسامحين، فإن التوحيد والخلافة في قلب هذا الشعب، ولن يكونوا قادرين على اقتلاع الإسلام والتوحيد من قلوبهم. وعلم التوحيد الذي أنزل من بناء المسجد سوف يرتفع بالتأكيد على الأبنية العامة في يوم من الأيام.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمود كار

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية تركيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست