حوارات وطنية أم إملاءات استعمارية؟!
حوارات وطنية أم إملاءات استعمارية؟!

الخبر: انعقدت في الخرطوم في العاشر من تشرين أول/ أكتوبر 2016م الجلسة الختامية للحوار الوطني السوداني، والتي قدمت فيها وثيقة تحتوي على 994 بنداً، تم التوافق عليها من الحكومة السودانية، وبعض الحركات المسلحة والأحزاب، وقد أكد رئيس الجمهورية التزامه الكامل بتنفيذ مخرجات الحوار الوطني، ووجه بتكوين آلية قومية جامعة لوضع دستور دائم للبلاد على هدي هذه الوثيقة، يحدد معالم البناء الدستوري، السياسي والاقتصادي والاجتماعي لمستقبل بلادنا، ويحقق الأمن والاستقرار للدولة السودانية.

0:00 0:00
Speed:
October 17, 2016

حوارات وطنية أم إملاءات استعمارية؟!

حوارات وطنية أم إملاءات استعمارية؟!

الخبر:

انعقدت في الخرطوم في العاشر من تشرين أول/ أكتوبر 2016م الجلسة الختامية للحوار الوطني السوداني، والتي قدمت فيها وثيقة تحتوي على 994 بنداً، تم التوافق عليها من الحكومة السودانية، وبعض الحركات المسلحة والأحزاب، وقد أكد رئيس الجمهورية التزامه الكامل بتنفيذ مخرجات الحوار الوطني، ووجه بتكوين آلية قومية جامعة لوضع دستور دائم للبلاد على هدي هذه الوثيقة، يحدد معالم البناء الدستوري، السياسي والاقتصادي والاجتماعي لمستقبل بلادنا، ويحقق الأمن والاستقرار للدولة السودانية.

التعليق:

لقد صرنا نسمع كثيراً عن لفظة الحوار الوطني، فهناك حوار وطني في تونس، وآخر في اليمن، وفي ليبيا والآن في السودان. فهل هذه الحوارات حقاً حوارات وطنية تهدف الوصول لحل مشاكل البلاد؟ وحتى نصل إلى الحقيقة نريد أن نتتبع الحوار الذي جرى في السودان منذ نشأته، وتطوراته، وبلوغه مداه، ثم اختتم في 2016/10/10م في مهرجان كبير بالساحة الخضراء بالخرطوم. إن أول ما صدر عن الحوار في السودان كان من المعهد الأمريكي للسلام، في ما سمي بالورقة الأمريكية التي أسست للحوار المقترح في السودان، والتي أعدها برينستون ليمان، وجون تيمن، وذلك بتاريخ 2013/08/13م، ابتدرت بنقاط نذكر منها: (لقد حان الوقت لأن يشرع السودان في حوار داخلي حقيقي، وعملية إصلاحية تؤدي إلى حكومة ممثلة لقاعدة واسعة، وديمقراطية قادرة على السعي نحو عملية مصالحة مجدية بين السودانيين)، و(يحتاج السودان بصورة ملحة للشروع في إجراء حوار وطني، وعملية إصلاح يديرها الشعب السوداني بنفسه ويدعمها المجتمع الدولي)، و(ينبغي أن تكون العملية واسعة لأقصى حد، وأن تشمل عناصر النظام الحالي، والإسلاميين، وجماعات المعارضة المسلحة وغير المسلحة)، و(ستستغرق أية عملية جادة وقتًا طويلاً، وقد تتطلب أعواما لتكتمل)، و(يلعب فريق التنفيذ رفيع المستوى التابع للاتحاد الإفريقي، دورًا مهما للغاية للترويج لهذه العملية وتوجيهها)...

هذا وقد صرح (ليمان) عندما كان مبعوثاً للسودان في مقابلة مع صحيفة الشرق الأوسط في 2011/11/03م قائلاً: (بصراحة لا نريد إسقاط النظام، ولا تغيير النظام، نريد إصلاح النظام بإجراءات دستورية ديمقراطية)، وتمشياً مع معزوفة الحوار الوطني، جاء الرئيس الأمريكي الأسبق جيمي كارتر إلى السودان في 2014/01/21م، وقال في تقريره: (التقينا مع الرئيس البشير وكبار مستشاريه، وناقشنا آفاق حوار وطني شامل، وانتخابات 2015 وصياغة دستور جديد...)، وبعد ستة أيام فقط مع لقاء كارتر، في 2014/01/27م دعا البشير كافة القوى السياسية وحاملي السلاح إلى حوار وطني.

وفي 2015/08/25م قام المبعوث الأمريكي الحالي للسودان وجنوب السودان دونالد بوث، وبعد اجتماعات اتسمت بالسرية التامة، قام بإصدار بيان يحث على (ضرورة إجراء حوار سياسي وطني لمعالجة الأسباب الجذرية للصراعات الداخلية المستمرة في السودان، بالإضافة لتحقيق ترتيبات لحكم أكثر شمولاً). إن أمريكا لم تطلب حواراً فقط، بل رسمت له المسيرة، وتتبعت هذه المسيرة، وسعت حثيثاً لإزالة كافة العقبات التي يمكن أن تعرقل مسيرة الحوار، ففي 2016/06/29 قال المبعوث الأمريكي: (إن بلاده تسعى لإقناع أطراف المعارضة بالتوقيع على خارطة الطريق حتى تلحق بالحوار الوطني)، وفعلاً قام بحركات مكوكية، فطار إلى جوهانسبيرج للقاء أمبيكي، الأمر الذي دعا أمبيكي لإرسال كبير موظفيه إلى باريس لاجتماع (نداء السودان) هناك، وقد التقى الموظف بأطراف المعارضة، وفي يده عصا غليظةٌ من مجلس الأمن الدولي، حيث القرار 1706، الذي يخول استخدام القوة لنزع السلاح في دارفور، وقد أسفرت تحركاته عن توقيع كافة الأطراف على خارطة طريق، الأمر الذي أدى إلى انطلاق الجولة الثانية عشرة للمفاوضات بين الحكومة والحركات المسلحة، حيث ظل المبعوث الأمريكي، مرابطاً بزهرة الربيع إلى أن فشلت المفاوضات، وبعدها انطلق وجلس مع جميع الأطراف المتفاوضة.

وها نحن نسمع في الجلسة الختامية عن التوصيات التي تجسد بشكل صريح، مطالب المبعوثين الأمريكيين؛ من إنشاء دستور جديد، وإطلاق الحريات، والديمقراطية، والحكومة الموسعة، وغيرها من التوصيات.

فهل بعد كل هذا يمكن أن نقول إن هذا الحوار هو حوار وطني؟! وهناك سؤال يلح على طرح نفسه، ماذا تريد أمريكا من هذا الحوار الوطني في السودان؟ والإجابة وبشكل مقتضب، إن أمريكا تريد حكماً علمانياً، لا رائحة للإسلام فيه، وتتوسل إلى ذلك بالديمقراطية، لذلك فقد خلت الاحتفالات من المظاهر والشعارات الإسلامية، التي طالما ظللنا نسمعها لربع قرن من الزمان. وأما مطلب أمريكا الثاني فهو حكم لا مركزي (فدرالي) بصلاحيات واسعة تؤسس لإمكانية تفتيت البلاد بيد أبنائه. هذا كيدهم ونحن نقول، بإذن الله، ثم بجهد المخلصين من أبناء الأمة سيخيب فألهم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

المهندس/ حسب الله النور سليمان – الخرطوم

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست